مسلم پرسنل لاءبورڈ کی یہ روایت برقرار ره پائے گی ؟

خبر درخبر(532)
شمس تبریز قاسمی
تین طلاق پر حکومت ہند کا مجوزہ بل شریعت میں مداخلت پر مبنی ہے ،یہ مسلم خواتین کے حقوق کے خلاف ہے ، ان کی الجھنوں،پریشانیوںاور مشکلات میں اضافے کا سبب ہے، یہ شریعت اسلامی میں بھی کھلی ہوئی مداخلت ہے۔ آئین ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کی بنیادی دفعہ اورسپریم کورٹ کے تین طلاق کے سلسلہ میں دیے گئے حالیہ فیصلے کے بھی خلاف ہے۔اس بل کی دفعات ۴۔۵۔۶۔۷ ملک میں پہلے سے موجود قوانین (مثلا Guardian and wards Actوغیرہ) سے ٹکراتی ہیں ۔ دستور ہند کی دفعہ ۴۱۔ ۵۱ کے خلاف ہیں کیونکہ اس بل میں ان مسلمان عورتوں کو جن کو بیک وقت تین طلاق دی گئی ہو اور دیگر مسلم خواتین میں بغیر کسی جواز کے تفریق کی گئی ہے۔ شوہر کو مجرم قرار دیے جانے کے سلسلہ میں خود اس کی منکوحہ کی مرضی اور منشا کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے، بچوں کی فلاح و بہبود کے معاملہ پر بھی سرے سے توجہ ہی نہیں دی گئی ہے۔
ہندوستانی مسلمانوں کی سب سے مضبوط ، متحدہ اور باوقار تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ نے مذکورہ تمام وجوہات کو بنیاد بناتے ہوئے تین طلاق پر مجوزہ بل کو مسترد کردیاہے ، لکھنو میں آج مجلس عاملہ کی ہونے والی میٹنگ میں بورڈ کی قیادت نے اسے مکمل طور پر ناقابل قبول قراردے دیا ہے اور یہ کہاگیاہے کہ بورڈ کے صدر مولانا محمد رابع حسنی ندوی وزیر اعظم نریندر مودی کو مسلمانوں کے احساسا ت وخیالات سے آگاہ کریں گے لیکن کس طرح کریں گے ،خط لکھیں گے ،فون پر بات کریں گے ،کوئی نمائندہ وفد بھیجیں گے یا بذات خود ملاقات کریں گے اس سلسلے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے ۔
تین طلاق پر حکومت ہند کا مجوزہ بل یقینی طور پر شریعت میں مداخلت پرمبنی اور ایک غیر ضروری عمل ہے ،مسلم رہنماﺅں کے ساتھ سول سوسائٹی اور سماجی کارکنان بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد کسی طرح کے قانون کی ضرورت نہیں سمجھتے ہیں ،مرکزی وزیر قانون اور وزیر برائے خواتین فلاح وبہبود نے بھی کسی طرح کا قانون لانے سے انکار کیاتھالیکن گجرات الیکشن کے عین موقع پر حکومت نے قانون بنانے کا اعلان کیا اورانتہائی تیزی کے ساتھ بل لانے کا منصوبہ بنایاگیا،ڈرافٹ منظر عام پر آچکاہے ،گذشتہ ہفتہ نہیں پیش ہوسکا تاہم توقع ہے کہ آئندہ بدھ کو یہ بل پارلیمنٹ میں پیش ہوجائے گا ۔
ہم آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کو ذمہ دار نہیں ٹھہراسکتے ہیں کیوں کہ موجودہ حکومت ایک مخصوص ایجنڈے پر کام کررہی ہے ،برسوں تک مذہبی تنگی اور احساس کمتری کی شکار رہنے والی اس قوم نے یہ پالیسی بنائی ہے کہ اگر اپنی برتری ثابت کرنی ہے ،اپنی قوم کو احساس کمتری کے مرض سے باہر نکالناہے تو اس کیلئے کسی دوسرے مذہب کو ٹارگٹ کرنا پڑے گا ،منظم انداز میں یہ بتانا ہوگا کہ تمہاری شریعت اب قابل تقلید نہیں رہ گئی ہے ،موجودہ تقاضوں اور چلینجز کا حل وہاں موجود نہیں ہے ،اس لئے اپنی شریعت او رتعلیمات کے بجائے ہمارے بنائے ہوئے اصول کواپناﺅ ۔حقوق نسواں کو ایشو بناکر حکومت اسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ،تین طلاق پر شریعت کے راستوں سے علاحدہ بل لاکر اپنی کمیونٹی کو بی جے پی حکومت یہ پیغام دے رہی ہے کہ جس اسلام کو سب سے اچھا مذہب کہاجاتاہے وہاں عورتوں پر ظلم کیا جاتاہے اور ان کی خواتین کو حقوق ہم ایک نئے قانون کی شکل میں دے رہے ہیں ۔افسوس کی بات یہ ہے کچھ لبر ل خواتین وحضرات کے ساتھ چند جید علماءکرام اور اسکالرس بھی اس اقدام کی ستائش کررہے ہیں ۔
اس پورے معاملے میں ہماری بھی کوتاہی شامل ہے ،طلاق کے بڑھتے واقعات اور اسلام دشمن عناصر کی جانب سے مسلسل ہونے والے حملوں کے سد باب کیلئے ہم نے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا ،تین طلاق کے وقوع کے سلسلے میں ہمیشہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلہ سے استدلال کیاگیا لیکن سزا کے معاملے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جبکہ واضح طورپر تعزیری سزا ثابت ہے ایسے میں پروفیسر اختر الواسع صاحب کی یہ بات بھی کافی اہم ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کو خود ایک مسودہ تیارکرکے حکومت کو پیش کرنا چاہیئے تھاکہ معاشرہ میں طلاق کے بڑھتے واقعات کے سد باب کیلئے ہم اس نہج کا قانون چاہتے ہیں ۔بورڈ کی جانب سے تجویز کی گئی سزا کو حکومت نافذکرتی ہے تواس کا خوف اورڈر ہوتاہے لیکن اس کے نفاذ کا اختیار جب سماج کو دیاجا تاہے تو وہ بے اثر ہوتی ہے جیساکہ سماجی بائیکاٹ کے فیصلہ کا ہواہے ۔لیکن بورڈ نے ایسا نہیں کیا ۔اگست میں آئے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر بھی بورڈ نے اب تک کوئی واضح ردعمل ظاہر نہیں کیاآیا وہ فیصلہ مکمل طور پر قابل قبو ل ہے یا پھر اس سے اختلاف کی بنیاد پر نظر ثانی کی درخواست دائر کی جائے گی ۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ اس وقت شدید مشکل کا سامناکررہاہے ،مین اسٹریم میڈیا میں چند ایسی خواتین کو منظرعام پر لاکر یہ تاثر دینی کی کوشش کی جارہی ہے کہ خواتین بل کا سپورٹ کررہی ہیں،دوسری طرف حکومت کے ترجمان بل پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے میں ناکام ہیں ۔ان تمام حالات کے درمیان بورڈ نے اب وزیر اعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ خط کتنا موثر ہوگا یہ آنے والا وقت بتائے گا ویسے ماضی میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ جمعیة علماءہند کی ملاقات ناکام ثابت ہوچکی ہے ۔تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ماضی کی حکومتوں کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبور ڈ نے ہمیشہ اپنے سخت عزائم کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا ہے ۔
stqasmi@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *