شمالی ہندوستان کے مزدروں کے ساتھ ہوئے تشدد کے واقعہ پر مایاوتی کا سخت ردعمل ،مودی کو بنایانشانہ

گجرات کے سابرکانٹھا ضلع میں گزشتہ 28 ستمبر کو 14 مہینے کی بچی سے عصمت دری کے واقعہ کے بعد سے غیر گجراتیوں کو گجرات چھوڑ کر چلے جانے کی دھمکی دی جا رہی ہے

لکھنو(ایم این این )
بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے آج اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ گجرات سے شمالی ہند کے مزدوروں کو بھگایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تکلیف دہ بات ہے کہ جن لوگوں نے مودی جی کو ووٹ دیا، وارانسی سے فتحیاب کیا، انہی لوگوں پر گجرات میں حملے ہو رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ شمالی ہند کے لوگوں کو نشانہ بنانے والے لوگوں کے خلاف گجرات حکومت کو سخت کارروائی کرنی چاہیے اور ہندی بولنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ تشدد اور حملہ کے لیے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی بھی ہونی چاہیے۔غور طلب ہے کہ گجرات کے سابرکانٹھا ضلع میں گزشتہ 28 ستمبر کو 14 مہینے کی بچی سے عصمت دری کے واقعہ کے بعد سے غیر گجراتیوں کو گجرات چھوڑ کر چلے جانے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ گجرات کے کچھ علاقوں سے غیر گجراتیوں کے خلاف تشدد کی خبریں بھی آئی ہیں۔ اس کے بعد سے گجرات میں کاروبار کرنے گئے یو پی و بہار کے تمام مزدور ہجرت کر رہے ہیں۔
جہاں تک گجرات حکومت کا سوال ہے، اس نے تشدد کی خبروں کو غلط ٹھہرایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ تشدد کی وجہ سے کوئی بھی ریاست سے باہر نہیں جا رہا۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ تہوار کی وجہ سے کچھ مزدور اپنی ریاستوں کی طرف جا رہے ہیں اور اس میں خوف والی کوئی بات نہیں ہے۔بہر حال، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی سے فون پر بات کر غیر گجراتیوں کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے اس تشدد کو بے روزگاری سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں بے روزگاری کے بڑھنے سے ہی موجودہ حالات پیدا ہوئے ہیں۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *