طلاق ثلاثہ بل میں حکومت کی مجوزہ ترمیمات مسلم پرسنل لاءبورڈ کیلئے ناقابل قبو ل ،واپس لینے یا سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کا مطالبہ

سیلکٹ کمیٹی کو مسلمانوں کی معتبر تنظیموں اور قانون شریعت سے آگاہ شخصیتوں سے مشورہ کرنا اور ان کے نقطہ نظر کو سننا چاہئے، اس بل میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ طلاق بائن کو بھی تین طلاق کے مماثل مانا گیا ہے
نئی دہلی (ملت ٹائمز)
طلاق ثلاثہ بل میں حکومت کی مجوزہ ترمیمات ناکافی اور بے فائدہ ہے۔ان ترمیمات سے مسلمانوں کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا، بنیادی بات یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا قانون ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے، جس میں قانون شریعت کے اندر مداخلت کی گئی ہو، شرعاََ اگر شوہر تین طلاق دے تو بہر حال طلاق واقع ہو جاتی ہے، یہ اور بات ہے کہ زیادہ تر اہل سنت والجماعت کے نزدیک تینوں طلاقیں پڑ جاتی ہیں، جب کہ بعض اہل سنت نیز اہل تشیع کے نزدیک ایک بار تین طلاق دی جائے تو ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے؛ اس لئے اس قانون کے مخالفِ شریعت ہونے پر مسلمانوں کے تمام مکاتب فقہ کا اتفاق ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے ترجمان اور سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے حکومت کی طرف سے تین ترمیمات کے اعلان کے بعد ایک پریس ریلیز جاری کرکے کیاہے ۔
مولانا رحمانی نے مزید لکھاہے کہ یہ بات غیر منطقی ہے کہ مجوّزہ قانون کے مطابق تین طلاق کالعدم ہوتی ہے، یعنی پڑتی ہی نہیں ہے؛ لیکن اس کے باوجود اس پر سزا متعین کی گئی ہے، یعنی جو جرم واقع ہی نہیں ہوا، اس پر شوہر کو سزا دی جائے گی، پھر نئی ترمیم کے مطابق شوہر کو ضمانت اس وقت حاصل ہوگی، جب وہ مطلقہ بیوی کو معاوضہ دینے کے لئے رضامند ہو جائے، اور معاوضہ کی مقدار بھی شوہر طے نہیں کرے گا؛ بلکہ مجسٹریٹ طے کرے گا، اس میں شوہر پر ناقابل برداشت بوجھ عائد کیا جا سکتا ہے، نیز طلاق دینے میں اگر اس کی زیادتی نہیں ہو، تب بھی وہی سزا کا مستحق ہوگا، مجوّزہ ترمیم میں متاثرہ خاتون یا اس کے خونی رشتہ دار کو مرد کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا حق دیا گیا ہے، رشتہ داروں کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے، عام طور پر عورت خود ایسے واقعات سے متاثر ہوتی ہے؛ اس لئے صرف اسی کو دعویٰ دائر کرنے کا حق ہونا چاہئے، دوسرے رشتہ داروں کو شامل کرنا ناواجبی اور غیر منطقی بات ہے، اور اس کی وجہ سے ایک عورت کے نہ چاہتے ہوئے بھی بدخواہ رشتہ دار اس کے شوہر پر جھوٹا مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔بنیادی بات یہ ہے کہ جس طبقے کے لئے قانون بنایا جا رہا ہے، حکومت نے خود اس سے مشورہ کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیںکی، انصاف کی بات یہ ہے کہ حکومت کو ابھی اِسے سیلکٹ کمیٹی کے حوالہ کرنا چاہئے، اور سیلکٹ کمیٹی کو مسلمانوں کی معتبر تنظیموں اور قانون شریعت سے آگاہ شخصیتوں سے مشورہ کرنا اور ان کے نقطہ نظر کو سننا چاہئے، اس بل میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ طلاق بائن کو بھی تین طلاق کے مماثل مانا گیا ہے، اور اس دفعہ میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی ہے، اس اعتبار سے طلاق بائن کو بھی قابل سرزنش جرم سمجھا جائے گا، اور اس میں خلع کی صورت بھی شامل ہو جائے گی، جس میں خود عورت کے مطالبہ پر شوہر طلاق دیتا ہے؛ کیوں کہ یہ صورت بھی طلاق بائن کے حکم میں ہے، یہ نیز اور متعدد امور ہیں، جن کی وجہ سے یہ مجوّزہ قانون عورتوں کے لئے بھی نقصاندہ ہوگا؛ اس لئے مسلم پرسنل لا بورڈ کا موقف یہ ہے کہ حکومت کو یا تو اس بِل کو واپس لے لینا چاہئے یا سیلکٹ کمیٹی کے حوالہ کرنا چاہئے، یہ صرف حقیقی مسائل کی طرف سے توجہ ہٹانے اور سیاسی فائدہ ا±ٹھانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔
واضح رہے کہ طلاق ثلاثہ بل میں جمعرات کو مرکزی کابینہ نے تین ترمیمات کو منظوری دے دی ہے جس کے بعد آج اسے راجیہ سبھا میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اپوزیشن کے احتجاج کے سبب یہ ممکن نہیں ہوسکا ۔تقریبا ڈھائی بجے راجیہ سبھا کے چیرمین وینکیا نائیڈو نے یہ اعلان کیا کہ اپوزیشن سے مفاہمت نہ ہونے کی سبب طلاق ثلاثہ بل آج پیش نہیں کیا جائے گا ۔مانسون سینش کا آج آخری دن تھا ا س لئے حکومت کی کوشش ہوگی کہ اب وہ اگلے سیشن میں یہ بل پاس کرائے ۔بعض تجزیہ نگاروں کا مانناہے کہ حکوت اگر چاہتی تو اس سیشن میں بھی یہ بل پاس کراسکتی تھی لیکن اس نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا ہے تاکہ عام الیکشن2019 کے قریب ہونے والے سیشن میں اس کو موضوع بحث بناکرماحول کو باآسانی فرقہ وارانہ بنایاجاسکے اور اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹ جائے ۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *