انصاف کی جیت! لیکن ایک جنگ ابھی باقی ہے

خبر درخبر ۔(551)
شمس تبریز قاسمی
8 مارچ اہم ترین تاریخوں میں سے ایک ہے ،دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین منایاجاتاہے لیکن 2018 کے 8 مارچ کو خصوصیت کے ساتھ یا درکھا جائے گا کیوں کہ اس تاریخ میںایک خاتون کو ہندوستان کی سب سے بڑی عدلیہ سے آزادی ملی ،عالمی یوم خواتین پر کیرالہ کی ڈاکٹر ہادیہ کو انصاف ملااور اپنے شوہر کے ساتھ قانونی طور پر زندگی بسرکا موقع نصیب ہوا ۔
ہادیہ کیرالا سے تعلق رکھتی ہیں ،2011 میں اسلام سے متاثر ہونا شروع ہوئی اور2015میں انہوں نے اسلام قبول کرلیا ،دسمبر 2016 میں شفیع جہاں سے شادی ہوئی لیکن اس کے بعد کی زندگی مشکل بنتی چلی گئی ،باپ نے مقدمہ کردیا ،آر ایس ایس اور حکومت کی پوری مشنری اس کے خلاف ہوگئی ، حقوق نسواں کی علمبر دار خواتین نے بھی ساتھ نہیں دیا ،لبرل اور کمیونسٹوں نے بھی کھل کر ہادیہ کے حق میں آواز بلندنہیں کی ، میڈیا نے لوجہاد سے آگے بڑھ کر کوئی رپوٹنگ نہیں کی، ملی تنظیموں نے بھی تعاون کرنے سے انکار کردیا، معاملہ کیرالاہائی کورٹ پہونچ گیا اور وہاں سے ایک ایسافیصلہ صاد کیاگیا جس پر ساری دنیا انگشت بدنداں رہ گئی ۔ہادیہ اور شفیع جہاں نے سپریم کورٹ کا دروزاہ کھٹکھٹایا اور بالآخر 8 مارچ 2018 کو عدالت عظمی نے کیرالاہا ئی کورٹ کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے ہادیہ ۔ شفیع کی شادی بحال کرنے کا تاریخی فیصلہ سنایا۔ہادیہ کے قبول اسلام اور اس کے بعد کی مکمل تفصیلات جاننے کیلئے میرے ایک گذشتہ کالم کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا ،پڑھنے کیلئے یہاں دیئے گئے لنک پر کلک کریں ۔

ڈاکٹر ہادیہ کے قبول اسلام کا سفر ،فولادی عزم اور آر ایس ایس کی بوکھلاہٹ
ڈاکٹر ہادیہ اذیتوں ،پریشانیوں ،حراست ،تشد د سماجی عصبیت کا درد جھیلنے کے بعد آج قانونی طور پر آزاد فضاءمیں سانس لینے لگی ہے لیکن اس کے پیچھے ایک دردناک کہانی بھی چھپی ہے ۔ یہ کہانی حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مختلف نہیں ہے ۔یہ سب ہادیہ کے ساتھ اس لئے ہوا کہ اس نے اسلام قبول کیا ،مذہب اسلام کو سینے سے لگایا ۔ہادیہ کے عزم وحوصلہ کو سلام !جس کے پائے ثبات میں ذرہ برابر بھی لغزش نہیں آئی ،این آئی اے اور کیرالاہائی کورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک میں اس نے صاف لفظوں میں کہاکہ میں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور اسی پر قائم رہوں گی ۔
ڈاکٹر ہادیہ کی اس آزادی اور قانونی لڑائی میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا کا کردار ہمیشہ یاد رکھاجائے گا ۔ ڈاکٹر ہادیہ بتاتی ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے کئی مسلم تنظیموں سے مدد کی اپیل کی ،ان سے قانونی امداد طلب کی لیکن کسی نے ساتھ نہیں دیا ،مشکل وقت میں اسے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کا سہار املا ،پی ایف آئی کی خواتین ونگ نیشنل وویمن فرنٹ نے مالاپور میں واقع اپنے دارالاسلام میں انہیں ٹھہرایا ،صدرمحترمہ ایس اے زینبا نے اپنی اولاد کی طرح ہادیہ سے سلو ک کیا،ان کی شاد ی کرائی جب باپ نے کیرالاہائی کورٹ میں شادی کو ختم کرنے کیلئے عرضی داخل کردی تو وہاں بھی پی ایف آئی نے مکمل مدد کی اوراس قانونی جنگ میں پوری مدد جاری رہی ۔
ڈاکٹر ہادیہ کے قبول اسلام کو آر ایس ایس اور ہندتوا تنظیموں نے اپنی انا کا مسئلہ بنالیا تھا،ہر ممکن ہادیہ کو شفیع جہاں سے علاحدہ کرنے اور اسلام چھوڑنے کی کوشش کی تھی لیکن ہادیہ کے مضبوط ایمان کے سامنے کوئی بھی تدبیر کام نہیں آسکی اور اسلام کی حقانیت غالب رہی ۔پی ایف آئی کی قانونی امداد بھی فرقہ پرست عناصر کو برداشت نہیں ہے ۔ ہادیہ کا کیس لڑنے کے بعد یہ تنظیم حکومت کے مسلسل نشانے پر ہے ۔جھارکھنڈ میں پابندی لگائی جاچکی ہے جبکہ ملک بھر میں کچھ لوگ پابندی لگانے کی سازش کررہے ہیں ۔
ڈاکٹر ہادیہ کو سپریم کورٹ سے انصاف ضرور مل گیاہے لیکن یہ ادھورا ہے ،تمام تر کوششوں کے بعد جب ہادیہ کے قدم میں کوئی لر کھڑاہٹ پیدا نہیں ہوئی ہے تو اس کے شوہر شفیغ جہاں پر دہشت گردی کا الزام عائد کرکے انہیں نشانہ بنا یا جارہاہے ،این آئی اے اس کی تحقیق بھی کررہی ہے ،سپریم کورٹ نے بھی این آئی اے کی تحقیق ابھی بند نہیں کرائی ہے ہر چند کہ ایک گذشتہ سنوائی میں سپریم کورٹ نے کہاتھاکہ این آئی اے کی تحقیق کا یہاں کا کوئی مطلب نہیں بنتاہے ۔حالاں کہ شفیع جہاں پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا کوئی الزام نہیں ہے ،اب تک کی پولس رپوٹ میں صرف اتنا کہاگیاہے کہ شفیع جہاں ایک ایسے فیس بک پیج کا ایڈمن ہے جس کے فلوورز میں ایک ایسا نوجوان بھی شامل ہے جس پر داعش سے تعلق رکھنے کا الزام ہے ۔ ماہرین قانون اور تجزیہ نگاروں کے مطابق شفیع جہاں اور ہادیہ کوایک دوسرے سے دوررکھنے کی یہ محض ایک سازش ہے ۔
ڈاکٹر ہادیہ کی ایمانی جرات ،شجاعت ،عزم ،حوصلہ اورجذبہ کو سلام،ان کی زندگی کیلئے نیک خواہشات ،پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چیرمین ای ابوبکر ،نیشنل وویمن فرنٹ کی صدر ایس اے زینبا اور دیگر ذمہ داروں کو تہ دل سے مبارکباد ۔
stqasmi@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *