ممبئی ہائی کورٹ نے اے ٹی ایس کو لگائی پھٹکار ،حج ہاﺅس کے امام کی باعزت رہائی کے خلاف اپیل مسترد

نچلی عدالت نے ثبو ت و شواہد کی روشنی میں درست فیصلہ صادر کیا تھا اور ہائی کورٹ کوریاستی حکومت کی اپیل میں ایسی کوئی بھی بات نظر نہیںا ٓئی جس سے نچلی عدالت کے فیصلہ کو تبدیل کرسکے
ممبئی ۔(ملت ٹائمز)
مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ ATS کو آج اس وقت زبردست ہزیمت اٹھانی پڑی جب ممبئی ہائی کورٹ نے دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری کیئے گئے ممبئی میں واقع حج ہاﺅس کے امام کے خلاف اپیل کو مستردکردیا اور اپنے فیصلہ میں کہا کہ نچلی عدالت نے ثبو ت و شواہد کی روشنی میں درست فیصلہ صادر کیا تھا اور ہائی کورٹ کوریاستی حکومت کی اپیل میں ایسی کوئی بھی بات نظر نہیںا ٓئی جس سے نچلی عدالت کے فیصلہ کو تبدیل کرسکیں۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں گرفتاری سے قبل حج ہاﺅس کی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دینے والے غلام حسین یحیٰ کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی)قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس گوئی اور جسٹس کوتوال نے ریاستی حکومت کی جانب سے غلام یحیٰ کے خلاف داخل اپیل 122/2011 کو جمعیة علماءکے وکیل متین شیخ کے دلائل کی سماعت کے بعد خارج کردیا ۔
ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ غلام یحیٰ کو ۴۱ جون ۶۰۰۲ءکو گرفتار کیا تھا اور انہیں مقدمہ سے باعزت بری ہونے کے بعد ہی جیل سے رہائی نصیب ہوئی تھی نیز خصوصی عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کے بیانات کے بعد اپنا فیصلہ ملزم کے حق میں سنایا تھا لہذا ریاستی حکومت کی اپیل کو عدالت کو خارج کردینا چاہئے۔
دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلہ میں نا صرف امام غلام حسین یحیٰ کو راحت دی بلکہ دیگر تین ملزمین کی سزاﺅں میں اضافہ کی ریاستی حکومت کی درخواست کو خارج کردیا جس سے انسداد دہشت گرد دستہ کو منہ کی کھانی پڑی کیونکہ نچلی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعدہی ریاستی حکومت نے ملزمین ارشد حسین غلام احمد، خورشید احمد عبدالغنی لون، محمد رمضان حاجی عبدالوہاب پر شکنجہ کسنا شروع کردیا تھا ، اب جبکہ ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا ملزمین نے راحت کی سانس لی۔
آج کی عدالتی کارروائی کے بعد چار سال تین ماہ جیل کی سلاخوں کی صعوبتیں برداشت کرنے والے غلام حسین یحیٰ نے جمعیة علماءہند کے صدر مولانا سیدر ارشد مدنی ، گلزار اعظمی سمیت وکلاءکا شکریہ ادا کیا کہ انہیں بروقت قانونی امداد پہنچائی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ہائی کورٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کردی کہ اے ٹی ایس نے ان پر دہشت گردی اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کا جھوٹاالزام عائد کیا تھا ۔
غلام یحیٰ نے کہا کہ حالانکہ انہیں ہائی کورٹ سے انصاف مل گیا لیکن جیل میں گذارے گئے ان کے ایام کو ن واپس کرے گا؟ کیا ریاستی حکومت انہیں جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے والے پولس افسران کے خلاف کاررائی کریگی؟
واضح رہے کہ ۶۰۰۲ ءمیں مہاراشٹر اے ٹی ایس نے سینٹرل حج کمیٹی آف انڈیا (حج ہاﺅس) کی مسجد میںا مامت کے فرائض انجام دینے والے غلام یحیٰ کو اس الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا کہ انہوں نے تین کشمیری دہشت گردوں کو مبینہ پنا دی تھی اور وہ ان کے مسلسل رابطہ میں تھے جو ممبئی میں دہشت گردانہ کارروائیا انجام دینے کی غرض سے آئے تھے۔
مقدمہ کی سماعت کے بعد نچلی عدالت نے ایک جانب جہاں غلام یحیٰ کو مقدمہ سے باعزت بری کردیا تھا وہیں تین کشمیریوں کوغیر قانونی طور پر ہتھیار رکھنے کے الزامات کے تحت سات سال قید بامشقت کی سزاءسنائی تھی۔
دوران کارروائی عدالت میں جمعیة علماءکی جانب سے ایڈوکیٹ افروز صدیقی، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ساجد قریشی، رازق شیخ ،ایڈوکیٹ ارشد سکسیس، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے و دیگر بھی موجود تھے۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *