غزہ پٹی اور مصر کے درمیان رفح کی گزرگاہ 10 برس بعد کھول دی گئی،فلسطینیوں کیلئے راحت بھری خبر

غزہ( ایجنسیاں)
مصر اور غزہ پٹی کے درمیان رفح کی سرحدی گزرگاہ کو 2007 کے بعد پہلی مرتبہ ہفتے کے روز فلسطینی اتھارٹی کی نگرانی میں کھول دیا گیا۔ اس اقدام سے غزہ پٹی میں رہنے والوں کو آمد و رفت میں سہولت ہو جائے گی۔
رواں برس اکتوبر میں مصر کی وساطت سے طے پانے والے فلسطینی قومی وفاق کے معاہدے کے نتیجے میں غزہ پٹی کی انتظامیہ سرکاری طور پر صدر محمود عباس کے پاس واپس آ گئی ہے۔ ان میں اسرائیل اور مصر کے ساتھ سرحدی گزر گاہیں بھی شامل ہیں۔
فلسطینیوں کو امید ہے کہ اس معاہدے سے غزہ میں اقتصادی بحرانات میں کمی آئے گی اور یہ ان کی صفوں میں اتحاد قائم رکھنے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔مصر اور اسرائیل نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ابھی تک غزہ پٹی کے ساتھ اپنی سرحدوں پر سخت پابندیاں عائد کر رکھیں ہیں۔
واضح رہے کہ حماس نے صدر محمود عباس کی ہمنوا فورسز کے ساتھ لڑائی کے بعد 2007 میں غزہ پٹی پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔یکم نومبر کو حماس نے غزہ پٹی میں تین گزر گاہوں کو فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دیا تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق کل ہفتے کے روز مسافروں سے بھری کم از کم پانچ بسیں رفح کی گزر گاہ کو عبور کر کے مصر میں داخل ہوئیں۔ اس موقع پر حماس کے مقرر کردہ پولیس اہل کاروں نے مسافروں کے دستاویزات کی جانچ کی۔مصر کی جانب سے اپنی موجودہ پالیسی کو تبدیل کرنے کا ابھی تک کوئی عندیہ نہیں آیا۔ اس پالیسی کے تحت رفح کی گزرگاہ کو ہفتے میں تین بار کھولا جاتا ہے۔
فلسطینیوں کو امید ہے کہ گزر گاہ کو 2007 کی طرح چوبیس گھنٹوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔فلسطینی وزارت داخلہ کے مطابق گزشہ چند ماہ کے دوران غزہ پٹی کے تقریبا 30 ہزار افراد نے مصر میں داخلے کی درخواست پیش کی۔
یاد رہے کہ مصر 21 نومبر کو حماس ، فتح اور دیگر فلسطینی گروپوں کے ساتھ مزید بات چیت کا انعقاد کرے گا۔ بات چیت میں مصالحت سے متعلق موضوعات زیر بحث آئیں گے جن میں سکیورٹی انتظامات اور صدارتی و پارلیمانی انتخابات کی ممکنہ تاریخ شامل ہے۔

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published.