ایم سی ڈی اسکول میں مذہب کی بنیاد پر کلاس کی تقسیم ۔الگ الگ سیشن میں بیٹھیں گے ہندو مسلم طلبا

پہلے درجہ کے ’اے‘ سیکشن میں اگر 36 طلبا ہیں تو ’بی‘ میں اتنے ہی مسلم طلبا ہیں۔ اسی طرح دوسری کلاس کے ’اے‘ سیکشن کے رجسٹر میں 47 ہندو طلبا درج ہیں
نئی دہلی (ایم این این )
دہلی کے ایک سرکاری پرائمری اسکول میں بچوں کو مذہب کی بنیاد پر باٹ کر الگ الگ کلاسوں میں بیٹھانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن (نارتھ ایم سی ڈی) کے کچھ اساتذہ نے یہ الزام لگایا ہے۔ اسکول وزیرآباد گاوں میں واقع ایم سی ڈی بوائز اسکول ہے۔ دی انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں اس کی تصدیق کی ہے۔اخبار کے مطابق پہلے درجہ کے ’اے‘ سیکشن میں اگر 36 طلبا ہیں تو ’بی‘ میں اتنے ہی مسلم طلبا ہیں۔ اسی طرح دوسری کلاس کے ’اے‘ سیکشن کے رجسٹر میں 47 ہندو طلبا درج ہیں جبکہ ’سی‘ میں 40 مسلم۔ تیسری، چوتھی اور پانچویں کلاسز کے کچھ سیکشنوں کا بھی اسی طرح بٹوارہ کیا گیا ہے۔ حالانکہ کچھ سیکشنوں میں ہندو مسلم دونوں طالب علم موجود ہیں۔اسکول کے کارگزار پرنسپل سی بی شہراوت نے اخبار سے بات کرتے ہوئے طلبا کو مذہب کی بنیاد پر الگ الگ سیکشنوں میں باٹنے کو غلط قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”کلاسز کو الگ الگ سیکشن میں بانٹنا معمول کے حساب سے ہر اسکول میں ہوتا ہے۔ اسکول میں امن رہے اور سیکھنے کا اچھا ماحول بنا رہے اس لئے انتظامیہ کے کہنے پر ہی ایسا کیا جاتا ہے۔“
حالانکہ اخبار نے ذرائع کے حوالہ سے کہا ہے کہ شہراوت کو جوالائی میں چارج ملا ہے اور اس کے بعد ہی مذہب کی بنیاد پر کلاسیں باٹی گئی ہیں۔ اس معاملہ میں اسکول کے اساتذہ سے کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا گیا۔ الٹے بتایا تو یہاں تک جاتا ہے کہ جب کچھ اساتذہ نے اس حوالہ سے شہراوت سے بات کرنی چاہی تو انہوں نے اساتذہ کو دھمکاتے ہوئے کہ – اپنی نوکری کی فکر کرو۔اخبارکی رپورٹ کے مطابق تقریباً 20 دن پہلے کچھ اساتذہ اس معاملہ کی شکایت درج کرانے اعلی افسران کے پاس بھی گئے تھے لیکن ان کی رپورٹ درج نہیں کی گئی۔ ادھر میونسپل کارپوریشن کے شعبہ تعلیم کے ایک افسر نے کہا کہ معاملہ ابھی ان کے علم میں نہیں آیا ہے۔ اس کی جانچ کی جائے گی اور اگر الزامات درست پائے جاتے ہیں تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *