معروف عالم دین مولانا عبداللہ کاپودروی کا طویل علالت کے بعد انتقال 

جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول کے بانی و مہتمم مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کا اظہار تعزیت
نئی دہلی:مشہورعالم دین ودارالعلوم فلاح دارین ترکیسر گجرات کے رئیس مولانا عبداللہ کاپودروی کا آج طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا،وہ 85 برس کے تھے۔ پسماندگان میں پانچ بیٹی اور ۷بیٹیاں ہیں۔ان کے سانحہ ارتحال کو علمی ودینی حلقوں کیلئے سانحہ عظیم قراردیتے ہوئے جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول کے بانی و مہتمم مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے کہاکہ مولانا کاپودروی کی  دینی،اصلاحی اور دعوتی خدمات کا دائرہ کئی دہائی پر محیط ہے اور اس وقت پوری دنیا میں انکے شاگر دپھیلے ہوئے ہیں۔
اپنے قدیم و دیرینہ تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مولانا اپنے اسلاف کے نقش قدم چلتے ہوئے عظیم کارنامے انجام دیے اورآخری سانس تک دین کی خدمت ان کے مقدر تھی۔دارالعلوم فلاح دارین ترکیسر گجرات کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔یقینا یہ وہ کارنامے اورعلمی خدمات ہیںجنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔مفتی عثمانی نے  مولاناکے صاحبزادےمولانا اسماعیل عبداللہ سے تعزیت  کا اظہار کرتے ہوئے اپنے روابط اور ان کی علمی خدمات کا ذکر کیا۔انہوں نے کہاکہ بلاشبہ مولانا مرحوم کو دیکھ کرعلماء حق کی یاد تازہ ہو جاتی تھی،ایسی شخصیت کا سانحہ ارتحال پوری علمی دنیا  ناقبال تلافی نقصان ہے، دُعا کی کہ اﷲ تعالیٰ مرحوم کو جواررحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو یہ صدمہ وصبر و استقامت سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔  حضرت مولاناکے انتقال کی جانکاہ اطلاع ملتے ہی جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ میں ایصال و ثواب کے لئے ’دعائیہ مجلس کا اہتما کیا گیا جس میں اساتذہ اور طلبہ نے قرآن پاک کی تلاوت اورآپ کے بلندیہ درجات کے لئے دعائیں کی گئیں۔
  مشہور رفاہی تنظیم خدمت خلق ٹرسٹ انڈیانے بین الاقوامی شہرت یافتہ علم دین ،مفکر مولانا عبداللہ کاپودروی کے انتقال پر ملال کو دینی و ملی حلقوں کیلئے بڑا خسارہ قراردیا۔ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی اور دیگر ممبران نے مولانا کی مغفرت کی دعا ءکرتے ہوئے سبھی سپسماندگان سے اظہار تعزیت کیا۔
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *