جواں سال عالم دین مولانا افتخار احمد قاسمی کی وفات پر تعزیتی نشست کا انعقاد ،شرکا ءنے شدید رنج وغم کا اظہار کیا

مولانا افتخار احمد قاسمی ملنسار ،غم گساراور خوش مزاج تھے ،دوسروں کی مدد کرنا اور کسی کے کام آجاناان کا پسندید ہ عمل تھا ،وہ محنتی اور ذہین تھے ۔حصول علم کی چاہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھر ی ہوئی تھی

نئی دہلی (منور عالم )
جواں سال عالم دین مولانا افتخار احمد قاسمی رحمہ اللہ کی یاد میں آج مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر دہلی میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیاگیاجس میں ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی ، مولانا منظر امام قاسمی ۔مفتی جاوید اقبال قاسمی ۔ڈاکٹر فیصل نذیر ۔مولانا نایاب حسن قاسمی ۔مولانا ارشاد احمد قاسمی ۔مولانا عبد الباری صدیقی قاسمی ۔مولانا ابو الخیر قاسمی ۔ڈاکٹر حفظ الرحمن ۔مولانا ولی اللہ قاسمی ۔مفتی سلمان دانش قاسمی اور شمس تبریز قاسمی سمیت متعدداحباب نے شرکت کی اور مرحوم مولانا افتخار احمد قاسمی کی وفات پر شدید رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ،ان کے تئیں اپنے گہر ے تعلقات اور تاثرات کا اظہار کیا ۔مجموعی طور پر شرکاءنے کہاکہ مولانا افتخار احمد قاسمی ملنسار ،غم گساراور خوش مزاج تھے ،دوسروں کی مدد کرنا اور کسی کے کام آجاناان کا پسندید ہ عمل تھا ،وہ محنتی اور ذہین تھے ۔حصول علم کی چاہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھر ی ہوئی تھی ۔ہمت اور حوصلہ انہوں نے کبھی نہیں ہارا ،بیماری کے ایام میں بھی وہ ایسے لگتے تھے جیسے انہیں کوئی مرض نہیں ۔اس موقع پر قرآن کریم کی تلاوت کرکے مرحوم کو ایصال ثواب بھی کیاگیا۔بلندی درجات اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی گئی ۔

مرحوم مولانا افتخار احمد قاسمی

مولانا افتخار احمد قاسمی کا تعلق سیتامڑھی ضلع کے غازیپور گاﺅں سے تھا ۔بہارکی مرکز ی درس گاہ اشرف العلوم کنہواں سے انہوں نے عربی پنجم تک کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا ۔یہاں سے فراغت کے بعد مانک مﺅ سہارنپور میں مر کز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کے زیر اہتمام چلنے والے ایک ادارہ میں انہوں نے دوسالہ انگریزی کا ڈپلومہ کورس کیا ۔پھر تدریس سے وابستہ ہوگئے ۔کئی سالوں تک انہوں نے مولانا سلمان ندوی کی سرپرستی میں چلنے والے ادارہ معہد الدراسات العلیاءجامعہ نگر دہلی میں تدریس کا فریضہ انجام دیا ۔اس دوران انہوں نے دہلی یونیورسیٹی سے ایم اے کی بھی تعلیم حاصل کی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی بی ایڈمیں ان کا داخلہ ہوگیاتھا۔سوئے اتفاق انہی دنوں ان کے والد کینسر کے شکار ہوگئے جس کی وجہ سے وہ ان کا علاج کرانے میں مصروف ہوگئے ۔والد محترم کو خون کی ضرورت پڑی تو انہوں نے اپنا خون دیا ،کچھ دنوں کے بعد ان کی بھی طبعیت شدید خراب ہوگئی ،پہلے ایمس میں انہوں نے چیک کرایا جہاں ڈاکٹروں نے مرض کی صحیح تشخیص نہیں کی ،دربھنگہ کے ایک ہسپتال میں بھی ڈاکٹروں کی لاپروائی کی وجہ سے ان کا مرض بڑھ گیا ۔ممبئی کے ٹاٹا ہسپتال میں پتہ چلاکہ انہیں کینسر ہے اور آخری مرحلے میں ہے ۔انہوں نے اپنی پوری زمین بیچ کر علاج کرانے پر صرف کردیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوسکا اور بالآخر 16 اگست 2018بروز جمعرات کو ایک بجے دن میں ان کی روح قفس عنصری سے تیس سال کی عمر میں پرواز کر گئی ،ایک سال قبل ان کی شادی بھی ہوئی تھی جس کے تین دن بعد ہی ان کی علالت بڑھ گئی ۔مرض کے دوران بعض لوگوں نے سحر کا بھی خدشہ ظاہر کیا اور کہاکہ ان پر سحر کاگہرا اثر تھا ۔
مولانا افتخار احمد قاسمی کی وفات پر متعدد اہم لوگوںنے بھی اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے جن میںمولانا اظہار الحق قاسمی کا رگزار ناظم اشرف العلوم کنہواں ،مولانا مظفر حسین مظاہری استاذ اشر ف العلوم کنہواں،مولانا نسیم اختر قاسمی صدر مدرس جامعہ عائشہ للبنات مدھوبنی ۔ مولانا بر ہالدین قاسمی ڈائریکٹر مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر ۔مولانا انعام الحق قاسمی ندوی ڈائریکٹر معہد الدراسات العلیاءمنصور پور یوپی ۔ مفتی عقیل الرحمن قاسمی اور ان کے پھوپھے زاد بھائی حافظ سیف الاسلام مدنی کا نام سرفہرست ہے ۔سوشل میڈیا جیسے فیس بک اور وہاٹس ایپ وغیرہ بھی پر بھی بڑی تعداد میں یوزس  نے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شدید رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔

میرے سینئر ساتھی اور دوست جواں سال عالم دین مولانا افتخار احمد قاسمی غازیپور سیتامڑھی آج تقریبا 1 بجے انتقال فرما…

Posted by Shams Tabrez Qasmi on Thursday, August 16, 2018


تعزیتی نشست کے اختتام پر مرکز المعارف کے انچارج مولانا ڈاکٹر حفظ الرحمن قاسمی نے تمام شرکا ءکا شکریہ ادا کیا

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *