عزائم

٭ مسلمانوں کے خلاف ظلم وستم کی آندھیوں پر قدغن لگانا۔
٭ مسلمانوں کے حقوق پر غاصبانہ قبضے کو طشت از بام کرنا ۔
٭ مسلمانوں پر تشدد کے خلاف مورچہ بندی کرنا۔
٭ مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں سے لوگوں کو روشناس کرانا۔
٭ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کی تمام تر کوششوں کو بے نقاب کرنا۔
٭ اسلامی تحریکات پر بندش کی مذموم سعی کا پردہ چاک کرنا۔
٭ مذہبی پابندیوں کے خلاف آواز اٹھانا۔
٭ واقعات کی تہ تک پہنچ کر اسلام کی سلامتی وامن پسندی کے پیغام کو اجاگر کرنا۔
٭ مسلمانوں کو نت نئے فتنوں اور چیلنجز سے آگاہ کرنا اور ان سے نبر آزما ہونے کی شکلیں پیش کرنا۔
٭ اسلام دشمن طاقتوں کا حقیقی چہرہ سامنے لاکر ان کا تجزیہ اور آپریشن کرنا۔
٭ صحافت کے میدان میں عقیدت و محبت کے حدود کی رعایت کے ساتھ سچائی کا پرچم بلند رکھنا ۔
٭ حرص وآز ، دولت وثروت اور معمولی فاسد اغراض کی خاطر دیانت وامانت کا دامن داغ دار ہونے سے مکمل گریزاں رہنے کی سعی پیہم کرنا۔
٭ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی بھرپور کوشش کرنا۔
٭ ملت کی سربلندی ، اسلام کی ترقی ، حق گوئی وبے باکی ، اور عالم اسلام کی سچی وبے لاگ ترجمانی کو حرزجان بنائے رکھنا۔
٭ قوم وملت کے مفاد ، افراط وتفریط سے گریز، ملت کے دکھ درد میں شرکت اور حالات حاضرہ میںملت کی سنجیدہ وٹھوس رہنمائی کو اپنا شیوہ بنانا۔
٭ عصری اسلوب، صحافت اسلامی کا معیاری انداز، اچھوتا پیرایہ بیان اور سلاست وسہولت کو حتی الامکان ملحوظ رکھتے ہوئے ترقی کی شاہ راہ پر گامزن رہنا۔
٭ ظلم کی آندھیوں کے خلاف اور انصاف کی وادی میں اس نہج سے قدم بڑھانا کہ فضول کسی کی دل شکنی نہ ہو، بقول شاعر:
مری زبان وقلم سے کسی کا دل نہ دکھے
کسی کو شکوہ نہ ہو زیر آسماں مجھ سے
معزز قارئین ! ملت ٹائمز کی کوئی چیز آپ کو پسند آجاتی ہے اور ملت کے مفاد میں اس سے کوئی کام ہوجاتا ہے تو یہ اللہ تبارک وتعالی کا فیض کرم ہے۔ ہاں اگر کہیں کوتاہی رہ جاتی ہے ، کسی غلطی کا ارتکاب ہو جاتا ہے یا خبروں کے انتخاب میں کسی طرح کی کمی رہ جاتی ہے ، اس کے لیے براہ راست یہ ناچیز ذمہ دار ہے۔
شمس تبریز قاسمی