جمیعۃ علماء ہند کے ایک وفد کی اجیت ڈوبھال اور داخلہ سکریٹری سے ملاقات۔ آسام این سی آر کمیٹی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

نئی دہلی ۔12؍جون (ملت ٹائمز ؍پریس ریلیز) آسام میں این آرسی کے زیر اہتمام شہریت پر حتمی فہرست کی آخری تاریخ۳۰؍ جون جیسے جیسے قریب آتی جارہی ہے لوگوں میں اپنے مستقبل کو لے کر بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا ہے۔ ہر طرف شہریت کو لے کر افواہوں کا بازار گرم ہے ۔ اسی درمیان این آر سی کے صوبائی کو آرڈی نیٹر نے ایک انتہائی پریشان کن ہدایت نامہ بھی جاری کردیا ہے جس کے بموجب جو افراد ڈی ووٹرس یا ڈکلیئرڈ فارنرس ہیں ان کے رشتہ داروں کی شہریت بھی مشکوک ہو گی اور ان کا دوبارہ جانچ کی جائے گی۔مزید برآں پنچایت لنک سرٹیفیکٹ ، پرائیویٹ اسکول سرٹیفیکٹ یہاں تک کہ ووٹر لسٹ میں کی مستند کاپیوں کو بھی کسی نہ کسی بہانے مسترد کیا جارہا ہے ۔
ان حالات کے مدنظر جہاں جانشین فدائے ملت مولانا محمود مدنی صاحب کے زیر نگرانی معتکفین خانقاہ مدنی مسجد رشید دیوبند میں پریشان حال لوگوں کے لیے مسلسل دعاؤں کا اہتمام کررہے ہیں ، وہیں دوسری طرف جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے آج یہاں نئی دہلی کے سردار بھون میں امیر الہند مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء ہند کی سربراہی میں قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوال اور ہوم سکریٹری وغیرہ سے ملاقات کی اور ان کے سامنے مذکورہ مسائل پر تفصیل سے بات چیت کی ۔ وفد میں ممبر پارلیامنٹ مولانا بدرالدین اجمل صدر جمعےۃ علماء آسام ، ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی رکن مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند،حافظ بشیر احمد ناظم اعلی جمعیۃ علماء آسام ، ایڈوکیٹ شکیل احمد سید رکن مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند ، مولانا عبدالقادر آسام، ایڈوکیٹ امین اسلام، ایڈوکیٹ این ایچ مظہر بھویا، امین الاسلام ایم ایل اے آسام، مولانا منظر بلال قاسمی وغیرہ شامل تھے ۔
وفد نے اس موقع پر این ایس اے کو ایک یاد داشت بھی پیش کی ، یادداشت میں ۲۲؍نکات کے ذریعہ ریاستی کوآرڈی نیٹر این آرسی کے غیر قانونی اقدامات پر سوالات اٹھا ئے گئے۔ خاص طور سے آسام میں ڈی ووٹرس اور ڈی ایف کے قریبی رشتہ داروں کی شہریت کی دوبارہ جانچ کا مسئلہ اٹھا یا گیا اور اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی کہ شہریت کے لیے لازمی دستاویزات پیش کیے جانے کے باوجود کسی شخص کو محض رشتہ دار ہونے کی بنیاد پر مشکوک قرار دینے کو کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ واضح ہو کہ آسام میں پہلے سے ہی ایک لاکھ اکتالیس ہزار نو سو پینسٹھ ڈی ووٹرس ہیں اور ترپن ہزار ڈی ایف ہیں ۔ ایسے میں اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ اگر ان کے رشتہ داروں کو بھی مشکوک بنایا گیا تو یہ تعداد دس لاکھ سے پار کر جائے گی ۔
وفد نے یہ بھی کہا کہ ثبوتِ شہریت پیش کرنے کے نام پر وہاں کے لاکھوں افراد کے ار د گرد عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انھوں نے بطور حوالہ بتایا کہ سپریم کورٹ کے واضح فیصلہ کے باوجود پنچایت لنک سرٹیفیکٹ کو کسی نہ کسی بہانے مسترد کیا جارہا ہے۔ اسی طرح مکھیا کا تصدیق نامہ تاخیر سے جاری کردہ برتھ سرٹیفیکٹ وغیرہ اورالیکشن کمیشن کی مستند ووٹر لسٹ کو بھی محض اس بنیاد پر مسترد کیا جارہا ہے کہ ان کے ریکارڈس متعلقہ محکمہ میں نہیں ہیں،حالاں کہ اس کی ذمہ داری متعلقہ محکمہ کی ہے کہ وہ ریکارڈ س رکھے نہ کہ آسام کے ناخواندہ اور قبائلی افراد پر یہ ذمہ داری عائد کی جاسکتی ہے ۔یہ اس طرح کے حالات ہیں جن میں آسام کے حقیقی شہری بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں اور ان کے اندر یہ احساس پنپ رہا ہے کہ صاف شفاف شہریت کی جانچ کے بجائے لوگوں کو غیر ملکی بنانے میں سرکار کی دل چسپی زیادہ ہے ۔
جمعیۃ علماء ہندکے وفد نے این ایس اے سے گزار ش کی کہ وہ انصاف کے قیام کے لیے ان شکایتو ں کا فوری ازالہ کریں اور ریاستی این آرسی محکمہ کے ذریعہ یکم مئی اور ۲؍مئی ۲۰۱۸ء کو جاری کردہ ہدایت کو واپس لیا جائے۔ واضح ہو کہ جمعیۃ علما ء ہند آسام میں حق شہریت کا مقدمہ فی الوقت سپریم کورٹ میں بھی لڑرہی ہے ۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *