مظاہرین پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ، سو سے زائد فلسطینی زخمی

غزہ۔13اپریل(ملت ٹائمز)
غزہ میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ آج جمعہ تیرہ اپریل کے روز اسرائیل اور غزہ پٹی کی سرحد کے قریب احتجاج کرنے والے فلسطینی مظاہرین کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائی میں ایک سو بارہ فلسطینی زخمی ہو گئے۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق غزہ میں وزارت صحت نے بتایا کہ احتجاج کرنے والے فلسطینی مظاہرین پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ بھی کی اور آنسو گیس بھی استعمال کی۔
اسرائیل اور فلسطینی علاقے غزہ کی سرحد کے قریب ہزاروں فلسطینی باشندوں کا یہ احتجاج آج مسلسل تیسرے جمعے کو بھی جاری ہے۔ مارچ کے اواخر سے اب تک ایسے ہی ہفتہ وار پرتشدد مظاہروں میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں تینتیس فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمی فلسطینیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں بتائی جاتی ہے۔
ان مظاہروں کے منتظمین نے جمعہ تیرہ اپریل کے احتجاج کے دوران اسرائیلی پرچموں کو نذر آتش کرنے اور فلسطینی جھنڈے لہرانے کا اعلان بھی کیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران احتجاج کرنے والے فلسطینی سرحدی باڑ سے کئی سو میٹر کے فاصلے پر خیموں سے بنائے گئے پانچ کیمپوں میں جمع ہوئے تھے۔ انہی میں سے کچھ افراد چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہو کر باڑ کے قریب پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے اسرائیلی پرچم نذر آتش کیے۔علاوہ ازیں ان مظاہرین نے سرحدی باڑ کی دوسری جانب پتھر بھی پھینکے اور جگہ جگہ ٹائر بھی جلائے۔ اس پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے ان فلسطینی مظاہرین پر گولی چلا دی اور آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ احتجاجی فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کا یوں براہ راست فائرنگ کرنا غیر قانونی ہے کیونکہ اس طرح فوجی نہتے مظاہرین پر ممکنہ طور پر ہلاکت خیز طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم اسرائیل کا اس بارے میں موقف یہ ہے کہ سکیورٹی دستوں کے ماہر نشانہ باز صرف ایسے افراد کو نشانہ بناتے ہیں، جو مظاہرین کو اشتعال دلاتے ہوئے پرتشدد کارروائیوں کی ترغیب دیتے ہیں۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *