مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کی راجدھانی بنانے کے امریکی فیصلہ پر پوری دنیا سراپا احتجاج ،جانیئے کس نے کیا کہا

نئی دہلی لندن(ملت ٹائمز ایجنسیاں)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔امریکی صدر سے بڑھتی ہوئی قربت کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے جاری کیے گئے شاہی بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ ہے اور یہ فلسطینی عوام کے حقوق کے منافی ہے۔ ایران نے بھی صدر ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اسرائیل کے خلاف ایک اور انتفادہ شروع ہو سکتی ہے۔ یہ اشتعال انگیز اور غیر دانشمندانہ فیصلہ سخت اور پرتشدد ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔
لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے کہا کہ ہمارا ملک بھرپور طریقے سے فلسطینیوں کے ساتھ اپنے حمایت کا اعلان کرتا ہے اور ان کا علیحدہ ملک جس کا دارالحکومت یروشلم ہو، قائم کرنے کے مطالبے کا ساتھ دیتا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی فیصلے سے خطے میں خطرات کا اضافہ ہو گا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یورپ کے دوسرے ممالک کی طرح جرمنی سے بھی امریکی فیصلے کی مذمت سامنے آئی ہے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے ترجمان کے ذریعے پیغام جاری کیئے گئے بیان میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ صدر ٹرمپ کے فیصلے کی قطعی حمایت نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ یروشلم کے رتبے کے بارے میں فیصلہ صرف دو ریاستوں پر مبنی حل کے تحت ہو سکتا ہے۔فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر کے اس فیصلے پر کہا صدر ٹرمپ کے شرمناک اور ناقابل قبول اقدامات نے امن کی تمام کوششوں کو کمزور کر دیا ہے۔فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے دو ریاستی حل کی امید کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گرتیرس نے یروشلیم پر اسرائیلی حاکمیت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے اقدام کو سختی سے مسترد کر دیا۔انتونیو گتریس نے اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یروشلم کے تنازع کو ہر صورت اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے میں روز اوّل سے مسلسل کسی بھی ایسے یکطرفہ حل کے خلاف بات کرتا رہا ہوں جس سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے امکانات کو زِک پہنچ سکتی ہے۔
یورپی یونین کی فارن پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مگیرینی نے صدر ٹرمپ کے اقدام پرشدید تشویش کا اظہار کیا ہے-فیڈریشنیکا مگیرینی نے کہا یروشلم کے بارے فریقین کی خواہشات کو پورا کیا جانا نہایت ضروری ہے اور مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہر صورت مذاکرات کا راستہ ڈھونڈنا چاہیے۔برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔
ٹریزا مے کے ایک ترجمان نے کہا کہ ہم امریکہ کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں کہ وہ اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرے اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرے۔اردن نے ٹرمپ کے فیصلے کو بین الاقوامی اصول کے منافی قرار دیا ہے۔ادرن کی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے امریکی صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور وہاں اپنا سفارت خانہ منتقل کرنا بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔
ترکی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہم امریکی انتظامیہ کے اس غیر ذمہ دار بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ بین الااقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے خلاف ہے۔ ادھرترکی کے دارالحکومت استنبول میں واقع امریکہ قونصل خانے کے باہر لوگوں نے مظاہرے کیے جبکہ تیونس میں تمام بڑی لیبر یونینز نے مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
مصر نے امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا۔فرانسیسی صدر نے ٹرمپ کے اعلان کے رد عمل پر کہا کہ وہ امریکہ کے یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے جس میں اس نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔انہوں نے کہایہ فیصلہ افسوسناک ہے جس کو فرانس قبول نہیں کرتا اور یہ فیصلہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف جاتا ہے

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published.