گنگا کی صفائی کی کیلئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے جی ڈی اگروال کا انتقال

اکتوبر کو انھوں نے پانی پینا بھی چھوڑ دیا تھا جس کے سبب بدھ کو انتظامیہ نے جبراً انھیں رشی کیش اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ وہ ہریدوار کے ’ماتری سدن آشرم‘ میں بھوک ہڑتال کر رہے تھے
نئی دہلی (ایم این این )
گنگا کو آلودگی سے پاک کرنے کے لیے 22 جون سے تامرگ بھوک ہڑتال پر رہے جی ڈی اگروال کا 11 اکتوبر کو انتقال ہو گیا۔ 86 سالہ جی ڈی اگروال کو سوامی گیان سوروپ سانند کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور وہ گنگا کی صفائی سے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی کو خط بھی لکھ چکے تھے۔ طویل مدت سے جاری بھوک ہڑتال کے سبب وہ بہت کمزور ہو گئے تھے اور ہریدوار سے دہلی لاتے وقت راستے میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ آئی آئی ٹی کانپور میں فیکلٹی اور انڈین سنٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کے رکن بھی رہ چکے تھے۔
‘سوامی سانند اس وقت سنیاسی کی زندگی گزار رہے تھے اور گنگا کو بچانے کی مہم میں مصروف تھے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق گزشتہ منگل یعنی 9 اکتوبر کو انھوں نے پانی پینا بھی چھوڑ دیا تھا جس کے سبب بدھ کو انتظامیہ نے جبراً انھیں رشی کیش اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ وہ ہریدوار کے ’ماتری سدن آشرم‘ میں بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔
ہریدوار سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر رمیش پوکھریال نشنک نے ان سے گزارش کی تھی کہ وہ پانی پینا نہ چھوڑیں لیکن سابق پروفیسر نے ان کی بات نہیں مانی۔ رپورٹس کے مطابق مرکزی وزیر نتن گڈکری نے بھی تین بار مرکزی وزیر اوما بھارتی کو بطور نمائندہ بھیج کر ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی گزارش کی تھی۔ اوما بھارتی ماتری سدن آشرم میں ان سے ملی تھیں۔ تمام کوششوں کے باوجود سوامی گیان سوروپ سانند نے بھوک ہڑتال نہیں چھوڑی اور گڈکری سے فون پر کہا تھا کہ ایکٹ نافذ ہونے تک بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔

دراصل سوامی سانند گنگا کی آلودگی، اس میں ہونے والی غیر قانونی کھدائی جیسے ایشوز پر بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ اسی سال فروری میں انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر گنگا کے لیے الگ سے قانون بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ وہ اس سے قبل بھی بھوک ہڑتال کر چکے تھے۔ 2012 میں تا مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے سانند نے حکومت کی جانب سے مطالبات مان لیے جانے کی یقین دہانی کے بعد بھوک ہڑتال ختم کی تھی۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *