مولانا اظہر الاسلام پر حملہ کرنے والے شدت پسند ہندﺅوں کے خلاف مقدمہ درج ۔’جے شری رام‘کا نعرہ لگانے پر کیا تھا مجبور

نمازِ تراویح پڑھا کررانچی کے مولانا اظہرالاسلام گھر لوٹ رہے تھے جنہیں راستے میں 25-20 شرپسندوں نے روک کر جے شری رام کا نعرہ لگانے کیلئے کہا اور فحش گالیاں دی جسے کہنے انکار کرنے پر قاتلانہ حملہ کردیا جس
رانچی :ہجومی دہشت گردی کا واقعہ رکنے کے بجائے مسلسل بڑھتا جارہاہے ،ایک ماہ کے وقفہ کے بعد پھر اسی طرح کا شرمناک واقعہ رانچی میں پیش آیاہے جہاں نماز تروایح پڑھا کر لوٹ ایک عالم دین پر ہندو انتہاءپسند وں نے قاتلانہ حملہ کردیا ۔ذرائع کے مطابق نمازِ تراویح پڑھا کررانچی کے مولانا اظہرالاسلام گھر لوٹ رہے تھے جنہیں راستے میں 25-20 شرپسندوں نے روک کر جے شری رام کا نعرہ لگانے کیلئے کہا اور فحش گالیاں دی جسے کہنے انکار کرنے پر قاتلانہ حملہ کردیا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق مولانا اظہرالاسلام کو نامعلوم ہندوتوا شدت پسندوں نے دلادلی چوک کے پاس روک کر پہلے تو انھیں ذات اور مذہب پر مبنی گالیاں دیں اور اس کے بعد مار پیٹ کرنے لگے اور انھیں جے شری رام کا نعرہ لگانے کے لیے کہا۔ مولانا اظہرالاسلام کے ذریعہ نعرہ لگانے سے انکار کرنے پر غنڈہ صفت افراد نے ان پر ہاکی اور ڈنڈوں کی بارش کر دی۔ بری طرح زخمی اور لہو لہان مولانا کو نگڑی پولس نے اسپتال میں داخل کرایا۔ چونکہ ان کی حالت سنگین تھی اس لیے دیر رات انھیں میڈیکا اسپتال لے جایا گیا۔ یہ پورا معاملہ اتوار کی شب کا ہے۔ مولانا اظہرالاسلام کے ساتھ ان کے بھائی مولانا عمران بھی تھے اور بدمعاشوں نے ان کی بھی پٹائی کی۔
پولس نے اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ زخمی کے رشتہ داروں کے ذریعہ 20 نامعلوم افراد کے خلاف معاملہ درج کرایا گیا ہے۔ شکایت دہندہ نے الزام عائد کیا ہے کہ جن لوگوں نے حملہ کیا ان کے پاس ڈنڈے اور راڈ وغیرہ تھے اور انھوں نے مولانا پر ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کا دباو بنایا تھا۔ شکایت نامہ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ملزمین نے مولانا اظہر الاسلام اور ان کے بھائی مولانا عمران کو اس وقت پیٹا جب انھوں نے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے سے انکار کر دیا۔حقوق انسانی سے متعلق مقامی وکیل شاداب انصاری نے اس واقعہ کے بارے میں تفصیل سے بتایا کہ ”جب دونوں بھائیوں نے جے شری رام کا نعرہ نہیں لگایا تو انھیں لاٹھی اور ہاکی سے پٹائی شروع کر دی گئی۔ ایک بھائی مولانا عمران کسی طرح بھاگنے میں کامیاب ہو گئے لیکن مولانا مظہرالاسلام کو ان غنڈوں نے لہو لہان کر دیا۔“ بہر حال، اس وقت مولانا اظہرالاسلام خطرے سے باہر ہیں لیکن شدت پسندوں کے ذریعہ فضا میں زہر گھولنے کی کوششوں کو لے کر اقلیتی طبقہ خوفزدہ ہے۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *