دارالقضاءکورٹ کے متوازی عدالت نہیں۔یہ ایک معاون اور مصالحتی ادارہ ہے:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

دارالقضاءزور زبردستی سے اپنی بات فریقین پر نافذ نہیں کرتا ہے، یہ ثالثی اور مصالحت کے ذریعہ خاندانی زندگی سے متعلق پیدا ہونے والے جھگڑوں کو حل کرنے کا ایک ادارہ ہے، جس میں اخلاقی طور پر فریقین کو صلح پر آمادہ کیا جاتا ہے
نئی دہلی (ملت ٹائمز)
ہندوستان میں دارالقضاءکورٹ کے متوازی عدالت نہیںہے بلکہ یہ ایک معاون اور مصالحتی ادارہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار ملت ٹائمز کو بھیجے گئے ایک پریس ریلیز میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے ترجمان مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کیا ۔ انہوں نے مزید کہاکہ دارالقضاءکا نظام ہندوستان میں آزادی کے پہلے سے مختلف علاقوں میں چل رہا ہے، جن کے ذریعہ ہر سال ہزاروں معاملات آپس میں طے کرائے جاتے ہیں، یہ کوئی متوازی کورٹ نہیں ہے، اور نہ دارالقضاءزور زبردستی سے اپنی بات فریقین پر نافذ کرتا ہے، یہ ثالثی اور مصالحت کے ذریعہ خاندانی زندگی سے متعلق پیدا ہونے والے جھگڑوں کو حل کرنے کا ایک ادارہ ہے، جس میں اخلاقی طور پر فریقین کو صلح پر آمادہ کیا جاتا ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس نظام کو اُن علاقوں تک توسیع دینا چاہتا ہے، جہاں ابھی دارالقضاءقائم نہیں ہوئے ہیں، دارالقضاءکے نظام سے خاص کر خواتین کو بڑی سہولت ہوتی ہے، بغیر کسی خرچ کے نہایت کم وقت میں کونسلنگ کے ذریعہ اُن کے معاملات طے کئے جاتے ہیں، اور اُن کو اُن کے حقوق دلائے جاتے ہیں، دارالقضاءاس بات کی بھی کوشش کرتا ہے کہ طلاق کے واقعات کم ہوں، جب شوہر وبیوی کے درمیان اختلاف بڑھتا ہے اور اندیشہ ہوتا ہے کہ شوہر طلاق دے دے گا تو دارالقضاءعورت کی تحریک پر اس کے شوہر کو سمجھاتا ہے، اور مفاہمت کا راستہ نکالتا ہے، دارالقضاءدر حقیت کورٹ کا معاون ہے، اور عدالتوں پر مقدمات کا جو غیر معمولی بوجھ ہے، وہ اس کو ہلکا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسی پس منظر میں وِشو لوچن بنام حکومت ہند مقدمہ میں سپریم کورٹ نے ۷جولائی ۴۱۰۲ءکو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے دارالقضاءکے خلاف دائر کی گئی درخواست کو خارج کر دیا اور دارالقضاءکے نظام کو قانون کے مطابق قرار دیا.

یہ بھی پڑھیں:دارالقضاءکا قیام سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ۔میں نے شرعی عدالت کا لفظ استعمال نہیں کیاتھا :ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ بورڈ کے معزز سکریٹری جناب ظفریاب جیلانی نے ذرائع ابلاغ کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں” شریعہ کورٹ یا شریعہ عدالت“ کا نام نہیں لیا؛ حالانکہ خود سپریم کورٹ نے اپنے متذکرہ فیصلہ میں دارالقضاءکو شریعہ کورٹ سے تعبیر کیا ہے؛ لیکن پھر بھی جیلانی صاحب نے دارالقضاءکا لفظ استعمال کیا؛ تاکہ کسی کو غلط فہمی پیدا نہیں ہو؛ مگر افسوس کہ ذرائع ابلاغ کے بعض حلقے اتنے مفید اور اہم کام کی تحسین کرنے کے بجائے وہ اس کو بدنام کر رہے ہیں۔ملت ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بھی ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے شرعی عدالت کا لفظ استعمال کیاتھا پی ٹی آئی نے ان کی طرف غلط انتساب کیا ہے ۔
پریس ریلیز میں مولانا رحمانی نے تمام انصاف پسند شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے فرقہ پرستانہ ذہن رکھنے والوں کی بیان بازی سے متاثر نہیں ہوں، اور مسلمانوں سے گزارش کی ہے کہ وہ دارالقضاءکے نظام کو اپنے اپنے علاقوں میں وسعت دیں اور اپنے مسائل کو اس ادارہ کے ذریعہ حل کرائیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *