بابری مسجد معاملہ کی اگلی سماعت 23 مارچ کو ہوگی ۔سبرامینم سوامی اور تیستا سمیت 32 مداخلت کاروں کی درخواست مسترد

دہلی14 مارچ(ملت ٹائمز عامر ظفر)
بابری مسجد – رام جنم بھومی تنازع کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے واضح کردیا ہے کہ اب اس معاملہ میں کوئی بھی تیسرا فریق دخل نہیں دے سکتا ہے۔ تیستا سیتلواڑ ، اپرنا سین اور شیام بنیگل سمیت 32 ایسی درخواستوں کو عدالت عظمی نے مسترد کردیا ، جس میں مداخلت کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ عدالت نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ وہ کسی بھی فریق کو سمجھوتہ کیلئے نہیں کہہ سکتا ہے۔سپریم کورٹ کے مطابق یہ دونوں ہی فریقوں کے درمیان کا معاملہ اور اس کیلئے عدالت کسی کو بھی سمجھوتہ کیلئے پابند نہیں بناسکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سپریم کورٹ نے سبرامنیم سوامی کی عرضی کو بھی خارج کردیا۔عدالت نے سوامی سے پوچھ کہ انہیں اس معاملہ میں تیسرے فریق کے طور پر شامل ہونے کی اجازت کیوں دی جائے۔
بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی نے ملت ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہاکہ آج اس بات پر بحث ہوئی کہ معاملہ کی کاروائی قانونی بینچ کے سپرد کی جائے گی یا نہیں،انہوں نے بتایاکہ وکلاءکے بحث کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشر ا کی بینچ نے اگلی سماعت کی تاریخ 23 مارچ مقرر کردی ہے ۔
قبل ازیں عدالت کی کاروائی شروع ہوتے وقت آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ اور جمعیة علماءہند کے وکیل نے عدالت سے گذارش کی کہ وہ سب سے پہلے ان لوگوں پر عدالت میں داخل ہونے کی پابندی عائد کرے جنہیں ابھی تک اس معاملے میں بطور فریق تسلیم نہیں کیا گیا ہے ، وکلاءکااشارہ ڈاکٹر سبرامینم سوامی اوردیگر مداخلت کاروں کی طرف تھا۔ذرائع کے مطابق جمعیة علماءہند کے وکیل اعجاز مقبول نے چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشراءکی سربراہی والی تین رکنی بینچ کو بتایا کہ اس سے قبل کی سماعت پرعدالت یہ واضح کرچکی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کاروں کی عرضداشتوں پر فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد کوئی فیصلہ کرے گی اس کے باجود مداخلت کار عدالت میں گھس کر عدالتی کام کاج میں رخنہ اندازی کررہے ہیں جس کے بعد تین رکنی بینچ نے باقاعدہ آرڈر پاس کرتے ہوئے تمام مداخلت کاروں کی درخواستوں کو فی الحال ٹھنڈے بستہ میں ڈال دیا جس کے بعد ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے عدالت کوبتایاکہ اس معاملے کی سماعت اسی کی عرضداشت پر شروع ہوئی اور آج اسے ہی عدالت سے باہرکردیا جارہا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ان کی عرضداشت پر الگ سے سماعت ہوگی۔ایڈوکیٹ اعجاز مقبول کی درخواست پر چیف جسٹس نے رجسٹرار کو بھی حکم دیا کہ وہ اب کسی بھی طرح کی عرضداشتوں کو قبول نہ کرے ۔
جمعیةعلماءہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے ملت ٹائمز سے بات کرتے ہوئے آج کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے انہوں نے اپنے وکیل کے اس موقف کی تائید کی کہ مقدمہ کو سماعت کے لئے ایک وسیع تر بینچ کے حوالہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ معاملہ کی اہمیت اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ ایک وسیع تر بینچ اس مقدمہ کی سماعت کریے مولانا مدنی نے کہا کہ ہم باربار یہ بات کہتے آئے ہیں کہ ہم عدلیہ اور قانون کا احترام کرتے ہیں اور اس مقدمہ میں بھی عدالت کا جو فیصلہ ہوگا قابل قبول ہوگا لیکن چونکہ مقدمہ اب حتمی مرحلہ میں داخل ہے اور اس تعلق سے قانونی عمل کا آغاز ہوچکا ہے اس لئے میں تمام لوگوں سے یہ اپیل کروں گا کہ وہ اس معاملہ میں کسی طرح کی بیان بازی سے گریز کریں اور خاموشی کے ساتھ عدالت کے فیصلہ کا انتظارکریں انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہی نہیں مکمل یقین ہے کہ اس مقدمہ میں عدالت دوسرے معاملہ کی طرح انصاف کریگی ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ میں مقدمہ کے ہر پہلوپر بحث کے لئے جمعیةعلماءہند نے ملک کے ناموروکلاءکی ایک پوری ٹیم کھڑی کردی ہے ۔
آل انڈیامسلم پرسنل لاءبورڈ کے سکریٹری ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی نے ملت ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ آج سے سماعت شروع ہوگئی ہے ،عدلیہ میں ہمارے دلائل مضبوط اور قوی ہیں،ہم عدلیہ کے فیصلہ پر یقین کریں گے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں شری شری روی شنکر کے حالیہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ وہ معاملہ کو خراب کررہے ہیں ،انہیں اس وقت صلح صفائی کی مہم چلانے کے بجائے ہند ﺅوں کے درمیان یہ مہم چلانی چاہیئے کہ وہ قانون پر اعتماد کریں اور عدلیہ کے فیصلہ کو قبول کرنے کا جذبہ پیداکریں ۔
ذرائع کے مطابق سماعت کے دوران ایڈوکیٹ اعجاز مقبول نے اتر پردیش حکومت کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتا پر بھی نشانہ سادھا اور کہا کہ وہ بجائے اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کرنے کے اکثریتی فرقہ کے قریب دکھائی دے رہے ہیں جس کا عدالت کو نوٹس لینا چاہئے۔مداخلت کاروں کی عرضداشت پر کارروائی کرنے کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت پانچ یا سات رکنی بینچ پر کیئے جانے والی عرضداشت پر سنوائی کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ۔عیاں رہے کہ اس سے قبل کی سماعت پر تین رکنی بینچ اس بات پر بضد تھی کہ وہی معاملے کی سماعت کریگی لیکن مسلم فریق کے وکلاءکے دلائل کے بعد عدالت اس بات پر راضی ہوئی کہ وہ معاملے کی باقاعدہ سماعت شروع ہونے سے پہلے اس مدعا پر فیصلہ کرنا چاہتی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *