کل جمعہ کو پیش کیا جائے گا راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل ،کانگریس بھی کرسکتی ہے حمایت

عام مسلمانوں کا یہ مانناہے کہ یہ بل شریعت میں مداخلت اور مسلم خواتین کے ساتھ زیادتی ہے اور بی جے پی کا مقصد ہندو مسلم کرکے ماحول کو فرقہ وارانہ بناناہے
نئی دہلی (ملت ٹائمز)
راجیہ سبھا میں کل جمعہ کو 11 بجے طلاق بل پیش کیا جائے گا ،غالب گمان ہے کانگریس بھی اس مرتبہ اس بل کی حمایت کرے گی اور آسانی کے ساتھ یہ قانون پاس ہوجائے گا ۔اس سے قبل دسمبر 2017 میں لوک سبھا سے صوتی ووٹ کے ذریعہ یہ بل پاس ہواتھا اس کے بعد جنوری 2018 میں یہ بل راجیہ سبھا میں پیش کیا گیاجہاں کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی شدید مخالفت کی بنیاد پر یہ بل پاس نہیں ہوسکا تاہم اب ایسا لگ رہاہے کہ کانگریس بھی حمایت کرے گی اور بآسانی یہ بل راجیہ سبھا سے پاس ہوجائے گا ۔چند دنوں قبل کانگریس کی خواتین ونگ نے پریس کانفرنس کے کرکے کہاتھا کہ اگر بل میں کچھ ترمیمات کردی جاتی ہے تو ہم اسے سپورٹ کریں گے اس لئے یہ بات یقینی ہوچکی ہے کہ کانگریس اب بل کو سپورٹ کرے گی کیوں کہ مرکزی کابینہ میں طلاق ثلاثہ بل میں آج تین ترمیمات کو منظور ی دے دی ہے ۔

واضح رہے کہ جب یہ بل پیش کی گیاتھا تو آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ نے اسے سرے سے مسترد کردیا تھا اور ملک بھر خواتین نے پروزر احتجاج کیا ۔ملت ٹائمز کے ذرائع کے مطابق بورڈ کا یہ منصوبہ تھاکہ اگر موجودہ شکل میں بل راجیہ سبھا سے پاس ہوجاتاہے تو اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا آسان ہوگا لیکن اب کچھ ترمیم کے ساتھ یہ بل کل راجیہ سبھا میں پیش ہونے جارہاہے ۔ترمیم کے بعد اب تک آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ نے اپنا کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے ۔معروف دانشومولانا برہان الدین قاسمی نے اپنے ایک پوسٹ میں لکھاہے یہ بل اسلامی عقائد اور بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے ۔اس کی پرزور مخالفت ہونی چاہئے ۔خواتین مسلم پرسنل لاءبورڈ کی صدر محترمہ شائستہ عبنر نے بھی موجودہ ترمیم سے اختلاف ظاہر کیاہے ۔عام مسلمانوں کا یہ مانناہے کہ یہ بل شریعت میں مداخلت اور مسلم خواتین کے ساتھ زیادتی ہے اور بی جے پی کا مقصد ہندو مسلم کرکے ماحول کو فرقہ وارانہ بناناہے ۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *