چیف جسٹس دیپک مشرا کو استعفی دے دینا چاہیئے ،ان کی وجہ ملک کی عدلیہ کو آج شرمسار ہونا پڑا :ماہرین قانون کا مطالبہ

نئی دہلی ۔12جنوری(ملت ٹائمز)
سپریم کورٹ کے چار ججوں کی پریس کانفرنس کے بعد پورے ملک میں ہلچل مچ گئی ہے ،آزادی اور جمہوریت کی بقا پر بحث چھڑی ہوئی ہے ،ملک کے بیشتر ماہرین قانون پریس کانفرنس کرکے عدلیہ پر حکومت کے بڑھتے دباﺅ کو بے نقاب کرنے والے چاروں ججز جسٹس جے چےلمےشور، جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس مدن لوکر اور جسٹس کورین جوزفی کے اس اقدام کی تعریف کررہے ہیں اور ان کے اس جرات مندانہ اقدام کو سلام کررہے ہیں ۔
معروف وکیل اشوک اروڑا نے چیف جسٹس دیپک مشرا کے بارے میں ایک ٹی وی ڈبیٹ میں کہاکہ اس سے قبل بھی ان کے بارے میں کئی شکایتیں آچکی ہیں ،وہ مسلسل عدلیہ کے نظام کے خلاف کام کررہے تھے ،چاروں ججوں نے جو کیا ہے وہ قابل تعریف ہے اور چیف جسٹس دیپک مشرا کو چاہیئے کہ اب وہ اپنے عہدہ سے استعفی دے دیں ،ان کی وجہ ملک کے وقار کو ٹھیس پہونچا ہے ،ملک کی عدلیہ کے تئیں آج یہ سیاہ دن دیکھنا پڑا ہے ۔بامبائی ہائی کورٹ کے سابق جج جے کولسے پٹیل نے بھی دیپک مشراکے آمرانہ رویہ کی سخت مذمت کی اور کہاکہ انہیں اپنے عہدہ سے استعفی دے دینا چاہیئے ،چیف جسٹس ہونے کا یہ ہر گز مطلب نہیں ہوتاکہ وہ منمانی کریں اور اپنے ساتھیوں کی رائے نہ لیں ۔

Related posts

Leave a Reply

Your email address will not be published.