جمہوریت اور آمریت کے درمیان سسکتا سپریم کورٹ

معاذ مدثر قاسمی، مرکزالمعارف ممبئی

جمہوریت ہند کی تاریخ میں یہ پہلا اور نادر واقعہ ہے کہ عدالت عظمی کے معزز ترین ججز چیف جسٹس کی کار کردگی کے خلاف صدائے احتجاج ہی نہی بلند کیا بلکہ میڈیا کا سہارا لیکر عوام کو جمہوریت پر پڑنے والے برے اور خطرناک اثرات سے باخبر کیا، اور یہ ہونا لازمی تھا کیونکہ جمہوریت ہند اپنے بد ترین دوڑ سے گزر رہا ہے، قانون کی جگہ طاقت کا اور خوف کا استعمال کیا جارہا ہے، ظلم کے خلاف اٹھنے والی ساری آواز بزور طاقت دبائی جا رہی ہے۔
چند سالوں سے یہی دیکھا جا رہا ہے کہ ملک کا نظام ایک نئے سمت کی طرف مڑنے لگا، اور یہی وجہ ہے کہ جب سے انصاف کی خاطر آواز اٹھانے والوں کی آوازیں ہوا کی نذر ہونے لگی، دھڑلے سے انسانیت کا قتل کیا جانے گا، اور انسانیت کے قاتل کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی کی جانے لگی، تبھی سے دانشوران، مفکرین، جرنلسٹ، علماء اور ملک کے حالات پر نظر رکھنے والے علماء اور ماہرین قانون کہہ رہے تھے کہ ملک کی جمہوریت خطرے میں ہے، ملک کا دستور کبھی بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے، ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے بھی اب حکومت کے اشارے پر آرہے ہیں، مگر یہ باتیں عدالت کے باہر ہوری تھی، ملک کے مشہور عالم دین مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب نے بارہا اپنے بیانات میں پورے وثوق کے ساتھ کہا کہ ملک کے دستور کو تبدیل کرنے کی پوری تیاری کی جا چکی ہے، لیکن عوام کو اب تک نظامِ عدلیہ اور اس کی شفافیت پر مکمل اعتماد تھا، اسی کو اب تک اپنا آخری سہارا سمجھا جا رہا تھا کیونکہ بارہا نچلی عدالت سے قصور وار ٹہرائے کتنے ہی بے قصوروں کو صحیح انصاف اسی عدالتِ عالیہ سے ملا۔ مگر کچھ دنوں سے عدالتِ عظمی کے فیصلے بھی توقع کے خلاف آنے شروع ہوگئے، مگر پھر بھی عدالتِ عظمی پر ایمان و یقین رکھنے والوں نے اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ ممکن ہے کہ ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکامی کی بنا پر توقع کے خلاف اس طرح کے فیصلے آئے ہوں، مگر جس طرح سے چیف جسٹس کے بعد سب سے معزز چار ججز جسٹس جے چیلا میشور، جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس مدن لوکر، جسٹس کورین جوزف کو ان کی بیدار، حساس اور ایماندار ضمیر نے مجبور کیا کہ اب حقیقت کا اظہار کردیا جائے، ورنہ عوام کی توقعات کا خون ہوگا، لہذا ان عظیم ججوں نے اپنی ضمیر کی صدا پر لبیک کہا اور پوری جرأت مندی کےساتھ دانشورانِ قوم، اور ملک کے حالات پر گہری نظر رکھنے والوں کے شکوک و شبہات کو یقین میں تبدیل کرتے ہوئے صاف اور واضح طور پر کہہ دیا کہ عدالت عظمی کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، چیف جسٹس دیپک مشرا اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں، بہت سے فیصلے قانون عدالت کے خلاف ہو رہے ہیں۔ بہت سے فیصلے خارجی دباؤ سے متأثر ہو رہے ہیں۔
ججوں کے اس پریس کانفرنس کے بعد اب مزید شواہد کے اکھٹا کرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اب ضروت اس بات کی ہے کہ ملک کے تمام تھنک ٹینکس، جمہوریت کے متوالے، اور حقیقی سیکولر نظریات کے حامل افراد قوم کو سر جوڑ کر آئندہ کے لائحہ عمل کو طے کرنا ہوگا، اور بہت جلد اس پر عملی کاروائی بھی کرنی ہوگی، تاکہ جلد از جلد کسی بھی طرح عدالت عظمی کو سنگھ پریوار کے تسلط سے آزادی دلائی جائے۔ کیونکہ ان چار باوقار ججوں نے دستور کی حفاظت اور اس پر صحیح عمل کرنے کیلئے اندرونی طور پر مکمل کوشش کی، اور جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی کوششیں بر آنے والی نہیں ہے، لہذا جمہوریت کے تاریک مستقبل کو بھانپتے ہوئے مجبوراً عوام کو دستور اور جمہوریت پر منڈلاتے بادل سے آگاہ کیا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری عوام کے کندھوں پر ڈالتے ہوئے آگاہ کیا کہ جتنا جلد ہوسکے اس کے تحفظ کی کوشش شروع کردی جائے۔
یہ بات واضح رہے کہ جب کسی ایک منفرد نظریے کی حامل طاقت کا اثر و رسوخ کسی ملک پر بڑھتا ہے اور اس ملک کو اپنے رنگ میں رنگنا چاہتی ہے اور اپنے نظریات کو تھوپنا چاہتی ہے تو نظام عدالت کو اپنے تسلط میں لانے کی کوشش کرتی ہے۔
اگر ہم اپنے ملک کا گہرائی سے جازہ لیں تو یقیناً ہمیں یہ احساس ہوگا کہ جمہوریت کے سارے ستونوں پر سنگھ پریوار اور آر ایس ایس شبخوں مار چکی ہے چاہے وہ میڈیا ہو یا الیکشن کا نظام، اگر ان چار ججز کی باتوں پر غور کیا جائے تو یہ بھی کہا جا سکتا ہےکہ نظامِ عدالت بھی اب محفوظ نہیں رہ سکا۔
یہ بڑے ہی افسوس کی بات ہے اور سونچنے کا مقام ہے کہ کیا اب ہمارا ملک جو پوری دنیا میں جمہوریت کی ایک مثال ہے کیا یہ اپنی آخری سانس لے رہا ہے؟ جو ملک مختلف زبان و بیان اور تہذیب و ثقافت کے مختلف رنگوں میں رنگا ہوا ہے کیا اب ایک ہی رنگ میں رنگ دیا جائے گا؟
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیکولر پارٹیاں اپنے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر جمہوریت کو درپیش مسائل کو سنجیدگی سے سونچیں اور اس کی بقاء کی خاطر اپنی ساری توانائی جھونک دیں۔ عوام کو بھی اس خطرے سے آگاہ کیا جائے تاکہ سب مل کر اس ملک کو بچانے میں اپنا تعاون پیش کر سکیں۔ یقیناً یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ کچھ دن آواز بلند کی جائے، احتجاجی صدائیں لگائی جائے اور پھر گوشۂ نسیان میں ڈال دیا جائے، جیسا کہ بارہا دیکھا گیا کہ ہر الیکشن کے بعد ای وی ایم کے خلاف کچھ دن احتجاجی مظاہرے ہوئے پھر اس پر پردۂ خمول ڈال دیا گیا، اور کام کرنے والے خاموشی سے اپنا کام کرتے چلے گئے اور ملک ایک اندوہناک صورت حال سے دوچار ہوتا چلا گیا۔

Related posts

2 Comments

  1. فاروق

    بیباکی اور جرات کے ساتھ آگے بڑھو ساری عوام آپ کے شانہ بشانہ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.