شاہ فیصل کی جرأت رندانہ ۔۔۔۔

ایم ودود ساجد

2010کے ٹاپرجموں وکشمیرکے نوجوان شاہ فیصل نے جب سول سروسز کے امتحانات میں پہلا مقام حاصل کیا تھا توملک کی مختلف تنظیموں کے ساتھ ساتھ حکومت نے بھی انہیں سرآنکھوں پر بٹھایا تھا۔لیکن اب حکومت نے انہیں سر سے اتارکرپٹخ دیاہے اور ان کے پاؤں میں زنجیر ڈالنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے ٹویٹ پرملک میں جاری ’ریپ کلچر‘پراظہار خیال کردیا ہے۔حکومت کے ’محکمہ ٹریننگ اینڈ پرسنیل‘(DoT&P)نے ان کے تازہ ٹویٹ پر انہیں نوٹس جاری کیا ہے اور ان کے خلاف انکوائری بھی بٹھادی ہے ۔۔۔۔

شاہ فیصل نے انگریزی میں جو ٹویٹ کیا تھا اس کا ترجمہ یہ ہے:
وطن پرستی + آبادی + ناخواندگی + شراب + عریانیت +
ٹکنالوجی + لاقانونیت = ریپستان

اب انہیں جموں وکشمیر کے جنرل ایڈمنسٹریشن نے جو نوٹس جاری کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ ’’آپ نے نوکری کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے اورآپ مکمل دیانتداری اور INTEGRITY قائم رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ لہذا مرکزی حکومت نے آپ کے خلاف چارہ جوئی کیلئے کہا ہے۔‘

شاہ فیصل نے بھی اس نوٹس کے ساتھ ساتھ اس کا جواب پھر ٹویٹ کردیا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ جنوب ایشیا میں ریپ کلچر کے خلاف میرے طنزیہ ٹویٹ پرمیرے بوس (سینئر افسر) نے مجھے محبت نامہ بھیجا ہے۔شاہ فیصل نے لکھا ہے کہ میں نے کسی ضابطہ کی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور یہ کہ عصمت دری سرکاری پالیسی کا حصہ نہیں ہے کہ جس کے خلاف لکھنے کو حکومت کے خلاف لکھنا تصور کیا جائے۔….

تو وزیر اعظم صاحب کیا واقعی عصمت دری اور lynching آپ کی حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے ۔۔۔؟

شاہ فیصل کشمیرکے پہلے نوجوان ہیں جنہوں نے سول سروسز میں ٹاپ کیاتھا۔میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں۔قومی اقلیتی تعلیمی اداروں کے کمیشن کی ممبر شبستاں غفار کی معرفت میں نے انہیں کامیاب ہوتے ہی ایک پروگرام میں بلاکر ان کااعزاز کیا تھااور تین سو کے قریب نوجوانوں کے ساتھ ان کا انٹر ایکشن رکھا تھا۔وہ بہت صاف ستھری ذہنیت کے حامل ایک مذہبی انسان ہیں۔علامہ اقبال سے بہت متاثر ہیں اور اقبال کے فلسفہ خودی کی تشریح پر اچھی خاصی مہارت رکھتے ہیں۔

شاہ فیصل نے اپنے مذکورہ ٹویٹ میں جو کچھ لکھا ہے اس میں آخر کیا غلط ہے؟

کیا اس ملک میں وطن پرستی کے نام پرہندو نوجوانوں کی ایک بڑی ناخواندہ آبادی کوایک خاص فرقہ کے بے سہارا لوگوں پر ٹوٹ پڑنے کی آزادی نہیں دیدی گئی ہے؟

کیا اس ملک میں شراب اور عریانیت عام نہیں ہوگئی ہے؟

کیا اس ملک میں لاقانونیت کے سہارے مجبور لڑکیوں‘عورتوں کی عصمت ریزی کے واقعات کو ٹکنالوجی کے ذریعہ کھلے عام پھیلایا نہیں جارہا ہے؟

اگر ملک میں منتخب حکومت اور پولیس وانتظامیہ کے ہوتے ہوئے مذکورہ واقعات کسی خوف کے بغیر جاری ہیں تو اس ملک کو ریپستان اور لنچستان کہنے میں حرج کیا ہے؟سینئر صحافی عبدالسلام Abdussalam Asim کہتے ہیں کہ یہ واقعات پہلے بھی ہوتے تھے لیکن پہلے مرتکبین پر قابو پالیا جاتا تھا مگر آج ان کی سرپرستی کی جارہی ہے۔…..مودی حکومت کو شاہ فیصل کا ٹویٹ تو ناگوار گزرا لیکن نصف درجن سے زائداپنے ان وزراء کی حرکت پر کوئی ندامت تک نہیں ہوئی جنہوں نے مظفر نگر کے مسلم کش فسادیوں‘دادری میں محمد اخلاق کے قاتلوں اور جھارکھنڈ میں مظلوم علیم الدین انصاری کے قاتلوں کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے اور ان کا اعزاز کیا۔یہاں تک کہ مودی حکومت نے خود اپنی وزیر خارجہ سشما سوراج کے ذریعہ ایک مسلم شہری کی مدد کرنے اور متعصب ہندو افسر کا تبادلہ کرنے پر ان کے خلاف مغلظات بکنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ایسے میں اگر شاہ فیصل نے جرات سے کام لیتے ہوئے حکومت کو آئینہ دکھایا ہے تو عوام الناس کو ان کا ساتھ دینا چاہئے۔

شاہ فیصل اس وقت تعلیمی چھٹی۔۔۔ Study leave ۔۔۔۔پرامریکہ گئے ہوئے ہیں اور فل برائٹ فیلو شپ کے تحت ریسرچ کر رہے ہیں۔انہوں نے محکمہ کا نوٹس ملنے کے بعدکسی قسم کا اظہار معذرت نہیں کیا ہے۔بلکہ ایک طرح سے حکومت کے اس نوٹس کا مذاق اڑایا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاہ فیصل ملک واپس آنے کے بعد افسر شاہی سے استعفی دیدیں گے اور شاید سیاست میں طبع آزمائی کریں گے۔سرکاری نوکری میں رہتے ہوئے فی الواقع کوئی افسر اس طرح کھلے عام اظہار خیال نہیں کرتا۔ مسلم افسر تو بالکل نہیں۔اگر شاہ فیصل جیسے سمجھدار افسر نے اتنا کھلا ٹویٹ کیا ہے اور پھر حکومت کے نوٹس کو اس طرح جوتے کی نوک سے اڑا دیا ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس ملک میں Rape اور Lynching سے حالات کتنے خرا ب ہوگئے ہیں ۔۔۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *