بہت ہو چکا، اب بس بھی کرو ! 

یاور رحمٰن
ملک کا سیاسی منظر نامہ جب سے تبدیل ہوا ہے مسلم قائدین کے کندھوں کا بوجھ اچانک سو گنا بڑھ گیا ہے۔ شریعت انتہائی ‘غیر محفوظ’ ہو گئی ہے اور اسلام ‘سخت خطرے’ میں پڑ گیا ہے۔ تین طلاق کی ‘ہفت اقلیم’ لٹ چکی ہے اور بابری مسجد کی ‘تعمیر نو’ اچانک نا ممکن سی ہو گئی ہے۔ یعنی سیاست کی اک شفیق گود کے اجڑ  جانے سے امّت مسلمہ یکبارگی ‘اناتھ’ ہو گئی ہے۔ بات صرف مسلمانوں کے جان و مال کی ہوتی تو فکر کی کوئی خاص بات نہیں تھی، یہ بیچارے تو قربانی دیتے ہی رہتے ہیں، مسلہ تو یہ ہے کہ ‘پرسنل لاء’ خطرات میں گھر گیا ہے۔  ‘گاندھی آشرم’ کی سیکولر چھاؤں میں یہ جتنا محفوظ و مامون تھا، اب اسی قدر غیر محفوظ ہو گیا ہے۔
 بلا کی اسی ‘فکر مندی’ نے صف اول کے مسلم ذہنوں کو اک عجیب سی نفسیاتی کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔خود اپنے کوزوں میں مقید متعدد دائروں میں ناچ رہی قیادت کو ملک کے عمومی حالات و واقعات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اسے ان سوالوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ ملک کی سیاست کس رخ پہ ہے؟ معاشی اصلاحات کی نئی پالیسیوں میں ہمارا حصّہ کیا ہو سکتا ہے اور نفرت کے تیز بہاؤ میں تیرتا ہوا ہندوستانی معاشرہ تباہی کی کن منزلوں تک پہنچ چکا ہے ؟ بس شریعت کے تحفظ کی ایک ہی فکر ہے جو امت کی ‘فرقہ رو اجتماعیت’ کو گھن کی طرح کھاۓ جا رہی ہے۔ قیادت بھی مبتلاۓ غم ہے اور امت کو بھی شکوہاے رنج ہے کہ ایمان و عقیدے کی پونجی بس لٹی چاہتی ہے۔ خیر سے یہ سادہ دل نیاز مند اگلی صدی تک کے خراٹے خرید کر سوۓ ہوئے ہیں۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ انکی قوم کے مخلص ٹھیکیدار سب کچھ ایک ہی متقیانہ پھونک سے ٹھیک کر لیں گے۔
انھیں یہ اطمینان  مہد مادر سے ہی حاصل ہے ، جب شعور کی آہٹوں کے ساتھ ہی انھیں یہ ازبر کرا دیا گیا تھا کہ ” خطا ے بزرگاں گرفتن خطا است”۔ پھر مذہبی گہواروں نے عقل و خرد پر مزید شکنجہ کستے ہوئے پڑھایا کہ ” بزرگوں کی الٹی بھی سیدھی ہوتی ہے” ۔
پھر تو تعلیم بالغاں کے اس نسخۂ کیمیا نے قوم و ملّت کی غالب اکثریت کو آج تک ‘بالغ’ ہی نہیں ہونے دیا۔  اسلام جو ”حبل اللّه” تھا وہ مسلکی رسہ کشی میں بس رسی کے کام آنے لگا اور ‘مذہب’ نے اچھے خاصے دماغوں کو اپاہج بنا دیا۔ اس لئے ملت مسلم اک عرصے سے سٹریچر پر پڑے  دم آخر کے مریض کی طرح بس بیچارگی سے اپنے ‘کنفیوز ڈ معالجوں’ کا منہ تک رہی ہے۔
بابری مسجد کا مسلہ اس وقت توے پر جل رہی روٹی کی طرح ہے، جو بھی اسے اتارنا چاہتا ہے اس کا ہاتھ جل جاتا ہے۔ اور کمبخت روٹی ہے کہ توے سے چپکی پڑی ہے۔ دراصل یہ روٹی دو قومی چولہے پر فرقہ پرستی کی آگ میں ایک عرصے سے جل رہی ہے۔ جلی ہوئی اس روٹی نے بی جے پی کو اقتدار کی کرسی تک پہنچانے میں جتنا اہم کردار ادا کیا ہے، اتنا ہی اہم رول اس نے مسلمانوں کو ‘بےدست و پا’ کرنے میں بھی نبھایا ہے۔ اگر مسلم قیادتوں میں ذرا بھی حکمت و دانائی ہوتی تو فرقہ پرستوں کا یہ ‘ہتھیار’ پہلے ہی ‘حملے’ میں بھیگے ہوئے پٹاخے کی طرح بے دم ثابت ہو جاتا۔ مگر قربان جائیے بے مہر جذبات کے ان کھوکھلے نعرہ سازوں پر جو اپنے ایمان کو ٹٹولے بغیر اس اسلام کے دفاع میں لگ جاتے ہیں جو خود دافع بلیات ہے۔
گزشتہ دنوں بے ہوش جوش کے ماہر ایک ‘عالم’ صاحب ڈھلتی شام کی سمندری موجوں کی طرح بڑے طمطراق سے اٹھے۔ حالانکہ مدرسے کے ساکت و جامد احاطے سے اچھل کر سٹیلائٹ کی بلندیوں پر اچانک پہنچ جانا بھی کسی کرامت سے کم نہیں تھا۔ مگر آنکھوں کو متحیر کر دینے والی کرامتوں سے زمینی حقائق کبھی نہیں بدلتے۔ ورنہ آٹھ صدیوں پر محیط سلطنت مغلیہ آج “مغلئی ڈش” کے شکم پرور فیشنوں کی صورت زندہ درگور نہ ہو جاتی!
لہذا حضرت کی اس کرامتی چھلانگ نے ٹھہرے ہوئے پانی میں سواۓ اک کنکر مار کر خود اپنو ں کو رسوا کر دینے کے کوئی اچھا کارنامہ انجام نہیں دیا۔ حضور والا صفات نے اپنے ہی ایک ہمسر عالم کو فرقہ پرستی کے ‘لاؤنچیگ پیڈ’ سے زمانے بھر میں رسوا کیا۔ اتنا ہی نہیں، بلکہ “مفسر” ، “محدث” اور “مجتہد” ہونے کے زعم میں مبتلا حضرت نے بورڈ کے چار معزز ارکان کے عقیدۂ رسالت پر بھی سوال اٹھا دیا۔ وہ تو اچھا ہوا کہ اس معاملے میں ان سب ارکان  نے خاموشی اختیار کی، ورنہ بات بڑی دور تلک جاتی !
حضرت اگر واقعی ایک نرم خو دا عی اسلام ہوتے اور اپنے اسی موقف کا اظہار وہ گھر سے باہر تک سلیقے اور حکمت کے ساتھ کرتے تو اس کا اثر بڑا مثبت پڑتا۔ اور بورڈ کی بعض نا مناسب حکمت عملی کی اصلاح بھی ہوتی۔ ویسے بھی بابری مسجد تناز عہ کے ‘حل’ کے لئے جن ‘آرٹسٹ صاحب’ سے وہ مدد لے رہے تھے، انکی اصلیت ظاہر ہوجانے کے بعد اب تو خود حضرت کی علمی، فکری اور نظریاتی سطح بہت سی سنجیدہ نگاہوں کو کھٹکنے لگی ہے۔
گزشتہ دنوں ایک ‘دانشور’ صاحب نے ‘عالم’ صاحب کے موقف کی جزوی تائید کی ہے۔ سچ کہیں تو یہ آواز پہلی آواز کے مقابلے زیادہ سنجیدہ ہوتی اگر وہ کسی ‘حکومتی ادارے’ کے سربراہ نہ ہوتے۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان ایک صحافی بھی ہیں، مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر اور اسکی مجلس عاملہ کے رکن بھی ہیں۔ اور عرب میڈیا میں معروف ہونے کے ساتھ ساتھ ہند میں مسلہ فلسطین کے ماہر بھی سمجھے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے سوچا کہ جس طرح عالم صاحب یعنی سلمان صاحب   ‘جرم بغاوت’ کی سزا میں بورڈ سے باہر کر دیے گئے بالکل اسی طرح ‘دانشور صاحب’ یعنی ظفر الاسلام صاحب بھی مشاورت سے ‘سزایاب’ ہونگے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ شاید اس لئے کہ  انکی ‘بغاوت’ میں سلیقہ آمیز  سنجیدگی تھی۔
 اس سلسلے میں اک تیسری آواز بھی اسی موقف کو لیکر ابھری تھی۔ وہ آواز دین کے اک خاموش داعی طارق عبد اللّه صاحب کی تھی۔ یہ صاحب برادران وطن کے بیچ اسلام کی دعوت و تبلیغ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔ مگر انکی آواز نقار خانے کے شور میں دب گئی۔ شاید اس لئے کہ وہ کسی آدھی سیاسی آدھی مذہبی تنظیم کے ‘معروف سربراہ’ نہیں ہیں۔ بہر حال، ان تینوں حضرات کے موقف کی سب سے بڑی خامی یہی ہے کہ انکا یہ ‘حسن اخلاق’ کچھوے کی فتح کے انتہائی قریب آنے کے بعد جاگا ہے۔
دوسری طرف عالموں، زاہدوں، متقیوں اور قانون کے ماہروں کا بورڈ ہے جو مسجد کے صرف اور صرف چھین لئے جانے کا منتظر ہے۔ اسے خدا کے سامنے جواب دہی کے لئے بس ایک عدد ‘عذر’ کا انتظار ہے۔ اسے رسم نکاح سے زیادہ سانحۂ طلاق کی فکر ہے۔  نکاح کے بغیر نہ جانے کتنی بیٹیاں کوٹھوں پر بوڑھی ہو رہی ہیں اور طلاق ثلا ثہ کی بدعت نے اک ‘حلالہ’ کو ‘حرامہ’ کر دیا ہے مگر دختران ملت کے سرپرستوں کا کمال تقویٰ یہی ہے کہ فروع سے کبھی اور کسی حال بھی انحراف نہ ہو، چاہے اصول کا جنازہ نکل جاۓ۔
کتنی حیرت انگیز بات ہے، وزیر اعظم عرب ممالک کا دورہ کرتے ہیں، مسلم ممالک کے سربراہان آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والے اس ملک میں لگتا ہی نہیں ہے کہ یہاں ان مسلمانوں کی کوئی کمیونٹی لیڈرشپ بھی موجود ہے۔ اک بدمزاج چڑچڑے اور مایوس شخص کا سا رویہ اپنانےوالی مسلم قیادت اتنا بھی نہیں سمجھتی کہ گھر کے عمومی مسائل سے بے فکر رہنے والے فیملی ممبرز کی حیثیت پرانے ٹوٹے پھوٹے فرنیچر جیسی ہو نے میں دیر نہیں لگتی۔ یہ سوچتی ہی نہیں کہ شکایتیں صرف اور صرف مضحکہ خیز حکایتوں کو جنم دیتی ہیں۔ اور مظلومی کی نفسیات اک انسان کو ہی نہیں بلکہ قوموں کو بھی اپاہج بنا دیتی ہے۔
کیسا عجیب منظر ہے، ایک طرف ہمارے ملک کا سیاسی، سماجی اور معاشی نقشہ انتہائی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اور دوسری طرف اس ملک کے کروڑوں مسلمان اس شریعت کی فکر میں گویا گھلے جا رہے ہیں جو خود ان کے آنگنوں میں بے آبرو ہو رہی ہے۔ یہ اس اسلام کے ‘تحفظ’ میں لگا دیے گئے ہیں جو خود انکے اپنے معاشرے میں آج بھی اجنبی ہی ہے۔
 تین طلاق پر مودی حکومت کی سپر فاسٹ باولنگ پر کلین بولڈ ہو چکے اس بورڈ نے غیرت قومی کا لاجواب مظاھرہ کرتے ہوئے خواتین کو سڑکوں پر اتار دیا ہے۔ یعنی جس شریعت کے حوالے دے دے کر خواتین پر مسجد کے دروازے تک بند تھے ، اب اسی شریعت کے ‘تحفظ’ کی خاطر انھیں بسوں اور ٹرکوں میں بھر بھر کر اک لا یعنی احتجاج کے لئے سڑکوں پر پولیس اور انتظامیہ کی ‘نگہداشت’ میں گھمایا جا رہا ہے۔ یعنی کمال کا ‘تحفظ شریعت’ ہو رہا ہے۔
جی میں آتا ہے کہ چیخ چیخ کر پوچھوں  کہ اخباری اشتہارات ، سیمیناروں، احتجاجوں اور جلسوں پر عوامی چندوں کے کروڑوں روپے لٹانے والے خودساختہ قائدو ! ان ملی ڈھکوسلوں کو چھوڑ کر اب کرنے کے اصل کام کیوں نہیں کرتے ؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم اپنے تمام سابقہ رویوں کو بدلو؟ بہترین حکمت عملی اختیار کرو اور ماحول کی سازگاری کا کوئی راستہ نکالو ؟؟؟
 یہ کیا کہ تم سب نے ملکر ہم سب کو سامان تجارت کی طرح اپنی اپنی دکانوں پر سجا رکھا ہے! اب تو کوئی خریدار بھی ہماری طرف نگاہ اٹھا کے نہیں دیکھتا! یہ کس دیار سیاست میں ہمیں لے آئے ہو ؟ ہم تو برابری کے حقدار تھے۔ تمہی نے ہمیں اس حال میں پہنچایا کہ ہم تیسرے درجے کے شہری بنا دیے گئے۔  ہم کسی کی جاگیر نہیں تھے لیکن تمہاری ‘آدھی مذہبی آدھی سیاسی جاگیرداری’ نے ہمیں جب چاہا کسی کے سر کی ٹوپی بنا دیا تو کسی کے پاؤں کی جوتی۔ اب بہت ہو چکا۔  تمہاری نیتوں کا حال خدا ہی جانتا ہے، تمہاری صلاحیتوں سے ہمارا اعتماد اٹھ چکا۔ اب آخری دم ہے، نکال سکتے ہو تو کوئی راستہ نکالو ! اگر نہیں نکال سکتے تو اک کام کرو ، ابھی اور اسی وقت اپنی خود ساختہ قیادت سے دستبردار ہو جاؤ !!!
(مضمون نگار معروف صحافی اور تجزیہ نگارہیں)
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *