آج راجیہ سبھا میں طلاق بل ہوگا پیش ،کس کا ساتھ دے گی اپوزیشن ؟

آج مانسون سیشن کا آخری دن ہے جس کی بنیاد پر بی جے پی کیلئے اس بل کو پاس کرانا انا کا مسئلہ بنا ہواہے وہیں اپوزیشن کا رخ اس مرتبہ واضح نظر نہیں آرہاہے
نئی دہلی (ملت ٹائمز)
راجیہ سبھا میںآج طلاق بل پیش کیا جائے گا ،فی الحال ڈھائی بجے تک کیلئے راجیہ سبھا کی کاروائی ملتوی کردی گئی ہے ۔ آج مانسون سیشن کا آخری دن ہے جس کی بنیاد پر بی جے پی کیلئے اس بل کو پاس کرانا انا کا مسئلہ بنا ہواہے وہیں اپوزیشن کا رخ اس مرتبہ واضح نظر نہیں آرہاہے تاہم بل پر بحث کا مطالبہ برقرار ہے جبکہ حکومت کا کہناہے کہ بغیر بحث کی ہے بل کو پاس کردیا جائے ۔
بعض تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ غالب گمان ہے کانگریس بھی اس مرتبہ اس بل کی حمایت کرے گی اور آسانی کے ساتھ یہ قانون پاس ہوجائے گا۔اس سے قبل دسمبر 2017 میں لوک سبھا سے صوتی ووٹ کے ذریعہ یہ بل پاس ہواتھا اس کے بعد جنوری 2018 میں یہ بل راجیہ سبھا میں پیش کیا گیاجہاں کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی شدید مخالفت کی بنیاد پر یہ بل پاس نہیں ہوسکا تاہم اب ایسا لگ رہاہے کہ کانگریس بھی حمایت کرے گی اور بآسانی یہ بل راجیہ سبھا سے پاس ہوجائے گا۔چند دنوں قبل کانگریس کی خواتین ونگ نے پریس کانفرنس کے کرکے کہاتھا کہ اگر بل میں کچھ ترمیمات کردی جاتی ہے تو ہم اسے سپورٹ کریں گے اس لئے یہ بات یقینی ہوچکی ہے کہ کانگریس اب بل کو سپورٹ کرے گی کیوں کہ مرکزی کابینہ میں طلاق ثلاثہ بل میں آج تین ترمیمات کو منظور ی دے دی ہے۔
واضح رہے کہ جب یہ بل پیش کی گیاتھا تو آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ نے اسے سرے سے مسترد کردیا تھا اور ملک بھر خواتین نے پروزر احتجاج کیا۔ملت ٹائمز کے ذرائع کے مطابق بورڈ کا یہ منصوبہ تھاکہ اگر موجودہ شکل میں بل راجیہ سبھا سے پاس ہوجاتاہے تو اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا آسان ہوگا لیکن اب کچھ ترمیم کے ساتھ یہ بل کل راجیہ سبھا میں پیش ہونے جارہاہے۔ترمیم کے بعد اب تک آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ نے اپنا کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔معروف دانشومولانا برہان الدین قاسمی نے اپنے ایک پوسٹ میں لکھاہے یہ بل اسلامی عقائد اور بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے۔اس کی پرزور مخالفت ہونی چاہئے۔خواتین مسلم پرسنل لائ بورڈ کی صدر محترمہ شائستہ عبنر نے بھی موجودہ ترمیم سے اختلاف ظاہر کیاہے۔عام مسلمانوں کا یہ مانناہے کہ یہ بل شریعت میں مداخلت اور مسلم خواتین کے ساتھ زیادتی ہے اور بی جے پی کا مقصد ہندو مسلم کرکے ماحول کو فرقہ وارانہ بناناہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *