اور کتنے معصوموں کا لہو چاہیئے قانون سازی کیلئے ؟

ہجومی تشدد ،بھیڑ کی غنڈہ گردی ،انتہاءپسندوں کی دہشت گردی اور بے گناہوں پر مختلف بہانوں سے بھیڑ کا حملہ اتفاقی واقعہ نہیں بی جے پی کی سیاست کا حصہ ہے ۔ گﺅ کشی کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں پر حملہ کرنے والا ایک مخصوص طبقہ ہے جو ملک کے مختلف علاقوں میں پھیلا ہواہے ،اسے حکومت کی سرپرستی حاصل ہے ۔باضابطہ طور پر اسے اس بات کی یقین دہانی کرائی جاچکی ہے کہ کوئی کاروائی نہیں ہوگی ،کبھی بھی عوام کو خاموش کرنے کیلئے عارضی کاروئی کردی جائے گی ۔
خبر درخبر (566)
شمس تبریز قاسمی
”مسلمان بیف کھانا چھوڑدیں تو لنچنگ کے واقعات بند ہوجائیں گے“ یہ جملہ آر ایس ایس کی مسلم راشٹریہ منچ کے صدر اندریش کمار کا ہے ،ان پر اجمیر بم بلاسٹ کا بھی الزام ہے ۔راجستھان سے بی جے پی کے رکن اسمبلی گیان دیو آہوجا کا کہناہے کہ، ”ہمارے حامیوں نے اکبر خان کو دو چار تھپڑ مارے تھے اور پولس کو سونپ دیا تھا۔ اس کے بعد پولس نے اس کے ساتھ کیا کیا ہمیں نہیں معلوم“ مشہور بی جے پی رہنما ونے کٹیار کا کہنا ہے کہ ”مسلمان گائے کو چھونے سے پہلے کئی بار سوچیں یہ ملک کے کروڑوں ہندوں کے عقیدے کا سوال ہے۔“ کہ گائے کو لے کر پورا ہندو سماج مشتعل ہو گیا ہے اس لئے مسلمانوں کو گائے کو ہاتھ نہیں لگانا چاہئے۔ بہت سے مسلمان ہیں جو گائے کو پالتے بھی ہیں اور کاٹتے بھی ہیں۔
بی جے لیڈروں کا یہ اشتعال انگیز بیان الور میں میں اکبر خان کی موت کے بعد سامنے آیاہے جس سے معلوم ہورہاہے کہ ہجومی تشددکے یہ واقعات اتفاقی نہیں ہیں بلکہ ان دہشت گردوں کی پشت پر کوئی اور طاقت کام کررہی ہے ۔تجزیہ نگاروں کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ ہجومی تشدد ،بھیڑ کی غنڈہ گردی ،انتہاءپسندوں کی دہشت گردی اور بے گناہوں پر مختلف بہانوں سے بھیڑ کا حملہ اتفاقی واقعہ نہیں بی جے پی کی سیاست کا حصہ ہے ۔ گﺅ کشی کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں پر حملہ کرنے والا ایک مخصوص طبقہ ہے جو ملک کے مختلف علاقوں میں پھیلا ہواہے ،اسے حکومت کی سرپرستی حاصل ہے ۔باضابطہ طور پر اسے اس بات کی یقین دہانی کرائی جاچکی ہے کہ کوئی کاروائی نہیں ہوگی ،کبھی بھی عوام کو خاموش کرنے کیلئے عارضی کاروئی کردی جائے گی ۔
چناں چہ گذشتہ چار سالوں میں 80 سے زائد ہجومی تشدد کے واقعات محض گﺅ تحفظ کے نام پر پیش آئے ہیں جس میں سے 30 کی موت ہوچکی ہے ۔یہ رپوٹ انڈیا اسپینڈ کی ہے ،دیگر رپوٹ میں مرنے والوں کی تعداد تقریبا 80 کے قریب بتائی گئی ہے ۔ان تمام مقتولین کے مجرمین کے خلاف کوئی مضبوط اور ٹھوس کاروائی نہیں کی گئی ہے جس کا نتیجہ ہے کہ یہ واقعات مسلسل پیش آرہے ہیں ۔
گذشتہ دنوں راجستھان کے الور میں اکبر خان کا قتل بھی بی جے پی کے ہندتوا ایجنڈا کا حصہ ہے ۔محمد اکبر خان اپنے ساتھی محمد اسلم کے ساتھ گاڑی پر گائے لے جارہے تھے ،دود ھ کا کاروبار ہے اور اسی مقصد سے وہ گائے خریدکر لارہے تھے ۔رات کے بارہ بجے گﺅ رکشکوں نے ان پر حملہ کرکے زخمی کردیا اور پولس کے حوالے کردیا ۔پولس نے محض چار کیلومیٹرکے فاصلے پر موجود ہسپتال تک پہونچے میں چار گھنٹے کا وقت لگادیا ۔انڈین ایکسپریس کی رپوٹ کے مطابق پولس والوںنے پہلے گائے کو گﺅ شالہ پہونچایا،راستے میں چائے پی اور پھر چار بجے وہ زخمی اکبر کو لیکر ہسپتال پہونچی تو اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی تھی ۔پوسٹ مارٹم کی رپوٹ بتاتی ہے کہ اکبر خان کے جسم پر زخموں کے متعدد نشان ہیں ،انہیں مارا پیٹا گیا اور صدمے سے موت ہوگئی ۔گﺅ رکشکوں کے حملہ کے بعد پولس کو سونپے جانے کے وقت کی ایک تصویر بھی سامنے آئی ہے جس میں اکبر کے جسم پر کوئی نشان نہیں دکھ رہاہے البتہ آنکھیں بند ہے لیکن چار کیلومیٹر کا فاصلہ چار گھنٹہ میں طے کرکے پولس جب ہسپتال پہونچتی ہے تو اکبر کی موت ہوجاتی ہے ،اس کے جسم پر کئی طرح کے زخم اور نشانات پائے جاتے ہیں ۔مطلب اکبر خان کو گﺅ رکشکوں کے بعد پولس والوں نے بھی مارا ،عوام کی حفاظت پر مامور پولس نے عملہ دہشت گردوں جیسی حرکت کی ،زخموں سے تڑپ رہے اکبر کو ہسپتال لیجانے کے بجائے پہلے گائے کو گﺅ شالہ پہونچایا،راستے میں چائے پی اور زخمی اکبر خان کی لات گھونسے سے خوب پٹائی کی یہاں تک ہسپتال پہونچتے پہونچتے اس کی موت ہوگئی ۔
اکبر خان کی موت کیلئے گﺅ رکشکوں سے زیادہ پولس ذمہ دار ہے۔ اصل مجرم یہاں کی حکومت ہے جو لنچگ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے مختلف شکلوں میں اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی توہین کیلئے بھی سرکار جواب دہ ہے ۔17 جولائی کو سپریم کورٹ نے لنچگ کے سلسلے میں دائر ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہاتھاکہ ایک جمہوری ملک میں ہجومی تشدد اور بھیڑ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔حکومت سے قانون بنانے کا مطالبہ بھی کیاگیاتھا لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں ہے ۔ہندوستان سمیت دنیا بھر میں ہنگامہ برپا ہونے کے باوجود ملک کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں اب تک یہی کہ رہے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو قانون بنایاجائے گا جناب !اب اور کتنے معصوموں کا لہو چاہیئے لنچگ کے خلاف قانون بنانے کیلئے ۔80 سے زائد اقتل کچھ کم ہیں کیا ؟۔
stqasmi@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *