کمانڈوز جہاز کے اندر سے نواز شریف اور مریم نواز کو کیا جائے گا گرفتار ، پاکستان کی نگران حکومت پر خوف سوار، لاہور میں دفعہ 144 نافذ

لاہور: (ایجنسی) تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ  لاہور میں   نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری  کھیل کا پانسہ بدل سکتی ہے اور نگرں حکومت اور اسٹبلشمنٹ کی  تمام تیاریاں دھری کی دھری رہ سکتی ہیں اور مسلم لیگ نون حالات سے بھر فائدہ اٹھاتے ہوئے  انتخابات میں  پہلے سے زیادہ کامیابی بھی حاصل کرسکتی ہے۔
نگراں حکومت  نواز شریف اورمریم نواش کو گرفتار کرنے کے بارے میں شدید خوف کا شکار ہے  اور لاہر میں  ہر ممکنہ گڑ بڑ سے بچنے کے لیے  اسٹبلشمنٹ  سے ملنے والے اوپر تلے احکامات کے بعد    ائیر پورٹ پر  کمانڈوز کو  متعین کرنے  اور انہی کمانڈوز کے ذریعے  نواز شریف  اور مریم نواز کو گرفتار کرتے  ہوئے   ائیر پورٹ  کے اندر ہی کھڑے ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر  اڈیالہ   جیل منتقل کرنے  پر غور کررہی ہے۔
نگراں  حکومت  لاہور میں  انتخابات سے قبل بہت بڑے اجتماع  کے اکھٹا ہونے کی صورت  میں  گڑ  بڑ ہونے اور اجتماع کو منتقل کرنے میں مشکل پیش  آنے کی صورت میں   بازی   عمران خان  اور  اسٹبلشمنٹ  کے ہاتھوں سے نکل کر  مسلم لیگ نون کی کامیابی  میں بدلنے  کے خطرے کی وجہ سے  نگراں حکومت شدید دباو کا شکار ہے۔
سابق وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی کی وطن واپسی کے موقع پر لاہور ایئرپورٹ پر نیب کے 22 افسر موجود ہونگے، 100 ایلیٹ کمانڈو تعینات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، سول ایوی ایشن اتھارٹی نے نیب کو جہاز تک رسائی بھی دے دی ہے۔
دفعہ 144 بھی نافذ ہوگی، ڈی جی سول ایوی ایشن اور سی سی پی او لاہور کو بھی ایئرپورٹ پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ احتساب عدالت کے جج کو جمعہ کے روز جیل پہنچنے کیلئے خط بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔
لاہور انتظامیہ لیگی کارکنوں کے قافلوں کا شہر میں داخلہ روکنے کیلئے سرگرم ہے، راستے بند کرنے کیلئے کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ بھی جاری ہے، صورتحال کے پیش نظر پارٹی قیادت نے کارکنوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔
ذرائع کے مطا بق نوازشریف اور مریم نواز کو لاہور یا اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترتے ہی اڈیالہ جیل منتقل کئے جانے کا امکان ہے۔
نیب نے ہیلی کاپٹرز کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست کی تھی، وزارت داخلہ کے پاس ہیلی کاپٹر نہ ہونے کی وجہ سے کابینہ ڈویژن نے وزیر اعظم کے لیے مختص ہیلی کاپٹر دے دیے۔
نیب نے گرفتاری کے لیے جو 16 رکنی ٹیم تشکیل دی ہے اس میں 9نیب کے افسران اور باقی 7پولیس کے افسران شامل ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *