ملک میں ایک مرتبہ پھر نوٹ بندی جیسے حالات،متعدد ریاستوں کو کیش بحران کا سامنا

نئی دہلی (ملت ٹائمز)
ملک کی کئی ریاستوں میں نوٹ بندی جیسا کیش بحران ایک بار پھر گہرا گیا ہے۔ اتر پردیش، اتراکھنڈ، بہار، جھارکھنڈ اور گجرات سمیت کئی ریاستوں کے بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں میں کیش موجود نہیں ہے۔بینکنگ ذرائع کے مطابق، ان ریاستوں سے ریزرو بینک اور حکومت کو لگاتار شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ حالات سے نمٹنے کے لئے وزارت خزانہ نے ریزرو بینک کے افسران کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔ سب سے زیادہ اثر کوآپریٹیو بینک اور دیہی علاقوں میں نظر آ رہا ہے۔بہار، گجرات اور دیگر کئی ریاستوں کے بعد کیش کا بحران اب ملک کے مزید شہروں میں نظر آنے لگا ہے اور لوگوں کو اے ٹی ایم سے کیش نکالنے میں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آندھرا پردیش، کرناٹک، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، تلنگانہ، چھتیس گڑھ میں اے ٹی ایم سے روپے نہ نکلنے کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔ جس کا غصہ لوگ سوشل میڈیا کی سائٹوں پر ظاہر کر رہے ہیں۔

این آئی اے نیوز ایجنسی کے مطابق کیش بحران کا اعتراف حکومت نے بھی کر لیاہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ شیو پرتاپ شکلا نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ دو تین دن میں یہ بحران دور ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا ”ریزرو بینک ریاستوں میں پیسوں کی غیر مساوات کو دور کر رہا ہے۔ ایک ریاست سے دوسری ریاست میں پیسے پہنچ رہے ہیں۔ پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ حالات نوٹ بندی جیسے نہیں ہونے دئے جائیں گے اور جلد ہی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔“ادھر وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ ملک میں نقدی فراہمی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ”مجموعی طور پر جتنے کیش کے ضرورت ہے ہمارے پاس اس سے زیادہ موجود ہے۔ کچھ علاقوں میں کچھ پریشانیاں ہیں انہیں دور کیا جا رہا ہے۔“ادھر چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ رمن سنگھ نے اپنے بیان میں کہا، ”دیگر ریاستوں کی طرح ہی کیش کا بحران چل رہا ہے۔ اس پریشانی کو جلد دور کر دیا جائے گا۔“مدھیہ پردیش کے وزیر خزانہ جیانت کمار کا کہناہے کہ یہ بات سچ ہے کہ 2000 کا ہزار کا نوٹ جس کی مالیت سات لاکھ کڑور ہوتی ہے وہ ختم ہے اور اس کی وجہ سے ملک بھر میں نوٹوں کی سپلائی نہیں ہوپارہی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *