ہند – پاک مذاکرات کی راہوں کے روڑے تلاش کیجئے!

میم ضاد فضلی

ہندو پاک  کے وزرائے خارجہ کے درمیان نیویارک میں ملاقات کی خبر20 ستمبر2018  جمعرات کے روز آئی اور جمعے کو اخبارات کی شہ سرخی بنی،لیکن حکومت ہند نے جمعہ کے روز ہی اس کی منسوخی کا اعلان کر دیا۔ وزارت خارجہ نے سخت الفاظ میں جاری کیے گئے بیان میں ملاقات منسوخ کرنے کا ایک سبب یہ بتایا کہ پاکستان نے برہان وانی کا یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے۔ اور شوپیاں مذاکرات کیلئے مکتوب ارسال کرنے کے باوجود وہ اپنی ناپاک حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے ،لہذا مذکورہ بالا حالات میں مذاکرات کا کوئی معنی نہیں رہ جاتا۔بظاہر حکومت ہند کا موقف یہاں قابل قبول معلوم ہوتا ہے ، مگر اسی کے ساتھ معاملے کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اسی طرح اگر امن دشمن قوتوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو پھر قیام امن کیلئے کوششیں کیسے ممکن ہوسکیں گی؟۔ظاہر سی بات ہے کہ کسی نوعیت کی معرکہ آرائی یا لڑائی بھڑائی متنازعہ فیہ مسئلہ کے حل کو مشکل تر بناتی ہے اور خون ریز سی مسئلے مزید پیچیدہ ہو تے ہیں جنہیں سلجھانا کٹھن ہوجا یا کرتاہے۔ لہذا اگرچہ سرحد پر حالات خراب ہوں، بندوقیں ایک دوسرے فریق کا خون پینے کیلئے بےتاب نظر آتی ہوں ،اس کے باوجود آپ کو بقائے باہم اور قیام امن کیلئے بات چیت کی راہ اختیار کرنی ہی ہوگی۔ غور طلب ہے کہ ہمیں انہیں مسائل کو سلجھا نا ہے جس کی وجہ سے آئے ہمارے بہادر فوجیوں کی جانیں قربان ہورہی ہیں اور اس  غیر نفع بخش مار کٹائی کے درمیان نہتے اور بے گناہ عوام کا لہو بھی بہایا جارہا ہے۔ہمیں اپنے ملک اور سرحد کی سلامتی کیلئے سات لاکھ فوجیوں کو فقط ایک محاذ پر ہمیشہ الرٹ کنڈیشن میں مستعد رکھنا پڑتاہے۔ جس میں کثیر مالی اور جانی زیاں سے قطعی انکا ر نہیں کیا جاسکتا۔ اگر سرحد کے حالات اچھے ہوجاتے تو وہی رقم اور طاقت ہماری اندرو نی کمزوریوں کو دور کرنے میں معاون ہوسکتی تھی۔

ویسے حالیہ مذاکرات کی منسوخی کے پس منظر میںجھانکاجائے تو کئی قسم کے اندیشے ہمارا منہ چِڑھانے لگتے ہیں۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ حکومت ہند کے ذریعہ مذاکرات کا اعلان کئے جانے کے بعد ہی ملک گیر سطح پر مودی سرکار کیخلاف چہ میگوئیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ حزب اختلاف کی متعدد پارٹیوں سمیت کئی میڈیا اہلکاروں نے بھی حکومت ہند پر سوالوں کی بوچھار شروع کردی تھی ، پورے ملک میں دودنوں تک مذاکرات کے فیصلہ پر تنقیدوں اور مذمتوں کے سلسلے جاری رہے ۔حزب اختلاف اور تجزیہ نگاروں کا اعتراض یہ تھا کہ دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چلنے کی بات کرنےوالی مودی سرکار نے اپنے سابقہ رویے کے برخلاف پڑوسی ملک سے بات چیت کرنے کا فیصلہ کیسے کرلیا؟ 

یہ سوال اس لئے حل طلب ہے کہ مودی سرکار کے وزراء وقفہ وقفہ سے خود یہ بیان دیتے رہے ہیں کہ اگر پاکستان کو بات چیت کی میز پر آناہے تو اسے سب سے پہلے  ایل اوسی پر دہشت گردی اور دراندازی کا کھیل بند کرنا ہوگا۔حکومت ہند کی یہ شرط بڑی حد تک درست بھی ہے ،ایک طرف ہماری فوج پر بارود کی بارش جاری رہے اور دوسری طرف مذاکرات کیلئے میزیں سجائی جائیں یہ کہاں تک  مناسب ہے۔ تاریخ اس پر شاہد ہے کہ جب جب  دونوں ملکوں کے مابین معاملات درست کرنے اور تنازع پر مٹی ڈالنے کی کوششیں ہوئیں تب تب سرحد کے دونوں جانب  سے کوئی نہ کوئی ناخوش گوار واردات ضرور انجام دی جاتی رہی ۔ چاہے وہ اٹل بہار واجپائی کی پیش قدمی ہو ،جب آنجہانی اٹل جی بس پر سوار ہوکر لاہور پہنچے تھے ،اسی وقت کارگل جنگ چھیڑ دی گئی تھی۔ اس سے تھوڑا قبل جب ہمسایہ ملک کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف ہندوستان آئے تھے اور اس وقت پیارومحبت کی علامت تاج محل کے احاطہ میں دونوں ممالک کے سربراہ یعنی اٹل بہاری اور پرویز مشرف  1999میں امن مذاکرات کیلئے بظاہر سنجیدہ ہوکر بیٹھے تھے، لگ رہاتھا کہ برسوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہردو پڑوسی ملک اب معاملے کو سلجھا لیں گے اور اس طرح امن کی فاختہ دونوں ملکوں کی فضاؤں میں آزادی کے ساتھ فراٹے بھرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ مگر اے! بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔۔۔

مذاکرات کے بالکل آخری مرحلے میں جب دونوں ممالک کے عوام سانسیں روکے ہوئے آگرہ سمٹ پر کان دھرے بیٹھے تھے کہ عین موقع پر امن معاہدہ دستخط ثبت ہوتے ہوتے رہ گیا۔ بعد میں پھر وہی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کاسلسلہ شروع ہوا۔ ایک فریق دوسرے کو مذاکرات کی ناکامی کیلئے مورد الزام ٹھہرانے لگا۔ اس وقت بھی سیاسی تجزیہ نگاروں اور سفارتی امور کے ماہرین نے یہ اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ دونوں ممالک میں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو سرے سے یہ چاہتے ہی نہیں کہ دشمنی اورخوں آشامی کا یہ کھیل بند ہوجائے ، جب ہم اس کی گہرائی میں جھانکتے ہیں تو دونوں جانب اس کے سیاسی مفادات کارفرما نظر آتے ہیں ، مسئلہ کشمیر کا حوالہ دیکر پڑوسی ملک میں تمام انتخابات کیلئے پروزور مہم چلتی ہے تو ہمارے یہاں موجود فسطائی طاقتیں بھی یہ پسند نہیں کرتیں کہ اس تنازع کا کوئی ایسا حل  نکالا جائے کہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے یہ معرکہ آرائی ختم اور پر امن ماحول میں مصیبت زدہ عوام اپنی زندگی کو پٹری پر لانے اور معیاری بنانے پر غور کرسکیں ۔ معاملہ ادھر بھی سیاسی مفادات سے ہی وابستہ ہے۔ جب کو ئی ایشو انتخابی مسالہ کا سامان بن جائے تو اس سے فائدے کی امید لگائے بیٹھی طاقتیں یا جماعتیں کبھی بھی نہیں چاہیں گی کہ اس نفع بخش مدعے کو فنا کردیا جائے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی راہیں دشوار ہورہی ہیں تو اس کے پیچھے اس سیاسی مفاد پرستی کی کارستانی بھی برابر کی ذمہ دار ہوسکتی ہے۔بہر حال اب ہم تازہ معاملہ کی جانب آتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس بار مذاکرات منسوخ کئے جانے کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں۔ حکومت ہند نے مذاکرات منسوخی کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کو دو منہ کا سانپ قرار دیتے ہوئے کہا  ہے کہ ایسے حالات میں جب ہندوستان میں دہشت گردی پھیلانے کا مرتکب تصور کیا جانے والا کوئی فرد پڑوسی ملک میں اعزاز سے نوازا جائے گا تو اس کا یہی مطلب نکلے گا کہ ہم جس سے تصفیہ کی امید رکھتے ہیں وہ تو ہمارے ملک میں خوں ریزی اور دہشت پھیلانے والے عناصر کا سب سے بڑا معاون ہے۔ مورخہ21 ستمبر 2018 کو  ہندوستان سے ہی یہ خبر پاکستان پہنچی تھی ،جس میں کہا گیا ہے کہ محکمہٴ ڈاک نے 24 جولائی کو برہان وانی کی یاد میں ٹکٹ جاری کیا تھا۔سوال یہ ہے کہ اگر24 جولائی کو برہان وانی کی یاد میں کوئی ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا تھا تو یہ خبر اب تک میڈیا نے کیوں چھپارکھی تھی ۔اور جس میڈ یا ہاؤس نے اس خبر کو آج بریک کیا ہے ،اس سے اس کا مقصد کیا ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نیوز بریکنگ کا تماشہ کسی منافق طاقت کے اشارے پرانجام دیا گیا ہو؟

وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ’(اس اعلان کے بعد) ہمارے سکیورٹی اہلکاروں کو پاکستان سے سرگرم عناصر نے بربریت کے ساتھ قتل کیا ہے اور پاکستان نے دہشت گردی اور دہشت گرد کے اعزاز میں 20 ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نہیں سدھرے گا۔ قابل غور معاملہ یہ بھی ہے کہ جس وقت یہ ڈاک ٹکٹ جاری کئے گئے تھے ،اس وقت عمران خان کے ہاتھ میں پاکستان کی کمان نہیں تھی۔اب  سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ دو ماہ پہلے شائع کیے گئے ٹکٹ کی خبر پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات کے اعلان کے چند گھنٹے بعد کیوں جاری کی گئی؟ کیا کچھ حلقے ملاقات منسوخ کروانے کے لیے ہندوستان کو موقع دینا چاہتے تھے؟پاکستان کے ایک بڑے میڈیا ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ یہ خبر ’کشمیر میڈیا سروس‘ کی طرف سے آئی، جسے پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے، ’اے پی پی‘ نے جاری کیا۔ اس کے بعد اخبارات نے اسے شائع کر دیا۔محل نظر یہ بھی ہے کہ ’کشمیر میڈیا سروس‘ کا سربراہ سابق جہادی ہے اور اس کے رابطے بااثر حلقوں سے ہیں جو ہندوستان  سے مذاکرات نہیں چاہتے۔اب دونوں حکومتوں کے لئے ضروری ہوگیاہے کہ مذاکرات سے پہلے ان عناصر کی گوشمالی کی جائے جو اپنے اپنے مفاد کی روٹی سینک رہے ہیں اور قیام امن کو اپنی بربادی کا سامان تصور کرتے ہیں۔ 

08076397613 :رابطہ 

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *