ٹائمز اور انڈیاٹوڈے گروپ کو عدالت نے لگائی پھٹکار ،نجیب کوداعش کا ایجنٹ بتانے والوں خبروں کو ہٹانے کاحکم

ایک سال قابل 21 اکتوبر 2017 میں ٹائمز گروپ اور انڈیا ٹوڈ ے گروپ کے تحت چلنے والے چینل اور اخبارات نے نجیب احمد کے بارے میں یہ اسٹوری شائع کی تھی کہ اس کا تعلق آئی ایس آئی تھا
نئی دہلی (ملت ٹائمز عامر ظفر)
ٹائمز آف انڈیا ،ٹائمس ناﺅ ،آج تک اور انڈیا ٹوڈے کو دہلی ہائی کورٹ نے سخت پھٹکار لگاتے ہوئے ویب سائٹ اور یوٹیوب سے وہ تمام نیوز ہٹاہے کا حکم دیاہے جس میں ان میڈیا ہاﺅسز نے جے این یو سے لاپتہ نجیب احمد کے بارے میں لکھاتھاکہ وہ آئی ایس آئی کا ایجنٹ تھا ۔
ایک سال قابل 21 اکتوبر 2017 میں ٹائمز گروپ اور انڈیا ٹوڈ ے گروپ کے تحت چلنے والے چینل اور اخبارات نے نجیب احمد کے بارے میں یہ اسٹوری شائع کی تھی کہ اس کا تعلق آئی ایس آئی تھا ،ان اخبارات نے لکھاتھاکہ نجیب احمد داعش کیلئے کام کررہاتھا ،وہ اس کے بارے میں معلومات جمع کرتاتھا،گوگل پر اس نے داعش کیلئے سلسل میں بہت ساری معلومات حاصل کی تھی اسی طرح یوٹیوب پر اس کی دیکھی گئی ویڈیو کا بیشتر حصہ داعش کی سرگرمیوں سے متعلق تھا ۔
نجیب احمد کی والدہ اس رپوٹ کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی جس پر آج دہلی ہائی کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے ان دونوں میڈیا گروپ کی فرضی خبر شائع کرنے کیلئے سخت تنقید کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایاہے کہ ویب سائٹ اور یوٹیوب سے وہ خبر ڈیلیٹ کی جائے جس میں نجیب کے بارے میں کہاگیاہے کہ اس کا تعلق آئی ایس یعنی داعش سے تھا سے تھا ۔

واضح رہے کہ بدایوں سے تعلق رکھنے والے جے این یو کے طالب علم نجیب احمد 15 اکتوبر 2016 سے غائب ہیں اور سی بی آئی کی تحقیق کے باوجود کوئی سراخ نہیں لگ سکاہے ،دہلی ہائی کورٹ نے کلوز رپوٹ داخل کرنے کی بھی سی بی آئی کو اجازت دے دی ہے ۔نجیب کی والدہ فاطمہ نفیس نے اس سلسلے میں ملت ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ایجنسیوں نے صرف رسم کی ادائیگی کی ہے انہوں نے ذمہ داری کے ساتھ اپنا کام نہیں کیا ہے،ان کا مانناہے کہ نجیب ابھی بھی زندہ ہے اور اس کو تلاشنے کی میری جدوجہد جاری رہے گی ،انہوں نے کہاکہ ہم اب سپریم کورٹ جائیں گے ۔اس دوران15 اکتوبر کو دوسال مکمل ہونے پر وہ ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کررہی ہیں جس میں دیگر مظلومین کی ماں بھی شرکت کریں گی ملت ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہناتھاکہ ہماری اپیل ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس احتجاج میں شرکت کریں اور ظلم کے خلاف میری لڑائی میں میرا ساتھ دیں تاکہ آئندہ کسی اور کے ساتھ ایسا معاملہ نہ ہو ۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *