دارالقضاءکا قیام سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ۔میں نے شرعی عدالت کا لفظ استعمال نہیں کیاتھا :ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی

یہ میڈیا کا منفی پیر وپیگنڈہ اوراصل مسائل سے ذہن بھٹکانے کی کوشش ہے ۔یہ دارالقضاءہندوستانی عدلیہ کیلئے معاون ہیں متوازی نہیں ۔انہوں نے بتایاکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کی کوشش ہے کہ پورے ملک میں دارلقضاءقائم کئے جائیں ۔
نئی دہلی (ملت ٹائمز منور عالم )
دارالقضاءکا قیام ہندوستانی عدلیہ کے بالمقابل اور متوازی نہیں ہے ۔ یہ عدلیہ کے باہر معاملات کو حل کرنے کا ایک مناسب طریقہ ہے جس کی سپریم کورٹ بھی اجازت دے چکاہے ۔ان خیالات کا اظہار ملت ٹائمز سے بات کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے سکریٹری ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی نے کیا ۔انہوں نے مزید کہاکہ چند سال قبل سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرکے آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ امارت شرعیہ اور دیگر مسلم تنظیموں کے ماتحت چلنے والے دارالقضاءکو چیلنج کرتے ہوئے کہاگیاتھا کہ یہ لوگ ملک میں ایک متوازی عدالت قائم کئے ہوئے ہیں جس پر پابندی لگنی ضروری ہے لیکن 2014 میں سپریم کورٹ نے اس پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے کہاتھاکہ یہ متوازی عدلیہ نہیں ہے بلکہ عدلیہ کے باہر معاملات کو حل کرنے کا ایک طریقہ ہے ۔ان کے فیصلوں کی قانونی طور پر کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے اس لئے اس پر ہم پابندی نہیں لگاسکتے ہیں۔
ملت ٹائمز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ پی ٹی آئی سے گفتگو کے دوران انہوں نے شرعی عدالت کا لفظ استعمال کیاتھا ۔انہوں نے بتایاکہ پی ٹی آئی سے 8 جولائی کو سلیم نام کے ایک صحافی کا فون آیاتھا اور انہوں اس بارے میں سوال کیاتھاجس پر ہم نے کہاکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ 1993 سے دارالقضاءقائم کرتاہوا آرہاہے اور مزید دارالقضاءقائم کئے جائیں گے ۔14 جولائی کو دہلی میں ہونے والی عاملہ کی میٹنگ میں بھی اس تجویز پر بات چیت ہوگی ۔انہوں نے صاف لفظوںمیں اس بات سے انکار کیا کہ ہم نے شرعی عدالت کا لفظ استعمال کیاتھا ،ظفریاب جیلانی کا یہ بھی کہناہے کہ بات سلیم سے ہوئی تھی جبکہ رپوٹ کسی دوسرے صحافی نے بنائی ۔

یہ بھی پڑھیں: دارالقضاءکورٹ کے متوازی عدالت نہیں۔یہ ایک معاون اور مصالحتی ادارہ ہے:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

انہوں نے مزید بتایاکہ دہلی میں ہونے والی عاملہ کی میٹنگ میں اصلاح معاشرہ کمیٹی ،تفیہم شریعت کمیٹی ،سوشل میڈیا ڈیسک سمیت متعدد امور پر بات چیت ہوگی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ تعددازدواج اور حلالہ کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں بورڈ کی جانب سے پٹیشن دائر کی جاچکی ہے اور مزید اہم فیصلے 14 جولائی کی میٹنگ میں لئے جائیں گے ۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے گذشتہ دنوں اپنی ایک رپوٹ میں لکھاتھاکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ ملک بھر میں شرعی عدالت قائم کرے گی جس پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے ۔ملک کی مین اسٹریم میڈیا اور کئی سیاسی وسماجی لیڈران بورڈ کے اس اقدام کو غلط ٹھہراتے یہ کہ ر ہے ہیں کہ ایک سیکولر ملک میں ایک خاص کمیونٹی کی علاحدہ عدالت کا قیام یہ بتاتاہے کہ بورڈ کو عدلیہ پر یقین نہیں ہے اور اس پر پابندی لگنی چاہیئے۔
ممبئی دارالقضاءکے صدر قاضی فیاض عالم قاسمی نے ملت ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ میڈیا کا منفی پیر وپیگنڈہ اوراصل مسائل سے ذہن بھٹکانے کی کوشش ہے ۔یہ دارالقضاءہندوستان عدلیہ کیلئے معاون ہیں متوازی نہیں ۔انہوں نے بتایاکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کی کوشش ہے کہ پورے ملک میں دارلقضاءقائم کئے جائیں ۔جن علاقوں میں امارت شرعیہ ،جمیعة علماءہند ،جماعت اسلامی ،مرکزی جمعیة اہل حدیث یا بریلوی علماءکے درالقضاءہیں وہاں بورڈ کی جانب سے درالقضاءنہیں قائم کرکے ان علاقوں پر توجہ دی جائے گی جہاں درالقضاءنہیں ہے ۔ایک دارالقضاءکے قیام پر تقریبا 50 ہزار روپے کا ماہا صرفہ آتاہے ۔
14 جولائی کو نظام الدین دہلی کے نیو ہورائزن اسکول میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کی مجلس عاملہ کی میٹنگ ہورہی ہے ۔پہلے یہ میٹنگ15 جولائی کو لکھنو میں ہونے والی تھی۔میٹنگ کی جگہ تبدیل کئے جانے کے سلسلے میں ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی نے کہاکہ ہمیں بھی اس کی کوئی خاص وجہ معلوم نہیں ہے ممکن ہے صدر بورڈ کی طبیعت زیادہ علیل ہو اس لئے میٹنگ کی جگہ تبدیل کردی گئی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *