بورڈ کی خواتین ونگ کا ورک شاپ اختتام پذیر،تحفظ شریعت، اصلاح معاشرہ اور اتحاد ملت کی سرگرمیوں کو علاقائی سطح پر مضبوط کرنے کا عزم

قوموں کی ترقی کا راز اچھے اعمال، اچھے اخلاق اور بہترین کردار سے ہے، اور قوموں کے تنزل کی وجہ بھی یہی ہے کہ ان میں برے اعمال برے اخلاق اور بے حیائی کے کام زور پکڑنے لگیں۔
حیدر آباد(ملت ٹائمز)
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے شعبہ ویمنس ونگ کی طرف سے جاری خواتین کے لئے دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد مو¿رخہ ۰۳جون و یکم جولائی ۸۱۰۲ءبروز سنیچر، اتوار بمقام معین آباد حیدرآباد میں منعقد ہوا، جسکا آخری سیشن کل شام منعقد ہوا، اس ساتویں دو روزہ ورکشاپ میں 28مقامات سے 50سے زائد سرگرم منتخب خاتون مندوبات نے شرکت کیں۔ اس دوروزہ ورکشاپ میں 4اہم نشستیں رکھی گئیں، پہلی نشست میں مسلم پرسنل لا بورڈ کا تعارف، تاریخ اور کام کا دائرہ کار اور شعبہ خواتین کے قیام کا مقصد یہ دو اہم عنوانات پر مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور ڈاکٹر اسماءزہر صاحبہ مسو¿لہ ویمنس ونگ مسلم پرسنل لا بورڈ نے مخاطب کیا۔
دوسری نشست میںاحکام شریعت اور مسلم خواتین، نفاذ شریعت میں خواتین کا رول، میڈیا ایک چیلنج، ملک کی بدلتی سیاست اور سماجی برائیاں ایک چیلنج جیسے موضوعات پر بالترتیب محترمہ ذکیہ نفیس صاحبہ دہلی، محترمہ نگہت پروین خان صاحبہ لکھنو¿، محترمہ اے ایس زینب صاحبہ کیرالا، محترمہ فاطمہ مظفر صاحبہ چنئی اور ڈاکٹر اسماءزہرہ صاحبہ نے خطاب کیا۔
ورکشاپ کے دوسرے دن اتوار کو عالمی تحریک مقتنات پر ڈاکٹر اسماءزہرہ نے کلیدی خطاب پیش کیا۔
ورکشاپ کے دوسرے دن کے پہلے سیشن میں خواتین ارکان بورڈ اور دیگر سرگرم خواتین نے اپنے اپنے شہروں/علاقوں (لکھنو¿، دہلی، ممبئی، چنئی، بنگور، کوذی کوڈ، بھوپال، وجے واڈہ، پونہ، ناگپور، دھولیہ، کولکاتا، پربھنی، دیوبند شموگا، سنبھل، حیدرآباد) میں کی جانے والی اصلاح معاشرہ کی سرگرمیوں اور تین طلاق بل کے خلاف مظاہرے اور ریلیوں کی رپورٹ پیش کی۔
مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اس دو روزہ ورکشاپ میں ہماری قابل احترام بہنوں میں سے چند بہنوں نے اپنے اپنے علاقوں کی خواتین کے اجتماعی جلوس کی رپورٹ پیش کی ہیں۔ رپورٹ سنکر بہت خوشی ہوئی کہ آپ بہنوں نے بڑی محنت، بڑی مشقت اور جانفشانی کے ساتھ یہ خدمت انجام دیں تو لوگ آپ کا شکریہ ادا کریں اور آپ کو مبارکباد دیں اور دنیاکے لوگ بھی آپ کا شکریہ ادا کریں اور مبارکباد دیں۔ ہم سب کی حیثیت اس محنت کے سامنے کچھ نہیں ہے۔ جو اللہ کے سامنے آپ لوگوں کی ہے، اتنے کامیاب احتجاجی جلوس اور مو¿ثر ریلیوں کی رپورٹ اتنے مختصر وقت میں آپ بہنوں کو پیش کرنا پڑا۔ اللہ سے دعا ہے کہ آپ سب بہنوں کو اللہ خوب خوشیوں سے نوازے اور دونوں جہاں کی ترقیات سے سرفراز فرمائے۔

To read this news in English, Please click here 
انہوں نے کہا کہ سچی بات تو یہ ہے کہ اتنی اہم تحفظ شریعت کے سلسلہ میں،اصلاح معاشرہ کے سلسلہ میں جو کوششیں آپ بہنوں نے کی ہیں اور کررہی ہیں اللہ تعالیٰ اسکو شرف قبولیت بخشے۔ یہ آپ سب بہنوں کا کمال نہیں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے، خود اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنا پسندیدہ بندہ بنالیتا ہے، سب سے اہم بات میں اپنی بہنوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ دعوت و اصلاح کی بہت ضرورت ہے، اور اس ضرورت سے بڑی چیز احساس کی دولت ہے، اسوقت یہ ملت، یہ امت دینی اعتبار سے، اخلاقی اعتبار سے، دینداری کی پرہیز گاری کے اعتبار سے بہت پیچھے ہوتے چلی جارہی ہے، چونکہ آپ کا میدان عورتوں میں کام کرنے کا ہے، اصل میں آپ بہنیں ان چیزوں کو زیادہ محسوس کیجئے، جو جوان بچیوں اور لڑکیوں میںعام ہوتی جارہی ہےں۔
انہوں نے کہا کہ قوموں کی ترقی کا راز اچھے اعمال، اچھے اخلاق اور بہترین کردار سے ہے، اور قوموں کے تنزل کی وجہ بھی یہی ہے کہ ان میں برے اعمال برے اخلاق اور بے حیائی کے کام زور پکڑنے لگیں۔
آخری سیشن میں طالبات اور نوجوان خواتین میں کام کی ضرورت، کونسلنگ سینٹر کی اہمیت و ضرورت، آل انڈیا مسلم ویمن ہلپ لائن نمبر 18001028426کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ڈاکٹر اسماءزہرہ نے اختتامی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ شریعت اسلامی کی تفہیم، تعلیم، تحفظ، دعوت کی عظیم ذمہ داری کا احساس ہم سب کو ہے، ہم سب کا ایک ہی نظریہ ہے۔یحافظون حدوداللہ۔ اللہ کے حدود کی حفاظت کرنا۔
انہوں نے کہا کہ دعوت و اصلاح کا کام مسلسل کرتے رہنا ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور آپس میں تفرقہ میں نہ ڈالو، مسلم پرسنل لا بورڈ سے منسلک تمام مکاتب فکر مسالک، جماعتیں، طبقے سب ہمارے ہیں اور ہم ان کے ہیں، صحیح سمت میں سخت جدوجہد کی ضرورت ہے، ہمارا روڈ میپ تیار تھا اور تیار ہے۔ انقلاب نبوی کے منہج پر ہم کو اپنی سرگرمیوں کو انجام دینا ہے۔ انہوں نے بہنوں سے گذارش کی کہ وہ علاقہ واری سطح پر سرگرمیوں کو مضبوط و منظم کریں۔
اس ساتویں دو روزہ ورکشاپ میں احتجاجی ریلیوں کی رپورٹ مندرجہ ذیل خواتین نے پیش کیں:
۱۔ محترمہ زینت مہتا صاحبہ نئی دہلی ۲۔ محترمہ آمنہ رضوان صاحبہ لکھنو، ۳۔محترمہ بشری رحمن صاحبہ سنبھل، ۴۔محترمہ خوشیدہ بیگم صاحبہ دیوبند یوپی، ۵۔ محترمہ ممدوحہ ماجد صاحبہ دہلی، ۶ذکیہ شیخ صاحبہ ممبئی، ۷۔ ڈاکٹر عرشیں خان صاحبہ دھولیہ، ۸۔ محترمہ ثوبیہ لولے صاحبہ پونہ، ۹۔ محترمہ صدیقہ صاحبہ پربھنی، ۰۱۔ محترمہ عظمی پاریکھ صاحبہ ناگپور، ۱۱۔ محترمہ صالحہ رضوان مومناتی صاحبہ بھوپال، ۲۱۔ محترمہ فاطمہ مظفر صاحبہ چنئی، ۳۱۔ محترمہ ڈاکٹر آصفہ نثار صاحبہ بنگلور، ۴۱۔ محترمہ رحمت النساءصاحبہ شموگا، ۴۱۔ محترمہ نیلم غزالہ صاحبہ کولکاتا، ۵۱۔ محترمہ ایے ایس زینب فاطمہ صاحبہ کیرالا۔
اس دو روزہ ورکشاپ میں خاص طور پر طے کیا گیا کہ:
۱۔ خواتین و طالبات میں دعوت دین اصلاح معاشرہ کی سرگرمیوں کو علاقہ واری سطح پر منظم کئے جائیں، لڑکیوں کےلئے علیحدہ پروگرامس رکھے جائیں۔
۲۔ کونسلنگ سینٹرس کا قیام اور آل انڈیا مسلم ویمن ہلپ لائن کو عام کیا جائے۔
۳۔ خواتین کے لئے تربیتی پروگرام کے انعقاد اور علاقہ واری سطح پر تربیتی پروگرامس منعقد کئے جائیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *