ہندوستان میں روہنگیا بحران معاملہ،مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل،اقوام متحدہ تک رسائی کرنے کافیصلہ

اعلیٰ سطحی میٹنگ:روہنگیائی مہاجرین کی بازآبادکاری کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی اورجامع ریلیف کی فراہمی پرزور
سہیل اخترقاسمی کی رپوٹ
نئی دہلی(ملت ٹائمز)
ہندوستان بھر میں تقریباً۰۴ہزارروہنگیائی مہاجرین کے بحران کے حل کے لئے امدادی ورفاہی این جی اوزکا مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینے کااعلان کیاگیا۔آج یہاں انڈیااسلامک کلچرل سینٹرمیںروہنگیائی مہاجرین کی تعلیم،صحت اوربنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے کام کرنے والی ایک درجن سے زائدتنظیموں نے خصوصی میٹنگ کی۔یہ میٹنگ کل روہنگیائی مہاجرین کے مسئلہ پربین الاقوامی کنونشن کے انعقادکے بعدآج ہوئی،جس میں سلامہ این جی اواورقومی راجدھانی کی سرکردہ تنظیموں نے شرکت کی۔اس میٹنگ کامقصدروہنگیائی مہاجرین کی بازآبادکاری(عارضی) کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی اورمکمل ریلیف کے ذریعہ انہیں باوقارزندگی گزارنے کے امکانات فراہم کرناتھا۔تقریباً۲گھنٹے سے زائدچلی نشست میں راجدھانی اوردیگرخطوں میں عارضی طورپرکیمپوں میں رہ رہے مہاجرین کے مسائل پرکھل کربحث ہوئی۔یہ سوال خاص کرموضوع بحث تھاکہ روہنگیائی مہاجرین کب تک ریلیف اورچھوٹی چھوٹی مددپرگزاراکریں گے؟۔انہیں ان کے پیروں پرکھڑے کرنے کے کیاطریقے ہوسکتے ہیں؟گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل مددفراہمی کے باوجودوہ ابھی تک کسمپرسی کی زندگی گزارنے پرکیوں مجبورہیں؟۔اس موقع پرموجود روہنگیائی کمیونٹی کے نمائندہ علی جوہرنے یہ سوال اٹھایاکہ’ہمیں مددفراہم کیاجاتاہے مگراس سے ہماری بھلائی کم اورپریشانی زیادہ ہورہی ہے۔رہائش کاسب سے بڑامسئلہ ہے،آگ زنی کی واردات کے بعدسب کچھ ویساہی ہوجاتاہے جیسے لٹ پٹ کرہم میانمارسے یہاں آئے تھے۔‘
سلامہ این جی اوکے سربراہ ناظم الدین فاروقی نے انقلاب کوبتایاکہ’آج کی میٹنگ میں سلامہ،ہیومن ویلفیئرفاو¿نڈیشن،یونیسکو،تعمیرملت اوردیگرسول سوسائٹی کے نمائندوں نے اسی بات پربحث کی ہے کہ کیسے سب مل کرایک ساتھ روہنگیائی کازکے لئے کام کریں۔انہوں نے کہاکہ’گزشتہ کئی سالوں سے روہنگیائی مہاجرین کی ریلیف کے لئے کام ہورہاہے،مگراس کی انفرادی حیثیت ہوتی ہے۔اس کی وجہ سے وسائل بھی ضائع ہوتے ہیں اورہدف حاصل نہیں ہوپاتا۔مثال کے طورپرایک تنظیم ہے جوروہنگیاکازسے جڑی ہے اورکام کررہی ہے تووہ صحت،تعلیم،بنیادی سہولیات؛سب کے لئے کام کررہی ہے،وہیں دوسری تنظیم بھی کچھ ایساہی کررہی ہے،اگرایک جوائنٹ پلیٹ فارم بن جائے اورکام بٹ جائے توزیادہ کارآمدطریقے سے بازآبادکاری کاکام ہوگا۔‘میٹنگ میں موجودہیومن ویلفیئرفاو¿نڈیشن سے وابستہ نمائندوں نے جوائنٹ پلیٹ فارم بنانے کی حمایت کی مگرمشترکہ کام کاج کرنے پرکوئی حتمی فیصلہ نہیں پایا۔انہوں نے تنظیم کے توسیعی پروگراموں کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ’مشورہ کے بعدہی کچھ پاناممکن ہوگا۔‘سبکدوش آئی ایف ایس افسرکے پی فابیان نے پریشرگروپ کریٹ کرنے اورنئے سرے سے کام شروع کرنے کی تجویزدی اورکہاکہ’اب اس مسئلہ کواقوام متحدہ تک لے جاناضروری ہوگیاہے۔اس کے لئے بھی لائحہ عمل تیارکیاجاناچاہئے،جس کی نمائندہ تنظیموں نے حمایت کی۔‘
کالندی کنج کیمپ آتشزدگی :
میٹنگ میں شریک نمائندوں نے کالندی کنج آتشزدگی کے بعد۰۳سے زائدروہنگیائی مہاجرین کے خانمابربادہونے کے قضیہ پرغورکیااورفیصلہ کیاجلدازجلدانہیں دوبارہ سے اسی زمین پرآبادکرایاجائے۔ہیومن ویلفیئرفاو¿نڈیشن کے سی ای اونوفل پی کے نے کہاکہ’فوری ریلیف کے انتظامات کئے گئے ہیں،مچھردانی اورکھانے پینے سے لے کرصحت کی سہولیات دی جارہی ہیں۔‘
ایف آرآراوکے اہلکاروں کوبھگایا:
روہنگیائی مہاجرین کے مسئلہ پرآئی آئی سی سی میں جاری اعلیٰ سطحی این جی اوزکی جاری میٹنگ میں فارین ریجنل رجسٹریشن آفس کے ۳اہلکارآئے اورمیٹنگ سننے لگے۔اسی درمیان مشہوروکیل محمودپراچہ بھی پہنچے۔ایف آراوکے اہلکاروں کی میٹنگ میں شرکت انہوں نے حیرت ظاہرکی اورکہاکہ انہیں کس نے بلایا؟پتہ چلاکہ وہ بغیردعوت کے چلے آئے۔جس کے بعدمحمودپراچہ نے انہیں یہ کہہ کربھگادیاکہ ایک پرائیویٹ میٹنگ میں ایف آراوکاکیاکام۔محمودپراچہ نے بتایاکہ’ایف آراوکااس مسئلہ سے کوئی لینادینانہیں،روہنگیائی مہاجرین کے معاملہ میںاب تک ایف آراوکے اہلکاروں کے ذریعہ غلط رپورٹ بنانے اوراستحصال کے واقعات ہی سامنے آئے ہیں۔‘(بشکریہ روزنامہ انقلاب)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *