رمضان المبارک کا استقبال ہم کیسے کریں ؟

آصف تنویر نجیب اللہ خان تیمی
(استاد جامعہ امام ابن تیمیہ)
ہر سال کی طرح اس سال بھی ماہ رمضان کا چاند نمودار ہونے ہی والا ہے۔شعبان کا مہینہ شروع ہوچکا ہے۔ اور رمضان المبارک کی اصل تیاری اور روزہ کی عادت اسی مہینہ میں پڑتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے اس مہینہ میں روزہ رکھا کرتے تھے۔بعض حدیثوں میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ شعبان میں نامہ اعمال اللہ تعالی کے پاس پیش کئے جاتے ہیں،اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے بعد سب سے زیادہ اس ماہ میں روزہ رکھا کرتے تھے۔چنانچہ ہمیں بھی شعبان کے مہینہ میں نفلی روزے کا خاص اہتمام کرنا چاہئے۔لیکن افسوس ہوتا ہے ان مسلمان بھائیوں پر جو اس ماہ میں نفلی روزہ کا اہتمام تو نہیں کرتے مگر بدعت کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔پندرہویں شعبان کا روزہ،حلوہ پوڑی،قبرستان کی زیارت وغیرہ ان گنت بدعات ’شب برأت‘ کے نام پر انجام دیئے جاتے ہیں، جن کی شریعت میں کوئی مضبوط اور صحیح دلیل موجود نہیں ہے۔
خیر سردست مجھے استقبال رمضان سے متعلق چندباتیں اپنے قارئین کے حوالے کرنی ہیں۔ تو اس ضمن میں سلف کی کتابوں کے مطالعہ سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام، تابعین اور دیگر اسلاف رمضان کا خاص اہتمام کرتے، اور رمضان کی آمد پر اپنی بے پناہ خوشی کا اظہار کرتے۔بلکہ وہ لوگ اللہ تعالی سے اس بات کی دعا کرتے کہ انہیں رمضان نصیب ہوجائے۔اور جب رمضان کا چاندنظر آجاتا تو وہ پوری محنت اور لگن سے اس ماہ کی عبادت وریاضت میں مشغول ہوجاتے۔ قیام اللیل(تراویح) تلاوت قرآن غربا ومساکین کا خیال صدقہ وخیرات جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ جیسے اعمال صالحہ کی انہیں خاص فکر ہوا کرتی تھی۔ بعض مسلمان بھائی یہ سمجھتے ہیں کہ روزہ سستی وکاہلی اور صرف تن آسانی کا ذریعہ ہے۔ ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ روزہ صرف سونے کانام نہیں ہے،اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑی بڑی اسلامی جنگیں اسی ماہ میں پیش آئیں، اور مسلمانوں نے فتح ونصرت کا جھنڈا اسی رمضان کے مہنیہ میں گاڑا۔ غزوہ بدر، فتح مکہ جیسے عظیم غزوات اسی ماہ میں ہوئے۔ اور اس تعلق سے فقہا کا اختلاف بھی ہے کہ جو لوگ رمضان سوسو کر گزارتے ہیں ان کا روزہ قبول بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ راجح قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ روزہ میں دن بھر سوتے اور شام میں صرف افطار کرلیتے ہیں ان کا روزہ درست نہیں ہے۔سلف مفسدات روزہ سے بھی پرہیز کرتے تھے۔ جس قدر رمضان کا روزہ رکھنا ضروری ہے اسی قدر یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے روزہ کو ان چیزوں سے بچائیں جن سے روزہ (فاسد)خراب ہوجاتا ہے جیسے: کھیل تماشہ، غیبت ،چغلخوری،حرام کھانا، حرام چیزوں کو دیکھنا اور سننا(جیسے:گانا،فلم بینی،گندے اور فحش ویب سائٹس وغیرہ کا استعمال)، لڑائی جھگڑا،ریاکاری اور دکھاوا اور جھوٹ وبہتان بازی وغیرہ۔
سلف کی طرح ہمیں بھی اس ماہ کی آمد پر اپنی مسرت وشادمانی کا اظہار کرنا چاہئے۔اور رمضان کی خوشی تو فطری امر ہے اس لئے کہ اللہ تعالی نے اس ماہ میں متعدد عبادات کو ہمارے لئے مشروع قرار دیا ہے۔ رمضان المبارک کا روزہ ایک اسلامی فریضہ اور ارکان اسلام میں سے ہے۔ اللہ تعالی نے روزہ کی فرضیت سے متعلق فرمایا:(یأیہا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون)[البقرۃ: ۱۸۳] ترجمہ:’’ اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقوی اختیار کرو‘‘۔ سنت کے مطابق (آٹھ رکعات)تراویح گناہوں کی بخشش کا بہترین ذریعہ ہے۔آپﷺ نے فرمایا:’’من صام رمضان ایمانا واحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ‘‘ ترجمہ:’’ جس نے ایمان اور نیک نیتی کے ساتھ روزہ رکھا اس کے سارے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘۔عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ بعض لوگ امام صاحب کے ساتھ چندرکعات تراویح پڑھتے اور پھر بھاگ نکلتے ہیں ایسے لوگ حدیث کے مطابق ساری رات کے ’’قیام اللیل‘‘ کے ثواب سے محروم رہتے ہیں۔ اسی ماہ مبارک میں قرآن جیسی کتاب نازل ہوئی۔ جو سراپارشدوہدایت کا ذریعہ ہے،اللہ تعالی نے فرمایا:(شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ہدی للناس وبینات من الہدی والفرقان فمن شہدمنکم الشہر فلیصمہ ومن کان مریضا أو علی سفر فعدۃ من أیام أخر)[البقرۃ: ۱۸۵] ترجمہ:’’ ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہئے، جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے‘‘۔ قدر ومنزلت والی رات(شب قدر) اسی ماہ کے اخیر عشرہ میں ہواکرتی ہے۔ جس کے پانے کی آپﷺ ہر ممکن کوشش کرتے،اس کی طاق راتوں کو جاگتے اور اپنے گھروالوں کو بھی بیدار کرتے۔ قرآن کریم میں’’ لیلۃ القدر‘‘ کے نام سے ایک مکمل سورت موجود ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:(انا أنزلناہ فی لیلۃ القدر،وما أدراک ما لیلۃ القدر،لیلۃ القدر خیر من ألف شہر، تنزل الملائکۃ والروح فیہا باذن ربہم من کل أمر، سلام ہی حتی مطلع الفجر)[القدر:۱۔۵] ترجمہ:’’ یقیناًہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا۔ تونے کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟۔شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں( ہر کام) سرانجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح(جبرائیل) اترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے)‘‘۔ اسی ماہ میں جنت کے دروازے کھلتے اور شیاطین جکڑدیئے جاتے ہیں۔ نیکیاں بڑھادی جاتیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔ گناہوں کی معافی اور بہت ساروں کو جہنم سے آزادی ملتی ہے۔
اس لئے ہمیں اس خیر وبرکت کے مہینہ کو غنیمت جان کر کثرت سے عبادت وبندگی میں مصروف رہنا چاہئے۔ خاص طور سے سابقہ گناہوں سے توبہ واستغفار کے ساتھ آئندہ گناہ نہ کرنے کا اللہ تعالی سے عہد وپیمان کرنا چاہئے۔اس لئے کہ یہی سب اعمال دنیا وآخرت میں فوزوفلاح کا ذریعہ ہیں۔اللہ تعالی نے فرمایا:(یوم لا ینفع مال ولا بنون،الا من أتی اللہ بقلب سلیم) ترجمہ:’’جس دن کہ مال اور اولاد کچھ کام نہ آئے گی۔ لیکن فائدہ والا وہی ہوگا جو اللہ تعالی کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے‘‘۔[الشعراء:۸۸؍۸۹] اور فرمایا:(ومن یطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزا عظیما) ترجمہ:’’اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی‘‘۔[الأحزاب:۷۱] اورارشادباری تعالی ہے(واعبدربک حتی یأتیک الیقین) ترجمہ: ’’تم اپنے رب کی موت آنے تک عبادت کرتے رہو‘‘۔ [الحجر: ۹۹] اوراسی معنی کی آیت کریمہ(قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین، لا شریک لہ وبذلک أمرت وأنا أول المسلمین) [الأنعام:۱۶۲؍۱۶۳] ترجمہ:’’آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں‘‘۔
رمضان المبارک میں انجام دیئے جانے والے اعمال میں سے ایک اہم عبادت دعا ومناجات بھی ہے۔ویسے تو مؤمن شخص کو ہر پل اپنے رب سے دعا کرنی چاہئے لیکن رمضان میں اس کی اہمیت کچھ زیادہ ہی ہوجاتی ہے۔اور وہ بھی خاص طور پر رات کے اخیر حصہ میں ۔ رمضان میں دعا کی اہمیت کا اندازہ سورہ بقرہ کی اس آیت سے بھی ہوتا ہے جوفرضیت روزہ والی آیت کے معا بعد موجود ہے۔اور حدیث میں بھی موجود ہے :(أن اللہ ینزل الی السماء الدنیا کل لیلۃ حین یبقی ثلث اللیل الآخر فیقول’’ من یدعونی فأستجیب لہ من یسألنی فأعطیہ من یستغفرنی فأغفرلہ‘‘ حتی یطلع الفجر)(مسلم) ترجمہ:اللہ تعالی ہر رات جب ایک تہائی رات بچ جاتی ہے صبح صادق تک سمائے دنیا پر نازل ہوتا ہے اور کہتا ہے: ’’جو مجھ سے دعا کرے گا میں اس کی دعا قبول کروں گا۔ جو مجھ سے مانگے گا میں اسے دوں گا۔ جو مجھ سے معافی مانگے گا میں اسے معاف کروں گا‘‘۔
مسلمان بھائیوں کو چاہئے کہ رمضان المبارک میں دعا کا خصوصی اہتمام کریں۔ بجائے یہ کہ آپ اپنے قیمتی وقت کو ادھر ادھر کی باتوں میں لگائیں۔ اس وقت میں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو رمضان المبارک میں خوب خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *