Me Too مہم کے شکار ایم جے اکبر پر نوخواتین نے لگایا جنسی استحصال کا الزام ،بی جے پی کی مشکلات میں اضافہ

ا ن خواتین کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے جو اپنی بات رکھ رہی ہیں۔
اکبر کے خلاف الزاموں کے بارے میں پوچھے جانے پر مرکزی کپڑا وزیر اسمرتی ایرانی نے کہا ‘ بہتر ہوگا کہ ایم جے اکبر اس معاملے پر بولیں
نئی دہلی (ایم این این)
اپوزیشن جہاں بار۔ بار اکبر کے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے وہیں اکبر نے اپنا ٹرپ گھٹانے کے بجائے دو دن کیلئے بڑھا دیا ہے۔ افسران نے بتایا کہ وہ ایکاٹوریل گوئینا کا دورہ کرنے کے بعد ہی لوٹیں گے۔ اس حساب سے مانا جا رہا ہے کہ اکبر اتوار تک ہی ملک لوٹ پائیں گے۔
اکانامک ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق ، حکومت اور پارٹی کے ایک بڑے افسر نے بتایا کہ اکبر کے مستقبل پر سوچ سمجھ کر فیصلہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ ابھی زیر غور ہے لیکن ان کجواب بھی اہمیت رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس مسئلے پر بیجے پی اور حکومت کے درمیان بھی چرچا ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا ہمیں فیصلہ لینے میں ہمیں احتیاط برتنی ہوگی۔ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ اس میں گھٹنے ٹینئے جیسا عمل ہو۔ یہ خواتین کے تحفظ کے بارے میں ہے جو وزیر اعظم کیلئے ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس لئے اسے اندیکھا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ افسر نے کہا کہ اکبر پر لگائے گئے کچھ معاملے بہت سنگین ہیں۔
می ٹو مہم کے تحت کچھ خواتین صحافیوںنے اکبر پر الزام لگائے ہیں کہ صحافی رہنے کے دوران انہوں نے جنسی استحصال کیا تھا۔ ان الزاموں پر ایم جے اکبر کا کوئی رد عمل نہیں آیا ہے۔
مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے ایم جے اکبر کے خلاف لگے جنسی استحصال کے الزاموں پر کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔ لیکن انہوں نے یہ ضرور کہا کہ ا ن خواتین کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے جو اپنی بات رکھ رہی ہیں۔
اکبر کے خلاف الزاموں کے بارے میں پوچھے جانے پر مرکزی کپڑا وزیر اسمرتی ایرانی نے کہا ‘ بہتر ہوگا کہ ایم جے اکبر اس معاملے پر بولیں” انہون نے کہا ، ‘ میں اس بات کی تعریف کرتی ہوں کہ میڈیا اپنی (سابق ) خاتون ساتھیوں کا ساتھ دے رہا ہے لیکن میرا ماننا ہے کہ ایم جے اکبر کو بیان دینا چاہئےنہ کہ مجھے کیونکہ میں وہاں نہیں تھی۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *