مکہ مسجد بم بلاسٹ پر این آئی اے کا فیصلہ انصاف کا قتل اور بھگوا دہشت گردوں کو بچانے کی ظالمانہ پالیسی کا حصہ :مشاورت

نئی دہلی(ملت ٹائمز)
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر جناب نوید حامد صاحب نے سابق آرایس ایس پرچارک اسیمانند اوردائیں بازو کے گروپوں کے دیگر چار ساتھیوں کو این آئی اے کورٹ کے ذریعہ مکہ مسجد دھماکہ کیس میں بری کئے جانے پر پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیاہے اور بری کئے جانے کے معاملے کو انصاف کے قتل اور عدالتی نظام کے انہدام سے تعبیر کیاہے۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ایسا لگتاہے کہ یہ فیصلہ مجرموں سے سرکاری وکیل کی سانٹھ گانٹھ اور حکومت کے ذمہ داران کی ہدایات کے تحت ہی ممکن ہو پایا ہے۔این آئی اے کورٹ نے اس مقدمہ کے اہم ملزم اسیمانند کے انٹرویومیں دیئے گئے اقبالیہ بیان اور آرایس ایس کے چیف موہن بھاگوت سمیت اس کے اہم لیڈران کے خلاف ان کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کو پوری طرح سے نظرانداز کیاہے۔
جناب نوید حامد نے مزید کہاکہ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ۲۰۱۴ئ میں جب سے بی جے پی حکومت میں آئی ہے، ایسے مجرمین جو دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کئے گئے اور ان کے خلاف مختلف دہشت گردانہ مقدمے دائر کئے گئے، ان کو مسلسل رہا کیاجارہاہے اور یہ سب کچھ صرف ان کے زعفرانی دہشت گردگروپوں سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ہورہاہے اوراس لیے ان کے خلاف مقدمات کو کمزورکیاجارہاہے۔
جناب نوید حامد کا صاف طورپر کہناہے کہ حالیہ بری کئے جانے کا معاملہ عدالتی فیصلہ نہیں ہے بلکہ بھگوا ہندوتوادی دہشت گردوں کو بچانے کے لیے یہ ایک ظالمانہ سیاسی فیصلہ ہے اور اس واضح دھبے کو دھونے کی کوشش ہے کہ ہندتواوادی گروپوں اور نفرت پھیلانے والی تنظیموں کا دہشت گردانہ سرگرمیوں سے کوئی لینادینا نہیں ہے۔جناب نوید حامد نے مطالبہ کیاہے کہ سرکار اہل کورٹ میں این آئی اے کے بری کئے جانے والے ظالمانہ فیصلہ کو بلا کسی تاخیرکے حکومت چیلنج کرے تاکہ دہشت گردوں اور دہشت گردانہ مقدمات کو حل کرنے میں اس کی غیر جانبداری رویہ اور سنجید گی کوثابت کیاجاسکے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *