ملک کو بچانا ہم سب کی ذمہ داری

مفتی محمد امام الدین قاسمی
اس وقت ملک نازک حالات سے گذر رہا ہے، ملک کی سا لمیت اور جمہوریت بحران کی شکار ہے، ملک کی اقلیت اوردلت آبادی آر ایس ایس کے ہاتھوں مسلسل ظلم کی شکار ہے، گؤ رکشا کے نام پر گائے کا گوشت لے جانے اسے ذبح کر نے اور فروخت کر نے کا جھو ٹا الزام لگا کر بھیڑ کے ہاتھوں ایک بے قصور انسان کا پیٹ پیٹ کر بے رحمی سے قتل کیا جانا آئے دن کا واقعہ ہو گیاہے قدم قدم پہ فتنوں کا ہجوم ہے ، خواہشات نفس کی رغبت جس کی تکمیل کے لئے ہر قسم کی سہولتیں بآ سانی فراہم ہے برائیوں کو عروج اور اچھائیوں کو زوال کی طرف لے جایا جا رہا ہے ،بے حیائی و بے شرمی ، بدکاری و بد اخلاقی کا بازار گرم ہے ،عورتوں کو ان کاحق دلانے کے نام پر بے پردگی کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے ان کو سر بازار دکانوں کی زینت بنایا جا رہا ہے، تین طلاق کے بہانے مسلمانوں کے پرسنل لا اور شریعت میں بے جا مداخلت کی ناپاک کوشش ہو رہی ہے ،سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ بلند کیا جا رہا ہے مگر ظلم و ستم پر خاموشی بھی اختیار کی جا رہی ہے ، ایک طرف بینک کاری کو لازم قرار دیا گیا وہیں دوسری جانب کروڑوں روپے لے کر بھاگنے والے شخص کو راہ فرارہونے کا موقع دیا جا رہا ہے ، کسان خود کشی کر رہے ہیں، آذانوں پر پابندی لگانے کی بات کی جا رہی ہے، قانون کے محافظ اور تحفظات کی ذمہ داری سنبھالنے والے افراد بھی مسلم دشمنی پر کمر بستہ ہیں،دہشت گردی کے نام پر مسلم نوجوانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنا عام سی بات ہو گئی ہے، بعض جگہ تو ہجوم نے حد کر دی کہ بے قصور انسان کو موت کے نیند سلا دیا اور حکومتیں خاموش تماشائی بنی رہی،ائمہ و مو ¿ذن کو بھی بلا وجہ شہیدکیا جا رہا ہے ،افسوس تو اس بات کا ہے کہ ملک میں گھوٹالے پر گھوٹالے ہو رہے ہیں، اخبار اور نیوز چینلوں پر خبر نشر ہو نے کے با وجود عوام کے پسینہ کی کمائی ضائع ہو رہی ہے ، تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی کاشکار ہے،انسانیت ایک ایسے انقلاب کی منتظر ہے جو تمام حقوق فراہم کرا سکے ایسے ماحول اور فضاء کی تلاش میں ہے جہاں عدل و انصاف کی روشن کرنیں نمودار ہوں ۔
الغرض پورے ملک میں بد امنی پھیلی ہو ئی ہے امن و امان کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے ان نازک حالات میں ملک، عوام اور مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں اور دلتوں کے تعلق سے ہماری ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔ ایسے وقت میں ضروری ہے کہ ہندو مسلم اتحاد پیدا کیا جا ئے ملک کے جملہ باشندوں کے درمیان آپسی محبت اور بھائی چارگی کا ماحول قائم کیا جائے، گاؤں ، دیہات، شہر پنچایت غرضیکہ ہر سطح پر کوشش کی جائے، خاص طور پر برادران وطن اور کمزور طبقات کو بھی اس کوشش میں شامل کیا جائے تاکہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت ممکن ہو سکے۔ اشتعال انگیز بیانات سے احتراز کیا جائے، تاکہ کسی مذہب ، کسی قوم اور برادری کی توہین نہ ہو۔
ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اس بات کا عہد کریں کہ امن وانصاف کے علمبردار مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم امیر شریعت امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھار کھنڈ، جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈو سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کے ذریعہ چلائی جارہی تحریک ”دین بچاﺅ دیش بچاﺅ“ کو پورے ملک کی عوام مل کر کامیاب بنائےں گے اور ۱۵ اپریل کو گاندھی میدان میں پہنچ کر ایک زندہ شہری ہونے کا ثبوت پیش کریں۔تا کہ ملک میں عدل و انصاف، امن و سکون ، اخوت و بھائی چارگی ، ایثار و محبت ، عصمت و عفت کی حفاظت ہو سکے اور ملک کی سا لمیت کی راہ ہموار اور ملک کا وقار بحال ہو سکے۔
(مضمون نگار مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ پٹنہ سے وابستہ ہیں)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *