جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے تمام سیکولر جماعتوں کو متحد ہونا پڑے گا:ایس ڈی پی آئی کے بینر تلے مختلف سیاسی لیڈران کا اظہار خیال

نئی دہلی ( ملت ٹائمز )
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)کی جانب سے کل 16اپریل کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر آڈیٹوریم میں “جمہوریت کے لیے کھڑے ہوں “کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔اس کانفرنس میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندے اور ایس ڈی پی آئی لیڈران و کارکنان شریک رہے۔ نظامت کے فرائض ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری محمد شفیع نے انجام دیئے۔ ایس ڈی پی آئی قومی ورکنگ کمیٹی رکن ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی نے اپنی استقبالیہ تقریر میںکانفرنس میں شریک لیڈران کارکنان اورعوام کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک ایسی سمت کی طرف جارہا ہے جواس ملک کے عوام کے لیے مناسب نہیں ہے۔ یہ ملک جمہوریت کی بنیادوں پر قائم ہوا ہے پر بنا ہے اور چلاہے۔ ہندوستان میں مختلف مذاہب وعقائد کے لوگ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آرہے ہیں لیکن آج فرقہ وارانہ سیاست کرنے والوں کی وجہ سے اس گلدستہ کو توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ملک میں ہر ایک آدھے گھنٹے میں کسی ایک خاتون کی عصمت دری ہورہی ہے۔ ہر 35منٹ میں ایک کسان خودکشی کررہا ہے۔ ملک کے 80فیصد لوگ کسی نہ کسی طرح پریشان ہیں۔ ایس ڈی پی آئی ملک میں انصاف اور ملک کے دستور کو بچانے کے لیے کسی بھی طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ملک کے تمام ہم خیال لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم سب ملکر ایسے لوگوں کو اقتدار سے بے دخل کریں جو اس ملک کی آئین اور جمہوریت کے خلاف کام کررہی ہے۔

ایس ڈی پی آئی قومی صدر اے سعید نے اپنی صدارتی خطاب میں کہا کہ ملک کی جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے تمام سیکولر جماعتوں کو متحد ہونا پڑے گا۔ ہمارا ملک ہندتوا طاقتوں کے شکنجے میں ہے اس سے ہمیں ملک کو چھڑانے کے لیے قربانیاں دینا پڑیں گی۔ اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جن سمپرک پارٹی کے صدر اشوک بھارتی نے کہا کہ آج صرف ملک کا آئین ہی نہیں ملک بھی خطرے میں ہے۔ جو لوگ اقتدار میں ہیں ان کے لیے سو خون بھی معاف ہے اور جولوگ جمہوریت کی بات کرتے ہیں اور ا قتدار میں حصہ داری اور اپنے حقوق طلب کرتے ہیں انہیں کچلا جارہا ہے۔ سابق رکن پارلیمان کشوری لال نے اپنے خطاب میں کہا کہ بی جے پی حکومت نے چار سال جو نفرت کا بیج کابویا ہے اس سے مسلمان حاشیہ آگئے ہیں۔ امبیڈکر سماج پارٹی کے صدر تیج سنگھ نے کہا کہ ملک کی 90% فیصد عوام آج بھی آزاد نہیں ہے۔ مٹھی بھر لوگ ہماری پریشانی کا سبب بن گئے ہیں۔ مولانا نثار احمد نقشبندی نے کہا کہ قوم کے لوگوں کو نریندر مودی سے اور یوگی آدتیاناتھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم اگر پکے سچے مومن ہو تو تم ہی حکمران ہوگے۔ آر جے ایس پی پارٹی کے صدر بھانو پرتاپ سنھ نے کہا کہ ہمیں اپنا نظریہ بدلنا ہوگا اقتدار ملتی نہیں ہے آگے بڑھ کر چھینی جاتی ہے۔ انہوں نے بی جے پی اور کانگریس کو ایک ہی سکہ کے دو رخ قرار دیا۔ این دی پنچولی نے اپنی تقریر میں کہا کہ جمہوریت میں آمریت یا ڈکٹیٹر شپ نہیں چلتی ہے اسے ووٹ سے بدلا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بڑھتی بے روزگاری، کسانوں کی خودکشی پر تشویش کا اظہار کیا۔ویمن انڈیا موﺅمنٹ کی قومی صدر یاسمین فاروقی نے ملک میں خواتین کے خلاف بڑھتے مظالم کی سخت مذمت کرتے ہوئے ملک کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ پاپولرفرنٹ آف اندیا ، دہلی کے صدر پرویز احمدنے اپنی تقریر میں کہا کہ جمہوریت کی ساکھ گرتی جارہی ہے ، ہندوتوا کے نام فاسزم آچکی ہے۔ انہوںنے کھٹوعہ اور اناﺅ کے واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا مجرم انسانیت کے دشمن ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کے نظریہ کو گوالکر اور ساورکر کے نظریہ میں تبدیل کرنے کے لیے ملک میں کچھ طاقتیں کوشش کررہی ہیں۔ جس سے اس ملک پر صرف ہندﺅں کو حق ہوگا۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے حقوق ان سے چھین لیے جائیں گے۔ ہندوستانی عوام کو آئین جمہوریت اور سیکولر ازم کے وعدے کے ساتھ دیا گیا تھا کہ جس کو موجودہ بی جے پی حکومت سے شدید خطرہ ہے۔ اجلاس کے اختتام میںایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری الیاس محمد تمبے نے تمام شرکا ءکا شکریہ ادا کیا۔ اس اجلاس میں ایس ڈی پی آئی راجستھان کے ریاستی صدر محمد رضوان خان، دہلی کوآرڈینٹر ڈاکٹر نظام الدین خان، اتر پردیش ریاستی صدر محمد کامل،مدھیہ پردیش نائب صدر عرفان الحق اور ایس ڈی پی آئی کے سینکڑوں کارکنا ن نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *