میں نے جو کیا وہ کوئی بہادری نہیں، صحافت ہے: روہنی سنگھ

مترجم :شاہنواز

جے امت شاہ کی کمپنی سے جڑی رپورٹس لکھنے والی صحافی روہنی سنگھ کہتی ہیں، جب رابٹ وارڈرا والی خبر کی تھی تب وہی بی جے پی نیتاؤں نے تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ نے بہت بہادری کا کام کیا ہے، میں نے اپنا کام کیا ہے ، کوئی بہادری نہیں، یہی صحافت ہے، یہی تو صحافیوں کا کام ہے کہ موجودہ حکومت کے کاموں پر سوال کریں، یہی صحافیوں کے اہم کام ہیں، جو ہمیں سکھائے جاتے ہیں، مجھے یا ’دی وائر‘ یا کسی کو بھی ایسا نہیں لگتا ہے کہ ہم کوئی بہادری کا کام کر رہے ہیں ہم بس ایک رپورٹس پر کام کر رہے تھے، جسے صحافت کہتے ہیں، میں نے اس رپورٹ پر بہت محنت کی ہے، رجسٹرار آف کمپنی (آر او سی) سے دستاویزو کو ڈاؤن لوڈ کر کے ادھین کیا ہے، ہاں یہ نہیں بتا سکتی کہ خبر کا ماخد کیا ہےاور خبر کہاں سے ملی،لیکن آر او سی سے دستاویز وں کو نکال کر انہیں پڑھنا سمجھنا اور مطالعہ کرنا وہ سب میں نے رپورٹر وں کے مدد سے پورا کیا ہے،
یہ کہانی صرف اس لئے اہم ہے کیونکہ ہم ایک اہم آدمی کے بارے میں بات کر رہے ہیں ہم نے کوئی الزام نہیں لگایا ہے ، یہ سارے دستاویز آر او سی کے ہیں، ہم نے صرف حقیقت کو سامنے رکھا ہے ، جس دور میں ہم سانس لے رہے ہیںاور دیکھ رہے ہیں کہ صحافت کس طر ح سے ہو رہی ہے اس دور کے لئے یہ ایک اہم خبر ہے۔
موجودہ سرکار سے سوال کرنا ضروری ہوتا ہے، پر ہم نے نہیں سوچا تھا کہ اتنا بڑا معاملہ بن جائے گا، ہمیں حکومت کی پالیسیوں کا تجزیہ کرنا چاہئے ، اس پر نظر رکھنی چاہئے کہ پالیسی نافذ کس طرح سے ہو رہی ہے، جو وعدے حکومت نے کئے ہیں وہ پورے ہو رہے ہیں یا نہیں، ان سب پر نظر رکھنا ہیں صحافت ہے۔
میں صرف بی جے پی حکومت کی بات نہیں کر رہی ہو، یہ میں نے یوپی کے کام کاج کے دوران بھی کیاتھا، رہی بات دباؤ کی تو اس طرح کی کہانیوں کو کرنے میں ہمیشہ دباؤ رہتا ہے ، لوگ آپ کو فون کر کے بھی کہتے ہیں کہ اس پر خبر مت کرو۔
اس خبر کے لئے تو مجھ سے یہ بھی کہا گیا کہ محفوظ رہنا ہے یا نہیں ، مجھے نہیں معلو کہ محفوظ رہنے سے ان لوگوں کا کیا مطلب تھا ، لوگ آپ سے کہتے ہیں کہ اس خبر کو کرنے سے سائڈ افیکٹ ہو سکتا ہیں، غلط انجام ہو سکتے ہیں،
مجھے بھی اس بات کی جانکاری ہے میں نے ٹوئٹر اس لئے چھوڑ ا کیونکہ پہلے بھی میرے خلاف غلط باتیں پھیلائی گئی ہیں، اس لئے مجھے لگتا ہے ٹوئٹر چھوڑنا بہت اچھا فیصلہ رہا، کیونکہ جو لوگ حقیقت نہیں جانتے وہ بھی بولیں گے اور جن کو ٹرال کرنا ہے ،سلینڈر کرنا ہے ، وہ کریں گے ہی۔
پر اس خبر کو کرنے میں جتنا دباؤ تھا اتنا کبھی نہیں دکھا، جیسے میں نے پہلے رابرٹ واڈرا پر خبر کی تھی تب اس طرح کا دباؤ نہیں تھا وہ خبر بہت آسانی سے کی اور کرنے کے بعد اس طرح کا رد عمل نہیں دیکھنے کو ملا ۔ اس سے پہلے میں نے آنندی بین پٹیل کی بیٹی پر خبر کی تھی پر اس میں بھی اتنا دباؤ نہیں تھا، پر اس خبر کو کرنے کے بعد جو ردعمل سامنے آرہی ہے ان کی وجہ سے میرا حوصلہ اور بلند ہوگیا ہے۔
میں عام طور پر سوشل میڈیا میں کچھ لکھتی نہیں ہوں، فیس بک اور ٹوئٹر پر میرے ذاتی اکاؤنٹ ہیں پر مجحچھ یہ لکھنا پڑا کیونکہ جس طرح کی باتیں ہو رہی ہیں اور بطور خاتون صحافی ہونے کی وجہ سے مجھے لگتا ہے عورتوں پر ہمیشہ نشانہ سادھا جا تا ہے۔
ایک مضبوط عورت کو کوئی پسند نہیں کرتا جو کہے میں ویسے اپنا کام کر رہی ہوں، جس طرح کا رد عمل خاوتین صحافیوں کو جھیلنے پڑ رہے ہیں، وہ کبھی بھی مرد صحافیوں کو نہیں جھیلنے پڑتے ، اس لئے مجھے اپنے جواب میں جو بولنا تھا میں نے فیس بک پر بول دیا ۔
رابٹ وارڈرا پر جو خبر کی تھی تب نہ تو سوشل میڈیا اتنا فعال ہو کرتا تھا، نہ حکوتم کی طرف سے اتنا دباؤ تھا کہ وزیر آکر ایک ویب سائٹ اور صحافی پرنشانہ سادھ رہے ہیں، نہ ہی کوئی ہتک عزت کا کیس ہوا نہ ہی کبھی آگے کام کرنے میں دقت ہوئی ، میں نے آرام سے ٹوجی اور کامن ویلتھ پر خبریں کیں،
اس وقت بی جے پی کے انہی نتیاؤں کے فون آئے تھے اور کہا رہے تھے کہ کوئی صحافی نہیں کرتا آپ نے بہت بہادری کا کام کیا ہے اور مجھے بہت مبارک باد دے رہے تھے میں یہ نہیں کہ رہی کی کوئی میری تعریف کرے میں ویسے اپنا کام کر رہی ہوں
میں بس صحافیوں کی آزادی چاہتی ہوں

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published.