نواز شریف کو تاحیات نااہل قراردیئے جانے کے بعد پاکستانی سیاست میں کہرام۔جانیئے کیا ہوسکتاہے مستقبل میں

اسلام آباد ۔15اپریل(ملت ٹائمز)
اسی سال ہونے والے پاکستانی پارلیمانی انتخابات سے کچھ ہی عرصہ پہلے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تاحیات نااہلی کے عدالتی فیصلے نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
پہلے وزارت عظمیٰ اور پھر پاکستان مسلم لیگ ن کی صدارت سے الگ کر دیے جانے کے بعد نواز شریف کی تاحیات نااہلی کا جمعہ تیرہ اپریل کا عدالتی فیصلہ حالیہ دنوں میں نواز شریف کے خلاف سنایا جانے والا تیسرا بڑا عدالتی فیصلہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال کے گہرے اثرات ملک کی آئندہ سیاست کے ساتھ ساتھ 2018 کے انتخابی نتائج پر بھی مرتب ہوں گے۔

علم وہنر کانفرنس

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق نواز شریف کی ساری کشتیاں جل چکی ہیں اور اب ان کی احتجاجی تحریک میں مزید تلخی آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اب ان کے بھائی شہباز شریف سمیت مسلم لیگ ن کے مفاہمت پسند حلقوں کے لیے بھی خود کو نواز شریف کے بیانیے سے الگ رکھنا آسان نہیں ہو گا۔ ان ماہرین کے مطابق اگر نواز شریف نے آئندہ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا، تو اس ممکنہ فیصلے سے بھی ملک میں پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے ایک سینئر تجزیہ نگار پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق اس فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کی مشکلات بہت بڑھ گئی ہیں اور پارٹی کے اندر موجود لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ پارٹی قیادت کی نااہلی کے بعد ان کا مستقبل کیا ہو گا اور یہ بھی کہ آیا ایسے کارکن اب اس پارٹی میں رہیں یا نہ رہیں۔ ان کے بقول اب ن لیگ کے بعض ارکان کی طرف سے پارٹی کو خیرباد کہہ دینے کے واقعات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
ڈاکٹر عسکری تاہم اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے کہ پاکستانی سیاست میں نواز شریف کا کردار ختم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق نواز شریف اسمبلی کی رکنیت اور پارٹی صدارت اپنے پاس نہ رکھتے ہوئے بھی پس منظر میں رہ کر اہم سیاسی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظرثانی کی اپیل کا امکان تو نہیں کیونکہ نواز شریف اس مقدمے میں فریق نہیں تھے لیکن نظرثانی کی اپیل کی صورت میں بھی نواز شریف کو سپریم کورٹ سے اس مقدمے میں کوئی ریلیف ملنے کا امکان بہت کم ہے۔ ان کے مطابق عوامی ووٹ حاصل کرنے والوں کے معاملات کو شفاف ہی ہونا چاہیے۔ جن لوگوں کے معاملات شفاف نہیں ہوں گے، ان پر آئین کے آرٹیکل 6 اے کی تلوار آنے والے دنوں میں بھی لٹکتی رہے گی۔
پاکستان کے ایک اور سرکردہ سیاسی تجزیہ نگار امتیاز عالم کے بقول سپریم کورٹ کا فیصلہ سخت ہے، اس پر کافی تبصرے ہوں گے اور اس سے آنے والے دنوں میں کئی متنازعہ بحثیں بھی شروع ہوں گی۔ انہوں نے کہا، ”لگتا ہے کہ پاکستانی قانون دانوں کے حلقے سے اس فیصلے کو تائید نہیں مل سکے گی۔“ ان کے مطابق خود پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اسی سوچ کا اظہار کیا ہے کہ یہ ’سیاست دانوں کو سیاست سے خارج کرنے‘ کا فیصلہ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس فیصلے کے حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ وہ سیاست دانوں کی قسمت کا فیصلہ عوام کی طرف سے کیے جانے پر یقین رکھتے ہیں۔
امتیاز عالم کے بقول نواز شریف کو ان سے ہونے والی ’ناانصافی‘ کا بیانیہ مزید زور شور سے عوام کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملے گا اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک مقبول عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما کو باہر رکھ کر انتخابی عمل کو ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ سے نکال دیا گیا ہے۔ امتیاز عالم نے کہا کہ یہ معاملہ آنے والے الیکشن میں بھی نمایاں ہو کر سامنے آئے گا۔ ان کی رائے میں آرٹیکل 6 اے سمیت ضیاالحق دور کی آئینی ترامیم کو ختم کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کے ایک سینئر صحافی نذیر ناجی کا آرٹیکل 61 ایف کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ وہ ہر اس حق کے خلاف ہیں جو عوام کے حق کو کسی ایک فرد کے پاس لے جائے۔ ان کے بقول اس طرح کے فیصلوں کا اختیار عوام کے پاس ہونا چاہیے اور اسمبلی کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔نذیر ناجی کے مطابق اس فیصلے کے پنجاب میں برے اثرات سامنے آنے کا کوئی زیادہ امکان نہیں ہے کیونکہ پنجاب کی بیوروکریسی مسلم لیگ ن کے ہاتھوں میں ہے اور آئندہ عام الیکشن میں اس کے ’رول‘ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس سوال کے جواب میں کہ آیا مستقبل کی پاکستانی سیاست کا منظر نامہ اب واضح نہیں ہوتا جا رہا، نذیر ناجی کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ آنے والے دنوں کی سیاست کا منظر نامہ تو اب زیادہ دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ”یہ اندازہ لگانا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے کہ اصل فیصلہ ساز کیا فیصلے کرنے جا رہے ہیں۔“ ان کے بقول مسلم لیگ ن اپنے حق میں ہمدردی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش تو کرے گی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ’پنجاب اب ایک طرف ہے اور باقی تین صوبے دوسری طرف۔(بشکریہ ڈی ڈبلیو)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *