انڈونیشیائی سفارت خانہ میں بی جے پی حامی تنظیم کا پروگرام،اس میزبانی پر لوگوں نے اٹھائے سوال

پروگرام میںبی جے پی کے وزیرراوررکن پارلیمنٹ کی شرکت،سفارتخانہ نے کہا:’سماجی کازکے لئے جگہ دی گئی تھی۔

سہیل اخترقاسمی
نئی دہلی(ملت ٹائمز)
اپنی سیکولرشناخت کے لئے مشہورمشرقی ایشیاءخطہ کی سب سے بڑی معیشت انڈونیشاکے نئی دہلی میں واقع سفارتخانہ نے کل اپنے احاطہ میں ایک فیشن شوکی میزبانی کی۔یہ فیشن شونئی دہلی سوشل ورکرس ایسوسی ایشن ان کولابریشن(این ڈی ایس ڈبلیواے) کے زیراہتمام منعقدکیاگیا۔اس فیشن شومیں رکن پارلیمنٹ ڈاکٹرادت راج،مرکزی وزیروجے گویل سمیت بی جے پی کے کئی عددعلاقائی لیڈرنظرآئے۔این ڈی ایس ڈبلیواے بی جے پی اورآرایس ایس سے بہت قریب ہے اورسیاسی مقاصدکے لئے کام کرتی رہی ہے۔خوداین ڈی ایس ڈبلیواے کے سربراہ گوروگرورپارٹی کے قدآورلیڈروں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اوران کے ساتھ لی گئیں تصویریں سوشل میڈیاپرپوسٹ بھی کرتے رہتے ہیں۔کسی سفارتخانہ کے ذریعہ ایک خاص سیاسی پارٹی سے وابستگی رکھنے والی تنظیم کی میزبانی کے واقعات بہت کم ملتے ہیں۔ایسے میں انڈونیشیائی سفارتخانہ کے ذریعہ بی جے پی کی حامی تنظیم این ڈی ایس ڈبلیواے کوسفارتخانہ کے احاطہ میں فیشن شوکرنے کی اجازت دینے اورپورے پروگرام کی میزبانی کرنے کاعمل کچھ حلقوں میں موضوع گفتگوبن گیاہے۔دیررات شروع ہوئے فیشن شوسے قبل قومی نغمہ بجایاگیا۔جب قومی نغمہ بجایاجارہاہے،اس وقت ایل ای ڈی اسکرین پراشوک استمبھ کی بجائے وزیراعظم نریندرمودی کی سالگرہ ،وینکیانائیڈو اوردیگربی جے پی لیڈروں کی تصویریں فلیش کررہی تھیں۔
اس موقع پرانڈونیشیاکے سفیربرائے ہندسدھارتوریضاسوریودی پورونے پروگرام کے انعقادپرخوشی ظاہرکی۔انہوں نے نمائندہ سے بات کرتے ہو ئے کہاکہ’کھادی کے فروغ کے موضوع پرہم سب یہاں جمع ہوئے ہیں،کیونکہ کھادی کی اہمیت دونوں ملکوں کے لئے بہت زیادہ ہے،انڈونیشیامیں شاہی خاندانوں نے بھی کھادی کااستعمال کیااوراس کے بعدتھوڑے بہت ردوبدل کے بعدکھادی اورانڈونیشیائی طرزکی بنائی کے کپڑے بہت مقبول ہوئے۔انڈونیشیااورہندوستان کے درمیان کھادی ایک سنگ میل ہے،اسی تعلق کی وجہ سے سفارتخانہ کی دلچسپی شامل ہوئی۔‘نمائندہ کے ذریعہ یہ پوچھے جانے پرایک سفارتخانہ میں سیاسی جماعتوں سے وابستہ تنظیموں کے پروگراموں کی میزبانی کوکس طرح جوازدیاجائے گا؟اس سوال پرسفارتخانہ کے میڈیاانچارج اوان نے کہاکہ’سفارتخانہ نے ایک سماجی کازکے لئے میزبانی قبول کی،اس میں کوئی سیاسی مقصدنہیں۔‘اوان نے مزیدکہاکہ’این ڈی ایس ڈبلیواے نے ہمارے سامنے کھادی کے فروغ کے لئے فیشن شومنعقدکرنے کاپروپوزل رکھا،جس کی اہمیت کے پیش نظرسفارتخانہ نے اپنااحاطہ استعمال کرنے کی اجازت دی۔اس کے علاوہ پروگرام میں ہماری حصہ داری نہیں۔‘
پروگرام میںڈاکٹرادت راج نے کہا’کھادی سے ہمارارشتہ بہت گہراہے،اس کاتعلق آزادی کی لڑائی سے بھی ہے۔ گا¶ں کو خود کفیل بنانے کیلئے گاندھی جی نے چرخا کو بڑھاوا دیا تھا۔اسی نیت کوسامنے رکھتے ہوئے یہ فیشن شوہواہے،جودوسرے فیشن کے پروگراموں سے الگ ہے کیونکہ اس کامقصدکھادی کے ایسے غریب تاجروں کوتقویت پہنچاناہے جولو گ سوت کات کر کپڑے بنتے ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ’کھادی کی برانڈنگ ہو اس میں اس کی کوالیٹی ہو، اس کی تشہیر ہو تاکہ کھادی کپڑوں کی طرف نئی نسل راغب ہو اس کیلئے کھادی کے کپڑوں کا نیا ڈیزائن تیارکیاگیااوراس کافیشن شورکھاگیا۔‘
۔(بشکریہ روزنامہ انقلاب)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *