اگر سنبھال نہیں سکتے تو منہدم کردو تاج محل ،یوگی سرکار کو سپریم کورٹ کی سخت پھٹکار

ہمارے ملک کا تاج محل پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی زیادہ خوبصورت ہے اور یہ بیرونی کرنسی کے ذخائر میں اضافہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8 کروڑ لوگ ایفل ٹاور کو دیکھنے جاتے ہیں جو ایک ٹی وی ٹاور کی طرح نظر آتا ہے لیکن ہمارا تاج محل اس سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے
نئی دہلی (ملت ٹائمز)
تاج محل کے اردگر د پھیلی ہوئی آلودگی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج انتہائی سخت رخ اپنا اوریوپی کی یوگی حکومت کو سخت پھٹکا رلگائی ہے۔ عدالت عظمی نے حکم دیا کہ ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے کر تاج محل کے آس پاس پھیل رہی آلودگی کے اسباب دریافت کئے تاکہ اس تاریخی عمارت کو محفوظ رکھا جا سکے۔
مرکزی حکومت اور اتر پردیش کی یوگی حکومت دونوں کو سخت پھٹکار لگائی۔ عدالت عظمیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر تاج محل کو آپ سنبھال نہیں سکتے تو اسے بند کر دویا پھر مہندم کر دو۔ سپریم کورٹ نے یہ باتیں تاج محل کی مرمت سے وابستہ ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہیں۔ سپریم کورٹ کی جو بنچ اس معاملہ کی سماعت کر رہی ہے اس میں جسٹس ایم بی لوکر اور جسٹس دیپک گپتا شامل ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رپورٹ پیش کئے جانے کے باوجود حکومت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ سپریم کورٹ نے تاج محل کی حفاظت کے تعلق سے کوئی خاکہ پیش کرنے میں ناکام رہنے پر اتر پردیش حکومت کی بھی سرزنش کی ہے۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اس تاریخی عمارت کی حفاظت کے لئے کیا اقدام لئے جائیں اس کے حوالہ سے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

سپریم کورٹ کے جج نے سماعت کے دوران یہ بھی کہا کہ ہمارے ملک کا تاج محل پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی زیادہ خوبصورت ہے اور یہ بیرونی کرنسی کے ذخائر میں اضافہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8 کروڑ لوگ ایفل ٹاور کو دیکھنے جاتے ہیں جو ایک ٹی وی ٹاور کی طرح نظر آتا ہے لیکن ہمارا تاج محل اس سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے۔ مرکزی حکومت کو پھٹکار لگاتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ، ”کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کی لاپروائی سے ملک کو کتنا بڑا نقصان ہو رہا ہے!“
سپریم کورٹ نے آگرہ میں صنعتی اکائیوں کی توسیع پر جاری پابندی کی خلاف ورزی کے تعلق سے بھی سوال جواب کئے۔ سپریم کورٹ نے سال کی شروعات میں اس مغل عمارت کے تحفظ کے لئے ضروری اقدام اٹھانے میں ناکامی کے لئے ہندوستانی آثار قدیمہ (اے ایس آئی) کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ مئی میں عدالت نے تاج محل کا رنگ تبدیل ہونے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ تاج محل کا رنگ آلودگی کی وجہ سے پہلے پیلا پڑ ا اور بعد میں بھورا پڑ رہا ہے۔واضح رہے کہ آگرہ کا تاج محل انڈسٹریل بیلٹ میں واقع ہے اور شہر کی آلودگی پچھلے 30 سالوں میں بہت تیزی سے بڑھی ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحت کی طرف سے جاری کردہ فضائی آلودگی کے اعداد شمار کے مطابق آگرہ شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں 8 ویں مقام پر ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *