وطنی بہن ڈاکٹر کلپنا اچاریہ کی خدمت میں! (۱)

شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
جو درخت پھل دار ہوتا ہے، اسی پر پتھر پھینکے جاتے ہیں، جس درخت پر پھل ہی نہ ہو اس کی طرف پتھر بھی نہیں آتے، اسلام کی مثال ایسی ہی ہے، اسلام وہ دین برحق ہے، جس میں روحانی سکون، زندگی کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت، توازن و اعتدال، عقل ومصلحت سے ہم آہنگی اور فطرت انسانی سے مطابقت پائی جاتی ہے؛ اسی لئے یہ دین مسجد کے احاطہ میں بند ہو کر نہیں رہا؛ بلکہ اس نے زندگی کے میدان میں بھرپور رہنمائی کا کردار ادا کیا، اور گھر سے لے کر بازار اور بزم سے لے کر رزم تک ہر جگہ وہ چراغ راہ بن کر روشنی پہنچاتا رہا ہے، اور آج بھی پہنچا رہا ہے، اس کی یہی خوبی ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں کو فتح کر لیتا ہے، اور اس سے گھبرا کر بعض معاندین اسلام پر بے جا اعتراض کرتے ہیں، اور بعض لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہو کر اسلام کے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔
ابھی ہفتہ دو ہفتہ پہلے ڈاکٹر کلپنا اچاریہ نے آر ایس ایس کے تربیت یافتہ لوگوں کی ایک مجلس میں بے حد تلخ وتند تقریر کی ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب چلائی گئی، راقم الحروف کو جب بعض دوستوں نے یہ تقریر سنائی تو غصہ سے زیادہ رحم آیا، اور اس سے بھی زیادہ تعجب ہوا، رحم آیا ان کی ناواقفیت اور لا علمی پر، اور تعجب اس پر ہوا کہ جھوٹی اور غلط باتیں یا ایسی باتیں جن سے انسان ناواقف ہو،کو بھی اتنے یقین اور قوت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ جھوٹ کے آگے سچ بولنے والے بھی بونے نظر آنے لگیں، اور اس ناواقف شخص کی خود اعتمادی ان لوگوں کو بھی پیچھے چھوڑ دے جنہوں نے حقائق کو پڑھ رکھا ہے، اور سچائیاں جن کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہیں، انہوں نے اسلام کے بارے میں ایسی بے سروپا باتیں کہی ہیں کہ اسلام سے واقفیت رکھنے والا ایک معمولی شخص بھی ان کو قبول کرنا تو دور، ہنسے بغیر نہ رہ سکے گا؛ لیکن چوں کہ ناواقفیت کی وجہ سے بہت سے لوگ غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں؛ اس لئے بعض نکات کے بارے میں وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے:
۱۔ ڈاکٹر صاحبہ نے بار بار کہا ہے کہ مسلمان اللہ کے سوا کسی کو نہیں مانتے، لاالٰہ الا اللہ کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کو نہیں پوجیں گے– ڈاکٹر صاحبہ کی اس بات سے ہمیں اتفاق ہے کہ ہمارا عبادت اور بندگی کا تعلق صرف اللہ سے ہے ، ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، ہم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کر سکتے؛ البتہ اس کے ساتھ ساتھ ہم تمام مذہبی پیشواؤں اور بزرگوں کا احترام کرتے ہیں، خود قرآن مجید نے ہمیں یہی تعلیم دی ہے کہ دوسری قومیں جن دیویوں دیوتاؤں کی پوجا کر رہی ہیں، ان کو بُرا بھلا نہ کہو (انعام: ۱۰۸) اسی طرح دوسرے انسانوں سے – خواہ وہ کسی مذہب کے ماننے والے ہوں – ہمارا بھائی چارہ کا تعلق ہے؛ کیوں کہ قرآن مجید نے صاف کہا ہے کہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں (نساء: ۱) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام انسان بھائی بھائی ہیں، الناس کلھم اخوۃ (ابوداؤد، حدیث نمبر: ۱۵۰۸) لہٰذا اگر مسلمان ایک ہی خدا کی عبادت کرے تو اس سے ہندو بھائیوں کو یا کسی اور مذہبی گروہ کو کیا نقصان ہے؟ پھر یہ عقیدہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے، بودھ، سکھ، عیسائی اور زیادہ تر قبائلی اور خود ہندو کہلانے والوں میں آریہ سماجی، برہمو سماجی اور لنگایت وغیرہ توحید کے قائل ہیں، یہاں تک کہ بعض ہندو تو خدا کا انکار کرتے ہیں؛ مگر ڈاکٹر صاحبہ کا غیظ و غضب صرف مسلمانوں پر ہے۔
یہ تو ایک پہلو ہے، دوسرا پہلو جو بے حد قابل توجہ ہے اور ان پر ڈاکٹر کلپنا اور اس طرح کی سوچ رکھنے والے بھائیوں اور بہنوں کو پورے خلوص کے ساتھ غور کرنا چاہئے، یہ ہے کہ خود ہندو مذہب کی معتبر کتابوں میں بہت واضح طور پر اللہ کے ایک ہونے کی بات کہی گئی ہے، اورمورتی پوجا کی مخالفت کی گئی ہے؛ چنانچہ اتھروید 13:4:12 میں ہے:’’ وہ ایشور ایک ہے، اور حقیقت میں وہ ایک ہی ہے‘‘، رگ وید 46:164:1 میں کہا گیا ہے:’’ سچا خدا ایک ہے، اسی کو وِدوانوں (عالموں) نے الگ الگ نام سے جانا ہے ‘‘، یجروید32:3 میں خدا کے بارے میں کہا گیاہے: ’’ اس کی کوئی مورتی، کوئی شبیہ نہیں ہے، اس کے نام کا جپ (ذکر) کرنا ہی سب سے بڑی عبادت ہے‘‘۔
بلکہ ویدوں میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ جو شخص مخلوق کی پوجا کرے گا، وہ جہنم میں داخل کیا جائے گا؛ چنانچہ یجروید 40:9 میں ہے:
’’جو کوئی اسمبوتی(خدا کی بنائی ہوئی ایسی چیزیں،جن کا بنانا انسان کے لئے ناممکن ہو) کی پوجا کرتے ہیں، انہیں اندھیری جہنم میں داخل کیا جائے گا، اور جوکوئی سمبوتی (خدا کی بنائی ہوئی ایسی چیزیں، جن کا بنانا انسان کے لئے ممکن ہو) کی پوجا کرے گا، وہ مزید گہرے اور اندھیری جہنم میں گرایا جائے گا ‘‘
اس لئے اگر میری درخواست کلپنا بہن تک پہنچ جائے تو میں ان سے گزارش کروں گا کہ وہ خود اپنی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کریں، اور کچھ اپنی عقل اور فکری قوت کا استعمال کریں کہ معبود تو پرمیشور (خالق) ہوتا ہے، اسی کی پوجا کی جاتی ہے، پھر کیا انسان کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ جن مورتیوں کو اس نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے، ان ہی کے سامنے سر جھکائے؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک ماں باپ جس بچہ کو پیدا کریں، وہ اسی بچہ کو اپنے باپ یا ماں کا درجہ دے دے؟ میں یہ دعوت اس لئے دے رہا ہوں کہ میں ان کے ایک مخلص ، خیر خواہ بھائی کی حیثیت سے ان کو اس دوزخ میں جانے سے بچانا چاہتا ہوں، جن کا خود ان کی کتابوں میں ذکر آیا ہے۔
انہوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا ہے کہ’’ ہم (یعنی بعض ہندو دانشوروں) نے اللہ کے برابر میں ایشور کو رکھ دیا ہے، یہ تعجب کی بات ہے؛ حالاں کہ ایشور تو دیالو ہے‘‘– اس سلسلہ میں عرض ہے کہ اگر ایشور کے معنیٰ سنسکرت زبان میں خدائے واحد کے ہوں تو پھر واقعی اس کو ( اللہ) کے ہم معنیٰ لفظ سمجھا جا سکتا ہے؛ لیکن اہم بات یہ ہے کہ قرآن نے جس خدا کا تصور دیا ہے، بار بار اس کے دیالو اور مہربان ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، قرآن مجید کی ہر سورت بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع ہوتی ہے، اس میں ایک ہی بار نہیں، دو دو بار اللہ تعالیٰ کے بے حد مہربان اور دیالو ہونے کی بات کہی گئی ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی زیادہ تر ایسی صفات کا ذکر آیا ہے، جو رحمت اور مہربانی کو بتاتی ہے، جیسے: کریم یعنی کرم فرمانے والا، رؤوف اور حنان یعنی محبت کرنے والا، مجیب یعنی بندوں کی دعاء قبول کرنے والا، لطیف یعنی مہربان، عَفُو یعنی معاف کرنے والا، توّاب یعنی معافی مانگنے والوں سے درگذر کرنے والا، رزاق یعنی روزی دینے والا، وغیر ذلک، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان کی گئی ہیں، وہ زیادہ تر اللہ کے رحیم وکریم ہونے کو ظاہر کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی مہربانی کی اللہ کی ناراضگی سے کیا نسبت ہے؟ اس کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اللہ تعالیٰ کی بات نقل فرمائی ہے: میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے، سبقت رحمتي غضبي ( مسلم شریف، حدیث نمبر: ۶۹۷۰)
اس لئے یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ اسلام نے جس خدا کا تصور پیش کیا ہے وہ دیالو نہیں ہے۔
۲۔ ڈاکٹر کلپنا کو اسلامی عبادات کے بارے میں بڑی غلط فہمی ہے، ان کا خیال ہے کہ نماز میں جہاد کی تیاری کرائی جاتء ہے، اور نمازیوں کے ساتھ تلوار ہوتی ہے، غالباََ انہوں نے مسلمانوں کو نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے، اگر وہ دیکھیں تو محسوس کریں گی کہ اسلام کی تمام عبادتوں میں خدا کے سامنے جھکاؤ، بندگی ، انسانی مساوات و برابری ، تہذیب و شائستگی اور غریبوں کی خدمت کا رنگ نمایاں طور پر پایا جاتا ہے، نماز پڑھنے والا ایک غلام کی طرح ہاتھ باندھے کھڑا رہتا ہے، کبھی کمر تک جھکتا ہے، اور کبھی زمین پر اپنی پیشانی رکھ دیتا ہے، غور کیجئے کیا جنگ و جدال کرنے والے کی یہی کیفیت ہوتی ہے؟ جنگ جوؤوں کی زبان پر اپنی بڑائی کے الفاظ ہوتے ہیں، اس کا رویہ متکبرانہ ہوتا ہے، کیا نماز میں کہیں دور دور تک بھی اس کی کوئی جھلک پائی جاتی ہے؟ نمازی نماز کی حالت میں تلوار تو کیا کوئی سامان بھی اپنے ہاتھ میں نہیں رکھ سکتا، اور کوئی حرکت بھی اپنی مرضی سے نہیں کر سکتا؛ لیکن ڈاکٹر کلپنا کو پتہ نہیں کس نے بتا دیا کہ نمازمیں تلوار چلانا سکھایا جاتا ہے، اور مسلمان ہندوؤں کے خاتمہ کے لئے نماز پڑھتا ہے۔
اصل غلطی ہماری ہے کہ ہم نے برادرون وطن کو نماز کی حقیقت نہیں سمجھائی، نماز سورہ فاتحہ سے شروع ہوتی ہے، جس کی پہلی ہی آیت میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ تمام عالم یعنی تمام انسان تو کیا تمام مخلوقات کا پالنہار ہے، اس طرح ہر مسلمان کو یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ دنیا میں جتنے انسان بستے ہیں، وہ ایک خدا کے پیدا کئے ہوئے ہیں، اور یہ رشتہ تمام انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے اور محبت کے جذبات کو فروغ دیتا ہے، اور نماز ختم ہوتی ہے ’’ السلام علیکم ورحمتہ اللہ ‘‘ کے کلمہ پر، جس میں سبھوں کے لئے سلامتی اوررحمت کی دعاء کی جاتی ہے، سوچئے کہ اس عبادت کا جنگ و جدال سے کیا تعلق ہے؟
ڈاکٹر کلپنا نے پتہ نہیں کہاں سے یہ بات معلوم کر لی کہ صوم کے معنیٰ اپنے کو جنگ کے لئے تیار کرنا اور اس کا مقصد جنگ کی ریہرسل کرنا ہے؛ حالاں کہ روزے کا جنگ سے کیا تعلق، جنگ کے لئے جانے والا فوجی کھاپی کر اور قوت بخش غذائیں لے کر میدان جنگ میں نکلتا ہے؛ تاکہ وہ زیادہ طاقتور اور تنومند ہو،جب کہ روزہ دار بھوکا پیاسا رہتا ہے، روزہ کا مقصد تو اپنے نفس پر کنڑول کی صلاحیت پیدا کرنا ہے؛ اسی لئے خود قرآن نے روزہ کا مقصد بتایا ہے ’’ لعلّکم تتقون‘‘ (بقرہ: ۱۸۳) یعنی روزے تم پر اس لئے فرض کئے گئے ہیں کہ تم میں گناہوں سے بچنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے؛ اسی لئے روزہ کسی نہ کسی شکل میں ہر قوم میں رہا ہے، ہندو بھائیوں کے یہاں بھی بعض دنوں میں اُپاس کیا جاتا ہے، یہ بھی آپ کے مذہب کے لحاظ سے روزہ ہی کی کی ایک شکل ہے۔
ڈاکٹر کلپنا نے یہ بات بھی کہی ہے کہ روزے کی حالت میں محمدﷺ نے جنگیں کی ہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خاص روزہ سے جہاد کا کوئی تعلق نہیں ہے؛ ورنہ جب بھی مسلمان جہاد کی حالت میں ہوتے، انہیں روزہ رکھنے کا حکم دیا جاتا؛ لیکن ایسا نہیں ہے، یہ اتفاق ہے کہ رمضان کا مہینہ جو مسلمانوں کے لئے روزے کا مہینہ ہے، اسی مہینہ میں دشمنوں نے مسلمانوں کو جنگ پر مجبور کر دیا ، جیسے: غزوۂ بدر اور فتح مکہ، بدر کی لڑائی میں اگر مسلمان حملہ آور ہوتے تو یہ لڑائی مکہ کی سرحد پر لڑی گئی ہوتی؛ لیکن ایسا نہیں ہوا، اہل مکہ نے مسلمانوں پر حملہ کیا اور مدینہ کے قریب بدر میں ان کا مقابلہ کیا گیا، اسی طرح ہجرت کے آٹھویں سال آپ ۔صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر فوج کشی کرنی پڑی؛ لیکن یہ قدم آپ نے کیوں اُٹھایا؟ یہ بات برادران وطن کو سمجھنی چاہئے ، حقیقت یہ ہے کہ ایک غیر مسلم قبیلہ نبو خزاعہ مسلمانوں کا حلیف تھا، اہل مکہ کے ساتھ حدیبیہ میں جو اہل مکہ کے ساتھ مسلمانوں کی صلح ہوئی، اس میں یہ بات شامل تھی کہ اہل مکہ اور مسلمان ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے گریز کریں گے، اور دونوں کے حلیف بھی اس میں شریک سمجھیں جائیں گے؛ مگر اہل مکہ اور ان کے حلیف بنو بکر نے اس کا لحاظ نہیں رکھا، اور حالاں کہ حرم کے اندر عربوں کی قدیم روایت کے مطابق کسی بھی شخص؛ یہاں تک کہ اپنے دشمن پر بھی ہاتھ اُٹھانے کو جرم سمجھا جاتا تھا؛ مگر اہل مکہ اور ان کے حلیفوں نے بنو خزاعہ کے لوگوں کو عین مکہ میں دوڑا دوڑا کر مارا اور کئی لوگوں کو قتل کر دیا، اس بنیاد پر نبو خزاعہ نے مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے حلیف کی حیثیت سے اہل مکہ سے اس کا بدلہ لیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چوں کہ جنگ سے بچنا چاہتے تھے؛ اس لئے اس صورت حال میں اہل مکہ کے سامنے تین تجویزیں رکھیں، ایک یہ کہ وہ بنو خزاعہ کے قاتلوں کو حوالہ کردیں، اگر اس کے لئے تیار نہیں ہیں تو جو لوگ مارے گئے ہیں، ان کی دیت ادا کریں، اور اگر یہ دونوں باتیں منظور نہیں ہیں تو اعلان کر دیں کہ جو ناجنگ معاہدہ ہمارے درمیان ہوا تھا، ہم اسے ختم کر رہے ہیں، اہل مکہ نے پہلی دونوں باتیں قبول نہیں کیں؛ اس لئے آپ نے مجبوراََ مکہ پر فوج کشی کی، اور کوشش کی کہ خوں ریزی ہونے نہ پائے، جن لوگوں نے مسلمانوں کو تکلیفیں دی تھیں اور ہر طرح کی ایذاء پہنچائی تھی، ان سب کی عام معافی کا اعلان کر دیا گیا، غور کیجئے کہ اس میں مسلمانوں کا رویہ منصفانہ اور رحم دلانہ تھا یا ظلم اور بے رحمی کا تھا؟ اور پھر اس کا روزے سے کوئی تعلق نہیں تھا، یہ ایک اتفاقی بات ہے کہ جب مسلمانوں پر حملہ کیا گیا، رمضان المبارک کا مہینہ تھا، اور لوگ روزہ کی حالت میں تھے، ڈاکٹر کلپنا نے یہ بھی کہا ہے کہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ جب رمضان کا مہینہ ختم ہو جائے تو ان کو گھات لگا کار مارو، یہ بات نہ کہیں قرآن مجید میں آئی ہے، اور نہ حدیث میں، یہ بالکل بے بنیاد بات ہے، اگر واقعی وہ اس مضمون کی آیت تلاش کر لیں تو یہ ہم جیسوں کے لئے ایک انکشاف ہوگا۔ (جاری)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *