عدلیہ سے ٹرمپ انتظامیہ کو ایک اور شدید جھٹکا،6مسلم کے شہریوں پر پابندی کا دعوی کالعدم قرار

واشنگٹن(ملت ٹائمز)

امریکہ کی سپریم کورٹ نے ٹرمپ  انتظامیہ کی طرف سے “6 مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک کے شہریوں ” پر امریکہ کی سیاحت ممنوع قرار دئیے جانے سے متعلق دعوے کو موضوع  میں تازہ  رد و بدل کی وجہ سے  رد کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے دعوی سے متعلق جاری کردہ تحریری بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے سیاحت کی پابندی سے متعلق  24 ستمبر کو  کئے گئے نئے رد و بدل  کی وجہ سے اس سے قبل کی سیاحت کی پابندی اور اس سے متعلقہ قانونی مرحلے کو کالعدم کر دیا  گیاہے۔

بیان کے مطابق نئے رد و بدل سے سابقہ پابندی   غیر اہم ہو گئی  ہے اور اس صورتحال میں امریکہ کی چوتھی کورٹ آف اپیل اور 9 ویں کورٹ آف اپیل کی طرف سے سیاحت کی پابندی کے فیصلے کو منجمد کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم ہو گیا ہے۔

دوسری طرف  سپریم کورٹ نے مزید کہا ہے کہ عدالت کے  مذکورہ فیصلے کے بعد پہلے کی سیاحتی پابندی کے جگہ 24 ستمبر کو  نافذ کی جانے والی سیاحتی پابندی  کے سامنے تاحال کوئی قانونی رکاوٹ  نہیں ہے۔

حالیہ رد و بدل کے بارے میں تا حال وفاقی یا ریاستی سطح پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا اور اس دوران امریکی مسلمان اور فہرست میں بعد ازاں شامل کئے گئے  ممالک کے شہری اس صورتحال کے خلاف ردعمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے ایران، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن، چاڈ، شمالی کوریا اور وینزویلا کے شہریوں کے لئے سخت سکیورٹی کنٹرول اور اس سے منسلک سیاحتی پابندی پر مبنی فیصلے پر دستخط کر دئیے  ہیں۔

فیصلے کے بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ 24 ستمبر کو منظور کیا جانے والا مذکورہ فیصلہ سابقہ فیصلے کی جگہ 18 اکتوبر کو نافذ العمل ہو گا ۔

فیصلے میں شمالی کوریا، وینزویلا اور چاڈ کو شامل کیا گیا ہے سوڈان کو خارج کر دیا گیا ہے۔

 

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published.