تمام مظلومین کواکٹھاکرکے مضبوطہ لائحہ عمل تیا ر کیا جائے :مولاناسجاد نعمانی کی ملی جماعتوں سے اپیل

نئی دہلی (ملت ٹائمز)
معروف عالم دین اور آل انڈیامسلم پرسنل لاءبورڈ کے ترجمان مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے یوٹیوب پرایک ویڈیو جاری کرکے ہندوستان کی تمام ملی جماعتوں اور اس کے ذمہ داران سے یہ اپیل کی ہے کہ ملک کے حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں،مسلمانوں اور دلتوں پر ظلم کا سلسلہ دراز ہوچکاہے اس لئے سبھی سڑجو ڑ کر بیٹھیں اور وقتی جلسے کے ساتھ اس سلسلے میں کوئی مضبوط لائحہ عمل تیار کریں ۔
ویڈیو میں مولانا سجاد نعمانی نے کٹھوعہ ریپ متاثرہ کی ننھی آصفہ ،اناﺅ ریپ واقعہ ،حافظ جنید ،محمد اخلاق اور اس جیسے کئی مظلومین کے واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ہندوستان میں ظلم کا سلسلہ درزا ہوتاجارہاہے ،یہ ظلم صرف مسلمانوں پر نہیں بلکہ دلت بھی اس کے شکار ہورہے ہیں،ہر پندرہ منٹ پر ایک دلت پر ظلم کیا جاتاہے اس لئے جمعیت علماءہند کے صدر مولانا سید ارشدمدنی ۔ مولانا قاری عثمان ،جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی ۔آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم ۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر جناب نوید حامد ،پاپولرفرنٹ آف انڈیا کے چیرمین جناب ای ابوبکر،بیرسٹر اسدالدین اویسی اوردیگر ذمہ دار حضرات ایک ساتھ بیٹھیں اور وقتی جلسوں کے ساتھ کوئی مستقل لائحہ عمل تیار کریں ،انہوں نے کہاکہ اس طرح کے جلسوں کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن اس سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہیکہ سبھی ایک ساتھ سر جوڑ کربیٹھیں،تمام مظلومین کواکٹھاکریں اور کوئی مستقل لائحہ عمل نکالیں ۔انہوں نے آ ل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈکے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے بہار میں بہت بڑی ریلی نکالی ہے جو بہار کے مسلمانوں کیلئے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوگی اس لئے ان سے بھی اپیل ہے کہ وہ اس سلسلے میں غور وخوض کریں ۔
مولانانعمانی نے اپنی ویڈو میں سیاسی لیڈران راہل گاندھی ،اکھلیش یادو ،مایاوتی ،کپل سبل ،غلام نبی آزادی ،سچن پائلٹ اور نوجوان سماجی کارکنان کنہیا کمار ،عمر خالد شہلا راشد اور جگنیش میوانی سے بھی ایک پلیٹ فارم پر آنے کی اپیل کی ،بالخصوص راہل گاندھی سے اپیل کی کہ آپ نوجوان ہیں ،ذرا جھک جائیں اور تمام لوگوں کو ایک ساتھ لیکر آواز اٹھائیں ،ملک کا سبھی طبقہ آپ کا ساتھ دے گا ۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *