طلاق کے خلاف عدالت جانے والی نداخان کا بی جے پی جوائن کرنے کا فیصلہ ،ملکی سطح پر مسلم پرسنل لاءکے خلاف مہم چلانے کا عزم

وہ حالیہ دنوں میں تین طلاق ،نکاح حلالہ اور تعدد ازوداج کے خلاف ضلعی سطح پر کام کررہی ہیں لیکن بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد اسے ملکی سطح پر مسلم پرسنل لاءکے خلاف کام کرنے کا موقع ملے گا
بریلی(ملت ٹائمز)
بریلی کی نداخان نے بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ٹائمز آف انڈیا کی رپوٹ کے مطابق گذشتہ دنوں اترا کھنڈ کی وزیر برائے فلاح وبہبود خواتین واطفال ریکھا آریا نے ندا خان سے ملاقات کرکے ان سے بی جے پی میں شامل ہونے کی درخواست کی جس کے بعد ندا خان نے پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیاہے ۔نداخان کا کہناہے کہ وہ حالیہ دنوں میں تین طلاق ،نکاح حلالہ اور تعدد ازوداج کے خلاف ضلعی سطح پر کام کررہی ہیں لیکن بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد اسے ملکی سطح پر مسلم پرسنل لاءکے خلاف کام کرنے کا موقع ملے گا ۔نداخان نے یہ بھی بتایاکہ پارٹی نے ابھی یہ واضح نہیں کیاہے کہ اس کی جوائنگ کب اور کہاں ہوگی ۔
نداخان کا تعلق بریلی کے اعلی حضرت خاندان سے ہے ۔گذشتہ چند سال قبل اسے تین طلاق دے دیاگیا تھاجس کے بعد اس نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور پھر این جی او قائم کرکے تین طلاق ،حلالہ اور تعدد ازدواج کے خلاف کام کرنا شروع کردیا ۔اسلام کے خلاف اس کے بڑھتے پیروپیگنڈہ سے تنگ آکر بریلی کے ایک دارالافتاءنے اس کے خلاف کفر کا بھی فتوی جاری کررکھاہے ۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کولکاتا میں مقیم عشرت جہاں بھی تین طلاق کے خلاف سپریم کورٹ جانے کے بعد بی جے پی میں شامل ہوچکی ہے حالاں ملت ٹائمز کی تحقیق میں یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ اس کے شوہر نے اس کو کوئی طلاق نہیں دی تھی ۔عشرت جہاں کے ساتھ اس کی وکیل محترمہ نازیہ الہی خان بھی بی جے پی میں شامل ہوچکی ہے ۔بعض ذرئع کے مطابق عشرت جہاں کو اب پارٹی میں کنارے لگایاجاچکاہے اور کسی بھی طرح کی میٹنگ میں اسے شرکت کی دعوت نہیں دی جاتی ہے ۔دسمبر 2017 میں طلاق بل لوک سبھا سے پاس کراتے وقت بی جے پی کو یہ دکھاناتھاکہ مسلم خواتین اس کے موقف سے اتفاق رکھتی ہیں اسی لئے عشرت جہاں کے بی جے پی میںشامل ہونے کے معاملہ کی خوب تشہیرکی گئی اور اب عین اس وقت جب راجیہ سبھا میں بل پیش کیا جارہاہے بریلی کی نداخان نے بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *