میں نیوز اینکر نہیں رہا، نیوز کیوریٹر بن گیا ہوں: رویش کمار

رویش کمار

ڈبیٹ اینکر بھی اپنی موت مر رہا ہے۔ وہ حکومت کا روبوٹ بن‌کر رہ گیا ہے۔ آپ روبوٹ کی طرح بنا کسی شرم و حیا کے تقریر کرتے جائیے، جمہوریت پر حملے کرتے جائیے۔

اخبار پڑھ لینے سے اخبار پڑھنا نہیں آ جاتا۔ میں آپ کے صواب دید پر سوال نہیں کر رہا۔ خود کا تجربہ ایسا رہا ہے۔ کئی سال تک اخبار پڑھنے کے بعد سمجھا کہ خیالات سے پہلے اطلاعات کا تنوع ضروری ہے۔ اطلاعات کا تنوع آپ کو ذمہ دار بناتاہے۔ آج کے دور میں بھلےہی ذرائع میں تنوع آ گیا ہے مگر اطلاع میں یکسانیت بھی آئی ہے۔ بہت سے چینل ہیں مگر سب کے پاس ایک ہی انفارمیشن ہے۔ ایک ہی ایجنڈاہے۔ میڈیا کا بزنس ماڈل ایسا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی حکومت کے لئے انفارمیشن کو کنٹرول کرنا آسان ہو گیا ہے۔ میڈیا کو صرف حکومت ہی کنٹرول نہیں کرتی ہے مگر حکومت سب سے اہم وجہ ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ خبریں نہیں چھپ رہی ہیں، مگر ان کے چھپنےکا طریقہ بدل گیا ہے۔ اصلی خبروں کی جگہ نقلی چھپ رہی ہیں اور اصلی ایسے چھپ رہی ہیں جیسے دیکھنے میں نقلی لگیں یعنی کم اہم لگے۔ اس لئے اب قاری کو بھی صحافت کرنی ہوگی۔ اس کو بھی خبروں کو تلاش کرنا ہوگا۔ پہلے خبر تلاش کرنے کا کام صحافی کرتے تھے اب ان کا کام حضور کے لئے نگاڑے بجانا رہ گیا ہے۔ یہ حضور مرکز میں بھی ہیں اور الگ الگ ریاستوں میں بھی ہیں۔ اسی سسٹم کو میں گودی میڈیا کہتا ہوں۔ جب تک قاری خبروں کو تلاش کرنے کا کام نہیں کریں‌گے، ان کو اخبار پڑھنا نہیں آئے‌گا۔
کلاسیکی تعریف کے مطابق اینکر کا کام تب شروع ہوتا تھا جب کئی نامہ نگار اپنی رپورٹ کے ساتھ تیار ہو جاتے تھے۔ اب چینلوں کےنیوز روم سے نامہ نگار غائب ہیں۔ اتنے کم ہیں کہ ان کا دن دو چار خبروں کے پیچھے بھاگنے میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ ٹوئٹر کے ٹرینڈ یا رہنماؤں کی حماقت بھرے بیان نہ ملیں تو ڈبیٹ اینکر کے پاس کوئی کام نہیں رہتا ہے۔ اس کے پاس انفارمیشن جمع کرنے کے ذرائع نہیں ہوتے۔ بہت کم لوگوں کے پاس یہ سہولت حاصل ہے اور ان کی انفارمیشن کے تنوع میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کا کام حکومت کا بگل بجاکر ہو جاتا ہے۔
یہ عمل دس پندرہ سال پہلے شروع ہو گیا تھا۔ کم لوگوں کو یاد ہوگا کہ آٹھ سال پہلے آج تک اور انڈیا ٹی وی جیسےچوٹی کے چینلوں پر 2012 تک دنیا کے خاتمہ ہو جانے کی پیشین گوئی پر آدھے آدھے گھنٹے کے شو بنا رہے تھے جیسے آج ہندو مسلم ٹاپک پر ڈبیٹ کے بنتے ہیں۔ یو ٹیوب پر آج تک چینل کا ایک ویڈیو دیکھا۔ شو کا ٹائٹل ہے زمین کے بس تین سال۔ تاریخ بھی دی گئی ہے۔ 21 دسمبر 2012 کو دنیا ختم ہو جائے‌گی۔ انڈیا ٹی وی کا ایک ویڈیو ملا ہے جس کی شروعات اس طرح سے ہوتی ہے- آپ شاید سن‌کر یقین نہ کریں، ایک پل کے لئے دیکھ‌ کر اَن۔دیکھا کر دیں، لیکن ہو چکی ہے پیشین گوئی، تیار ہو گیا ہے کلینڈر، صرف 4 سال 8 مہینے 17 دن بعد، ہو جائے‌گا مشینی دور کا خاتمہ، ہم سب ختم ہو جائیں‌گے، طے ہو گئی ہے ہلاکت کی تاریخ۔ ایک منٹ تک قدرتی آفات کی پرانی تصویروں کی یہ لائن فلیش ہوتی رہی۔ اس کے بعد آتا ہے اینکر۔ اس اینکر نے اپنے پہلے کے اینکروں کو ختم کر دیا۔
آٹھ سال پہلے بھی چینلوں پر یہی سب چل رہا تھا۔ بھوت پریت سے لےکر تمام ایسے پروگرام چل رہے تھے جن کی خبروں سے لینا دینا نہیں تھا۔ وہ آپ کو ایسے ناظرین میں بدل چکے تھے جس کے اندر خبر کی بھوک کی جگہ بکواس کا بھوسا بھرا جا چکا تھا۔ غنیمت ہے کہ دنیا بھی بچی اور ہم سب نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدے پر دیکھنے کے لئے بچے رہے۔ مودی کے دور کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ اس کے کئی ہدف 2022 پر جاکر ختم ہوتے ہیں۔ یعنی تب تک تو کوئی چینل نہیں کہہ پائے‌گا کہ دنیا ہی ختم ہونے والی ہے۔
دنیا تو ختم نہیں ہوئی مگر چینلوں کی دنیا میں خبروں کے ادارے ختم ہو گئے۔ خبروں کو جٹانے والے نامہ نگار ختم ہو گئے۔ دنیا کو ختم کرنے والے پروگرام پیش کرنے والے اینکروں کی ترقی ہو چکی ہے۔ خبر اینکر تبھی ختم ہو گئے تھے۔ ان کی جگہ لائے گئے ڈبیٹ اینکر۔ جو سب سے سوال کریں۔ اقتدار بدلتے ہی ان اینکروں کے سوال بھی ختم ہو گئے۔ یہی نہیں اخباروں اور دیگر جگہوں پر بھی اسی طرح کی تبدیلی ہوئی۔ آج نیوز چینلوں کے نیوز روم میں اطلاعات کا خوفناک قحط ہے۔ مدعوں کا بھی قحط ہوتا جا رہا ہے۔
ڈبیٹ اینکر بھی اپنی موت مر رہا ہے۔ وہ حکومت کا روبوٹ بن‌کر رہ گیا ہے۔ آپ روبوٹ کی طرح بنا کسی شرم و حیا کے تقریر کرتے جائیے، جمہوریت پر حملے کرتے جائیے۔ بہت سے لوگ ان اینکروں کی تنقید لکھ‌کر اس امید میں ہیں کہ ایک دن کچھ بدلے‌گا۔ مگر روبوٹ کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ وہ وہی بولتا ہے جو فیڈ ہوتا ہے۔ اپنے سے اخبار اٹھاکر یا نیوز لونڈری کلک کر کے نہیں پڑھتا کہ کیا تنقید ہو رہی ہے۔
اس عمل سے ہندی کے ناظرین پر بہت ظلم ہو رہا ہے۔ ہندی کے طالب علموں کے ساتھ جو دھوکہ ہو رہا ہے وہ ابھی نہیں، مگر بعد میں سمجھیں‌گے۔ وہ زندگی میں پچھڑنے لگیں‌گے۔ قصبوں تک تو کتابوں کی اطلاع پہنچ بھی نہیں پاتی ہے۔ چینل کھولتے ہیں کہ نیوز ملے‌گی مگر وہاں نیوز تو ہے ہی نہیں۔ نیوز روم میں خبروں کو لانے کے لئے ذرائع نہیں ہے۔ ایسے میں اینکر کیا کرے ‌گا۔ اس کے پاس دو ہی اختیار ہے۔ وہ خود کو روبوٹ میں بدل لے۔ دوسرا وہ یہ کر سکتا ہے کہ اطلاعات جمع کرے۔ مگر یہ کام بھی خود کرنا ہوتا ہے۔ دن رات یہاں وہاں سے اطلاعات جمع کرتا رہتا ہوں۔
آپ بھی ایک اخبار کے بھروسے پر نہ رہیں۔ خبروں کو پڑھنے کا طریقہ بدل لیجئے ورنہ آپ اور پیچھے رہ جائیں‌گے۔ کوئی ایک خبر لے لیجئے۔ جیسے حال کا بھیماکورے گاؤں کا واقعہ۔ اس پر کم سے کم بیس پچیس مضمون چھپے ہوں‌گے۔ ان سب کو ایک جگہ جمع کیجئے اور پڑھیے۔ پھر دیکھیے آپ کے ذہن میں اس واقعہ کو لےکر کیا تصویر بنتی ہے۔ دیکھیے کہ کیسے جب ہندوستان کے سرکاری ادارہ نے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح میں گراوٹ آنے والی ہے، اس خبر کو میڈیا کونے میں چھاپتا ہے اور جب عالمی بینک کہتا ہے کہ جی ڈی پی بڑھنے والی ہے تو کیسے اس کو چمکاکر پیش کرتا ہے۔
ہندی یا کسی بھی لسانی سماج کے دوستوں، اطلاعات کا جمع کرنا ہر کسی کی بس کی بات نہیں ہے۔ یہ خاص طور پر وقت، وسائل اور خصوصی اختیارات کا معاملہ ہے۔ مجھ تک جو کتاب یوں ہی پہنچ جائے‌گی آپ تک نہیں پہنچے‌گی۔ میں جانکاری اور پیسے دونوں کی بات کر رہا ہوں۔ یہ ضرور ہے کہ میں اس کے لئے کچھ ایسے لوگوں کو فالو کرتا ہوں یا دوستی رکھتا ہوں جن سے مجھے ایسی اطلاع ملتی رہے۔ مثال کے طور پر آپ میں سے بہت نیویارکر سبسکرائب نہیں کر سکتے۔ میں بھی نہیں کرتا ہوں مگر میرے کئی دوست کرتے ہیں تو پتا چلتا رہتا ہے کہ اس میں کیا چھپ رہا ہے۔ پیسے کے علاوہ آپ کی فیملی اور روزگار کی ایسی حالت نہیں ہوتی کہ چیزوں کو سمجھنے کا اتنا وقت مل پائے۔ دو گھنٹے ٹریفک میں لگاکر گھر پہنچیں‌گے تو خاک جاننے لائق رہیں‌گے۔ چینلوں کو پتا ہے کہ آپ کے پاس ٹائم نہیں ہے اس لئے کوڑا پیش کرتے رہو۔
پچھلے کچھ سال سے میں بلاگ اور فیس بک پر اقتصادی خبروں کو کیوریٹ کر رہا ہوں۔ یہ کام پرائم ٹائم میں ہی کرنے لگا تھا۔ اس عمل میں میں نیوز اینکر سے نیوز کیوریٹر بن گیا۔ کیوریٹر وہ ہوتا ہے جو کسی فنکار کے کام کو خاص تناظر میں سجاتا ہے تاکہ اس کا مقصد صاف ہو۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ ٹی وی میں وسائل کی کمی سے اب بہتر کرنا مشکل ہے۔ میری روح ٹی وی میں بستی ہے اور ٹی وی مر گئی ہے۔ اسی لئے 2010 سے ہی چینل دیکھنا بند کر دیا۔
پرائم ٹائم کے انٹرو نے مجھے جانے انجانے میں نیوز اینکر سے نیوز کیوریٹر بنا دیا۔ ویسے میں ہندوستان کا پہلا زیرو ٹی آر پی اینکر بھی ہوں۔ پرائم ٹائم کے انٹرو کے دوران میں نے اطلاعات کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ داخلی انتشار کو چوہے کے بل سے کھوج نکالنا سیکھا۔ اور آپ ناظرین کا بہت سارا وقت بچا دیا۔ وہی کام میں فیس بک پر کرتا ہوں۔ میں اپنے پیج RavishKaPage پر اقتصادی خبروں کو کیوریٹ کرتا ہوں یا ویسی خبروں کو لاتا ہوں جس کو مین اسٹریم میڈیا کونے میں چھپا دیتا ہے۔ میں کہاں سے معلومات حاصل کرتا ہوں، کس اخبار سے لیتا ہوں، اس کا اور اس کے نامہ نگار کا نام ضرور دیتا ہوں تاکہ آپ بھی خود جانچ ‌کر سکیں۔
ٹی وی کی موت ہو چکی ہے۔ میرا دل نہیں لگتا۔ میں روز ٹی وی کےدفتر جاتا ہوں مگر ایک دن بھی چینل نہیں دیکھتا۔ اب تو کئی سال ہو گئے۔ خود پر حیران ہوتا رہتا ہوں۔ ٹی وی کے پاس زیادہ تر سطحی قسم کی اطلاعات ہیں جن میں محنت کم ہے، مظاہرہ زیادہ ہے۔ اوپر سے جب پتا چلتا ہے کہ اتنی محنت کے بعد کیبل نیٹورک سے چینل غائب ہے اور میرا شو لوگوں تک پہنچا ہی نہیں تو دل ٹوٹ جاتا ہے۔ گھر آکر کھانا نہیں کھا پاتا۔ دن کے دس دس گھنٹے لگاکر کچھ بنائیے اور پہنچا ہی نہیں۔ آپ میری پوسٹ اور شام کے انٹرو سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میں دن بھر میں کتنا وقت کام میں دیتا ہوں۔
یونیورسٹی پر ایک نہیں 27 دنوں تک سریز کرتا رہا۔ مگر لوگوں تک پہنچا ہی نہیں۔ گزشتہ سال مئی جون میں دس دنوں تک اسکولوں کی لوٹ پر شو کرتا چلا گیا۔ پانچ دنوں تک فیک نیوز پر کرتا چلا گیا۔ آپ جاکر ان کو یو ٹیوب میں دیکھیے۔ کافی کچھ جاننے کو ملے‌گا۔ 2012 یا 2013 کا سال رہا ہوگا، ریٹیل سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا مسئلہ اٹھا تھا، میں نے لگاتار دس بارہ دنوں تک کئی شو کر دئے۔ اب تو مخالفت کرنے والی پارٹی حکومت میں آکر FDI کے اپنے ہی مخالفت کو کچل رہی ہے۔ کمال ہے۔
جب میں کالج میں تھا تو زبان کی وجہ سے انگریزی کی دنیا میں موجود اطلاعات کو کم سمجھتا تھا۔ ہندی میں اطلاعات ہوتی نہیں تھیں۔ میرے استاد، سینئر، دوست اور معشوقہ نے کافی مدد کی۔ جس سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔ میرا وقت بچا۔ وہ میرے لئے ترجمہ کر کےسمجھا دیتے تھے۔ ہندی کے لوگ بہت امید سے اخبار پڑھتے ہیں۔ چینل کھولتے ہیں۔ بہتوں کو پتا بھی نہیں چلتا کہ ان کو کچھ نہیں مل رہا۔ ان کو تو تب بھی پتہ نہیں چلا جب خبروں کے نام پر چینل دنیا کے ختم ہونے کا دعویٰ بیچ گئے۔
اس لئے میں نے اپنا کردار بدل لیا ہے۔ میرے پاس اپنی اطلاعات کی بہت کمی ہے۔ آپ ناظر ین روز طرح طرح کی اطلاع دیتے ہیں مگر ان کو تصدیق کرنے اور رپورٹ کی شکل میں پیش کرنے کے وسائل نہیں ہیں۔ الٹا آپ مجھ ہی کو گلیانے لگتے ہیں۔ میں آپ کے دکھ کو سمجھتا ہوں پر کچھ کر نہیں سکتا۔ آپ یہ نہ سوچیں کہ میں ناامید ہوں۔ بالکل نہیں۔ آپ بھروسہ کرتے ہیں اس لئے بتا رہا ہوں کہ میں کس عمل سے گزر رہا ہوں۔ میرے پاس پرائم ٹائم کرنے کے لئے اطلاعات کے بہت کم متبادل ہیں۔ وسائل کے سنگین چیلنج نے اطلاعات کے جمع کرنے پر بہت اثر ڈالا ہے۔ یہ سچائی ہے۔
مگر میں اپنے جنون کو کیسے روکوں۔ اس لئے پڑھتا رہتا ہوں۔ جو پڑھتا ہوں آپ کے لئے لکھتا ہوں۔ فری میں کرتا ہوں تاکہ ہندی کے طالب علموں کی دنیا میں پڑھنے کے طریقہ کا فروغ ہو اور وہ مواقع کا فائدہ اٹھائیں۔ میں یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ میرا ہی طریقہ بہتر ہے۔ اس لئے آج کل صبح اٹھ ‌کر اقتصادی خبروں کو یکجا کرتا ہوں۔ ان خبروں کو کیوریٹ کرتا ہوں۔ ایک تناظر میں پیش کرتا ہوں تاکہ باقی میڈیا کے دعووں سے کچھ الگ دکھے۔ گردن دونوں طرف مڑنی چاہیے۔ صرف سامنے دیکھ‌کر ہی چلیں‌گے تو دھڑام سے گریں‌گے۔
حال ہی میں ایک دوپہر ٹی وی آن کر دیا۔ ایک اینکر کو دیکھا کہ پندرہ منٹ تک یہی بولتی رہی کہ بنے رہیے ہمارے ساتھ، ٹھیک چار بجے لالو یادو کے خلاف فیصلہ آنے والا ہے۔ دو تین اطلاعات کو لےکر وہ بولتی رہی۔ جن پتھ مارکیٹ میں بیچنے والا روبوٹ بن چکا ہے۔ وہ ایک ہی دام بولتے رہتا ہے۔ پچیس پچیس۔ کچھ دیر بعد اس اینکر میں مجھے روبوٹ دکھائی دینے لگا۔ جلد ہی نیوز روم میں یہی اطلاع کوئی روبوٹ بول رہا ہوگا۔ یہ بول‌کر کسی کو گھر سے نہا دھو کر اچھے کپڑے پہن‌کر آنے کی کیا ضرورت ہے۔ بہت لوگ خوشی خوشی روبوٹ بن رہے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کی نیوز اور ذرائع ابلاغ میں بول بالا رہے ‌گا۔ مجھے روبوٹ نہیں بننا ہے۔ اس لئے پھر سے ایک نئی کوشش کرتا ہوں۔ نیوز کیوریٹر بن جاتا ہوں۔ دیکھتا ہوں کہ تقدیر کب تک میرے ساتھ دھوپ اور سایہ کا کھیل کھیلتی ہے۔ اقتدار اور صحافت کا سسٹم مجھے ایک دن ہرا ہی دے ‌گا مگر اتنی آسانی سے ان کو جیت نصیب نہیں ہونے دوں‌گا۔
اس لئے نیوز اینکر کی جگہ نیوز کیوریٹر بن گیا ہوں۔

( بہ شکریہ دی وائر )

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *