ملت ٹائمز کے دو سال مکمل 

آج ملت ٹائمز کو دو سال مکمل ہورہے ہیں، 18 جنوری 2018 دوسری سالگرہ ہے ، جنوری 2016 سے آج تک کے سفر کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہونچے ہیں کہ ملت ٹائمز کو قوم نے بطور ایک اخبار اور میڈیا ہاﺅس کے قبول کرلیا ہے ، ملت ٹائمز ان کی ضرورت کا حصہ بن گیا ہے ، احوال و کوائف سے باخبر رہنے کیلئے ملت ٹائمز کو پڑھا جارہا ہے ، اس کی خبروں کو بطور حوالہ پیش کیا جارہا ہے ، یہاں شائع ہونے والی رپوٹ موضوع بحث بن رہی ہے، فکر و نظر کا زوایہ تبدیل ہورہا ہے ، سماج میں بیداری اور حرکت پیدا ہورہی ہے ، مین اسٹریم میڈیا کے دفتروں میں ملت ٹائمز کی خبروں پر بحث ہورہی ہے ، اردو ،ہندی اور انگریزی کے اخبارات یہاں کی اسٹوری کو بنیاد بناکر اپنے اخبار میں خبریں شائع کررہے ہیں۔ یہی ایک اخبار کی کامیابی ہوتی ہے اور ملت ٹائمز کے حوالے سے یہ ساری چیزیں نظر آرہی ہے ، انہی امور کی بنیاد پر ہمارے حوصلے بلند ہیں، ملت ٹائمز سے وابستہ تمام اراکین پر جوش ہیں اور بے سر و سامانی کے عالم میں بھی اسے جاری رکھنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔
ملت ٹائمز نے نیوز پورٹلس اور اخبارات کی دنیا میں ایک منفرد شناخت قائم کرنے کی کوشش کی ہے، بلاوجہ کی پریس ریلیز، کسی کی ذاتی ستائش اور تعلقات کی بنیاد پر غیر ضروری خبروں کی اشاعت سے یہاں ہمیشہ گریز کیا گیا ہے، ملت ٹائمز نے اکثر ایسی خبریں شائع کی ہے جسے الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ انگریزی ، ہندی اور اردو کے پرنٹ اخبار نے بھی نظر انداز کرنے کی کوشش کی اور پھر بعد میں یہ چیزیں موضوع بحث بنی ، یہاں کبھی یہ نہیں دیکھا گیا کہ ٹائمز آف انڈیا نے کیا شائع کیا ہے بلکہ اس زوایہ سے سوچا گیا کہ کون سی خبر کا شائع ہونا ملک و ملت کے مفاد میں ہے اور مین اسٹریم میڈیا جان بوجھ کر اسے چھپارہا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ خبروں کی اشاعت سے زیادہ توجہ خبریں لکھنے، بنانے اور حقائق تک پہونچے میں رہتی ہے، میل آئی ڈی پر موصول ہونے والی ہر چیز کو شائع کرنے کے بجائے ضروری چیزوں کو تلاش کرنے کا اہتما م یہاں اہم ہوتا ہے ۔
ملت ٹائمز کے کارکنان نے صحافت اور عقیدت کے درمیان ہمیشہ فاصلہ بناکر رکھا، صحافتی اصول سے کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، ان امور کی بنیاد پر مسلسل تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن ملت ٹائمز کی اس حقیقت پر مبنی صحافت سے ملت کو مجموعی طور پر فائدہ ہوا ، جہاں تک بات تنقید اور مخالفت کی ہے تو یہ قارئین کا حق ہے ، وقتی طور پر جب کوئی چیز مزاج کے خلاف ہوتی ہے تو غصہ آہی جاتا ہے۔ ایسے ناقدین قارئین کا ملت ٹائمز نے ہمیشہ خیر مقدم کیا ہے۔ ان تنقیدوں کو مخالفت تصور کرنے کے بجائے خامیاں ڈھونڈنے اور اصلاح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جہاں پر غلطی نظر آتی ہے شکریہ کے ساتھ اصلاح کرلیتے ہیں جہاں ہم صحیح ہوتے ہیں وہاں بھی ناقدین کا شکریہ ادا کرکے مضبوطی کے ساتھ اپنے موقف پر قائم رہتے ہیں۔
ملت ٹائمز بنیادی طور پر ایک ویب سائٹ کا نام ہے جس کا آغاز 18 جنوری 2016 کو معروف عالم دین مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ہاتھوں ممبئی میں جامعہ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول بہار اور ادارہ دعوة السنہ مہاراشٹرا کے اشتراک سے امیر شریعت سادس میں مولانا سید نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات پر ہونے والے ایک سمینار میں ہوا تھا، اس موقع پر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا محمد سفیان قاسمی، مولانا محمد شاہد الحسینی، مولانا شیخ عبد الستار رحمۃ اللہ علیہ، مفتی محفوظ الرحمن عثمانی، مولانا شاہد الناصری الحنفی اور مفتی زاہد علی خان سمیت متعدد اہل علم شریک تھے۔ دو ماہ کے بعد ملت ٹائمز کا انگلش ورزن شروع کیا گیا، اسی انگلش ورزن میں کچھ خاص ہندی کی خبریں بھی شائع کی جاتی ہے، ایک سال مکمل ہونے کے بعد ملت ٹائمز نے اپنا موبائل ایپ بھی لانچ کیا جو گوگل پلے اسٹور پر موجود ہے۔ جولائی 2017 میں ملت ٹائمز نے یوٹیوب چینل کا بھی باضابطہ آغاز کیا اور سب سے پہلا انٹرویو مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ بیرسٹر اسد الدین اویسی کا نشر کیا گیا۔ دو سال مکمل ہونے پر ملت ٹائمز کی ایگزیکیٹیو باڈی نے گذشتہ سال کی طرح ایک سمینار کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے، تاریخ کا اعلان بہت جلد کیا جائے گا۔ اس موقع پر ملت ٹائمز کے ایک سالنامہ کا اجراء بھی عمل میں آئے گا جس میں یہاں شائع ہونے والے اہم مضامین ہوں گے ، اس کے علاوہ کچھ خاص خبروں کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے گا۔
ملت ٹائمز کی جب شروعات ہوئی تھی تو اس کا تعارف کرانے کیلئے شمس تبریز قاسمی کا نام لیا جارہا تھا، مگر آج معاملہ برعکس ہے ، دنیا کے 110 سے زائد ملکوں میں اب تک ملت ٹائمز کو پڑھا جاچکا ہے ، یوٹیوب چینل کے زائرین کی تعداد 202 ممالک تک پہونچ چکی ہے، فیس بک ، ٹوئٹر ، وہاٹس ایپ ، انسٹاگرام سمیت متعدد سوشل سائٹ کے ذریعہ بھی ہزاروں لوگ ملت ٹائمز سے وابستہ ہیں اور اس سے استفاد ہ کرتے ہیں۔ ملت ٹائمز کی یہ کامیابی تنہا کسی شخص کی نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے جو اس سے وابستہ ہیں اور ایک شوق و جذبہ کے تحت صحافت کے ذریعہ بغیر کسی نام و نمود کے خدمت قوم کے جذبہ سے سرشار ہیں، ظفر صدیقی قاسمی ، ارشاد ایوب ، ایف آئی فیضی ، عامر ظفر قاسمی ، نزہت جہاں ،محمد سفیان سیف، عارفہ حیدر خان ، نسیم اختر ، شہنواز ناظمی ، محمد شفیع انام ، عمران انعام دار ، فوزیہ رباب ، احمد ساقی ، محمد قیصر صدیقی ، سید محمد ذو القرنین ، احمد علی صدیقی، مظفر عالم راجا،سلمان دانش، انظر آفاق کے نام سرفہرست ہیں جن کا ملت ٹائمز کو مستقل تعاون ملتا ہے اور ان کی کوششوں سے ملت ٹائمز نے یہاں تک کا سفر طے کیا۔

ملت ٹائمز کا مستقبل کا کیا ہوگا، نہیں پتہ ؛ لیکن اتنا ضرور ہے کہ ابھی اردو ورزن کو ملک کے کسی بھی لیڈنگ اردو اخبار سے کئی گنا زیادہ پڑھا جاتاہے ، ٹی وی چینل یا اخبار کے نام پر ایک بڑی رقم خرچ کرکے جتنے قارئین تک پہونچا جاسکتا ہے فی الحال اس سے زیادہ لوگوں تک اس کی رسائی ہے، آئندہ دنوں میں اسے مزید بہتر بنانے کوشش کی جائے گی ۔ ویڈیوز اور فیس بک لائیو پروگرام کے بارے میں ناظرین کی عموماً شکایت رہتی ہے کہ آواز کم ہوتی ہے ، آئندہ دنوں میں ہم اسے بھی بہتر بنانے اور سدھار کرنے کی کوشش کریں گے۔

ملت ٹائمز کو یومیہ ایک لاکھ سے زائد ہٹس ملتے ہیں،کئی مرتنہ ایک دن میں تین لاکھ سے زائد لوگوں نے وزٹ کیا ہے جیساکہ اس رپوٹ میں دیکھاجاسکتا ہے
 گذشتہ دو سالوں کے دوران سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک انقلاب بھی برپا ہوا ہے، نوجوانوں ، مدارس اور یونیورسٹیز کے فضلاء کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا کو پلیٹ فارم بناتے ہوئے صحافت کی دنیا میں اپنے کیریئر کی شروعات کی ہے ، بہت سے دوستوں نے ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل کا آغاز کیا ہے ، ایسے تمام لوگوں کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں، انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اگر وہ کہیں پر ہماری مدد چاہتے ہیں تو ہماری پوری ٹیم ان کے تعاون کیلئے حاضر ہے۔
ملت ٹائمز کی اس کامیابی کا اصل سہرا دنیا بھر میں موجود ان قارئین ، محبین اور ناظرین کو جاتا ہے جنہوں نے اسے بطور میڈیا ہاﺅس قبول کیا ہے ۔ اسے پڑھتے ہیں ، مشمولات سے استفادہ کرتے ہیں، ویڈیوز دیکھتے ہیں اور اسے مزید بہتر شکل میں دیکھنے کی متمنی ہیں۔
 شمس تبریز قاسمی
 
ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *