ملک بھر میں سینکڑوں مقامات پر ایس ڈی پی آئی کا احتجاجی مظاہرہ،بابری مسجد کی تعمیر نو کا مطالبہ

دہلی ( ملت ٹائمز پریس ریلیز)
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)کی جانب سے 6دسمبر بابری مسجد کے شہادت کے دن کو “قومی شرمندگی کے 25سال “کے عنوان کے تحت دہلی ، اترپردیش ، مدھیہ پردیش، راجستھان، گوا، بہار، کرناٹک، تمل ناڈو ، کیرلا، مہاراشٹرا ، آندھرا پردیش،منی پور سمیت ملک بھر میں سینکڑوں مقامات میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا گیا۔ دہلی میں منعقد احتجاجی ریالی اور احتجاجی مظاہرے میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر اے سعید نے شرکت کی اور لکھنوءمیں منعقد احتجاجی مظاہرے میں قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد شریک رہے۔ ملک بھر میں ہوئے احتجاجی مظاہروں میں دلت سماج اور دیگر سیکولر پارٹیوںکے لیڈران نے بھی ایس ڈی پی آئی کے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی اور عوام سے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک بھر میں ایس ڈی پی آئی ہی ایک ایسی سیاسی پارٹی ہے جس نے بابری مسجد معاملے میں انصاف کے مطالبے کو لیکر ملک بھر میں احتجاج درج کیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر سعید نے نئی دہلی میں منعقد احتجاجی مظاہرے میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کا انہدام جس سے بین الاقوامی سطح پر ہمارے ملک کو شرمسار ہونا پڑا تھا، آج بابری مسجد کے انہدام کے 25سا ل مکمل ہوچکے ہیں اس کے باوجود آج تک بابری مسجد معاملے میں انصاف نہیں ملا ہے۔ لبرہان کمیشن رپورٹ میں جن لوگوں کو بابری مسجد کے انہدام کے لیے قصوروار ٹہرایا تھا آج وہ اقتدار پر براجمان ہیں اور ان پر کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم نے نرسمہا راﺅ نے وعدہ کیا تھا کہ بابری مسجد دوبارہ اسی جگہ تعمیر کرکے دی جائے گی اس وعدہ کو بھی آج تک پورا نہیں کیا گیا ہے۔ بابری مسجد کا انہدام ہمارے ملک کے جمہوری اقدار پر حملہ تھا اور بابری مسجد کے انہدام میں شریک مجرم آج مرکزی اور ریاستی حکومت میں اعلی عہدوں پر فائز ہیں جو ہمارے ملک کے لیے ایک شرمندگی کی بات ہے۔ گزشتہ 25سالوں سے مسلمان اور اس ملک سے محبت کرنے والے لوگ ایک ہی آواز میں بابری مسجد معاملے میں انصاف مانگتے آرہے ہیں۔ اس اہم مرحلے میں سنگھ پریوار اوراس کی ذیلی تنظیمیںمسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ جو ضمیر فروش ہیں ان کو ساتھ لیکر بابری مسجد معاملے کو عدالت کے باہر حل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ قومی صدر اے سعید نے اپنے بیان میںصاف طور سے کہا ہے کہ مسلمان عدلیہ کے حتمی فیصلے کا انتظار کررہے ہیں ایسے میں عدالت کے باہر مصالحت کے کسی بھی ہتھکنڈے کو قبول کرنے کے لیے مسلمان تیار نہیں ہیں۔ بابری مسجد کی مسماری آئین ہند کی کھلی خلاف ورزی اور توہین ہے بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر سے ہی ملک کے جمہوری اقدار کی بحالی ہوگی۔بابری مسجد کے تعمیر نو اور مسجد کے انہدام میں ملوث مجرموں کو سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک بھر میں آج ہم احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں اور بابری مسجد کی بازیابی تک ہم اپنی قانونی لڑائی جاری رکھیں گے اور ملک کے سیکولر چہرے پر بابری مسجد کی مسماری کے بعد لگے داغ کو مٹانے تک ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

 

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published.