ملت ٹائمز کی بیباک صحافت کو سلام

 صداقت پر مبنی صحافت کے لئے ملت ٹائمز قابل مبارک باد ہے، اور چیف ایڈیٹر جناب شمش تبریز قاسمی صاحب بھی جو اس زمانے میں جب کہ سچی خبروں کا بحران ہے خاندانی وجاہت علمی نسبت اور شخصیت پرستی کی مناسبت سے صحافت کی جاتی ہے،اور علمی لیاقت خاندانی نسبت کے پس پردہ سچائیوں کو چھپادیا جاتا ہے ایسے میں ملت ٹائمز ہر سچی اور منصفانہ رپوٹنگ کے ذریعہ امت کو حق بات سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
مولانا سلمان ندوی کے موقف پر ملت ٹائمز نے سچی تصویر پیش کی ہے، مگر کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ملت ٹائمز جانبداری سے کام لے رہا ہے اور بورڈ کی بنسبت مولانا کو بدنام کرنے کی کوشش کررہا ہے، حالانکہ میں نے ساری رپوٹنگ اور ساری ویڈیوز دیکھی ہیں، ملت ٹائمز نے جو کچھ بھی کہا ہے صداقت پر مبنی ہے، اگر کسی کا موقف غلط ہے تو اس کو غلط ہی کہا جائے گا، صحافت حسب نسب، خاندانی لیاقت پر نہیں ہوتی۔
سر سید احمد خان رحمتہ اللہ علیہ نے جب علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی بنیاد رکھی، تو مولانا قاسم نانوتویؒ، بانی دارالعلوم دیوبند نے سید صاحب کو خط لکھا اور کہا کہ سید صاحب شریعت ہمیشہ سے عقل کی امام رہی ہے یہ ہو نہیں سکتا کہ عقل مقدم ہوجائے اور شریعت کو چھوڑ دیا جائے، انصاف اور غیر جانبداری یہ ہے کہ جو غلط ہے اس کو غلط کہا جائے، مولانا سلمان ندوی صاحب نے بورڈ پر الزام لگایا کہ ان کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا، حالانکہ مولانا سید ارشد مدنی صاحب نے اپنے انٹرویو میں واضح کردیا ہے کہ: مولانا کو بولنے کا پورا موقع دیا گیا مگر جب تقریر لمبی ہورہی تھی تو کچھ لوگوں نے ان کو ٹوکا، مولانا ندوی صاحب نے شروع ہی سے شخصیات کو متنازع بنانا چاہا پہلے مولانا سجاد نعمانی، پھر اسدالدین اویسی، یہ اور بات ہے کہ اویسی نے بھی مولانا پر تلخ زبان استعمال کی جس کی ضرورت نہیں تھی، لیکن اس کے بعد سے لوگ سوشل میڈیا پر اویسی کو ہی نشانہ بنانے لگے، کہ اصل مجرم اویسی ہی ہے حالانکہ ان کو بولنے کا موقع، خود حضرت نے ہی فراہم کیا تھا، اس لئے مولانا کی غلطی پر ان کی علمی لیاقت خاندانی نسبت کا سہارا لے کر الزام ملت ٹائمز کے سر ڈال دینا، کہاں کا انصاف اور کہاں کی روا داری ہے؟
علماء اور بھی ہیں مسلم پرسنل لاء بورڈ میں بھی اکابر علماء ہیں، مولانا سجاد نعمانی صاحب علمی لیاقت، اور دیگر صلاحیتوں میں مولانا سلمان صاحب سے کم نہیں، مولانا ولی رحمانی اس خوانوادہ کے چشم و چراغ ہیں جہاں سے ندوہ کی بنیاد قائم ہوئی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، فقیہ العصر ہیں قرآن و حدیث، فقہ اسلامی، قول راجح اور مرجوح پر نظر عمیق رکھتے ہیں، مولانا ارشد مدنی صاحب محتاج تعارف نہیں، کیا ان سب کا اجتماعی موقف، مولانا سلمان صاحب کے موقف کے سامنے غلط ہوگیا؟
ملت ٹائمز کو قصور وار ٹھہرانے کے بجائے مولانا کے حاملین ان کے موقف کی خامیوں پر غور کریں اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو بات واضح ہو جائے گی
امت کو اتحاد کی ضرورت ہے، بھائی چارہ کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم اپنے اندر بین المسالک اتحاد نہیں کریں گے، ہم بین المذاہب کیسے اتحاد قائم کر سکتے ہیں؟۔ بہتر ہوگا کہ امت اسی موقف پر قائم رہے جو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کا موقف ہے اور ایک دوسرے کی شان میں گستاخیاں کرکے ماحول کو خراب نہ کریں بلکہ میں درخواست کروں گا کہ اب سوشل پلیٹ فارم پر اس بحث کو ختم کردجا ئے!
حافظ سیف الاسلام مدنی
( مدنی نور گنج پکھرایاں کانپور دیہات یوپی)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *