گجرات میں یوپی بہار کے مزدور پیشہ لوگوں کو مکمل تحفظ فراہم کیاجائے ،وزیر اعظم مودی اور سی ایم نتیش کمار کے نام خط لکھ کر مفتی عثمانی کا مطالبہ

بہار کے مزدور پیشہ لوگوں پر حملہ کیاجارہاہے اور حکومت خاموش ہے ۔وزیر اعظم کی زبان سے ایک لفظ تک اس کی مذمت کیلئے نہیں نکل رہے ہیں جب کہ یہ ضروری تھا کہ وہ پہلی فرصت میں اسے روکتے
نئی دہلی (ملت ٹائمز محمد معصوم)
گجرات میں شمالی ہندوستان کے مزدور پیشہ لوگوں کے ساتھ ہورہے تشدد اور ظلم وستم کو روکنے ،انہیں مکمل تحفظ فراہم کرنے اور خاطیوں کو سزاد ینے کیلئے معروف عالم دین مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی چیرمین سیمانچل ڈیولپمینٹ فرنٹ بہار ۔بانی ومہتمم جامعة القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول بہار نے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے نام ایک خط لکھ کر مطالبہ کیاہے کہ گجرات میں یوپی۔بہار اور مدھیہ پردیش سمیت شمالی ہندستان کی دیگر ریاستوں سے وہاں جاکر مزدوری پیشہ کرنے والوں پر ظلم وتشدد اور انہیں وہاں سے نکلنے پر مجبور کرنا افسوسناک ہے ۔جو لوگ قانون کو ہاتھ میں لیکر فساد اور تشدد میں ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور تمام مزدور پیشہ لوگوں کو مکمل سیکوریٹی دی جائے ۔مفتی عثمانی نے خط میں یہ بھی مطالبہ کیاہے کہ اب تک تقریبا ایک لاکھ سے زائد لوگ اپنے اس حال میں لوٹے ہیں کہ وہ روز مرہ کی ضروریات کے شدید محتاج ہیں ،ان کے پاس کچھ بھی بچا نہیں ہے ،بہت ساروں کی کمی ہوئی رقم برباد ہوگئی ہے اس لئے سرکار انہیں فوری طور پر معاوضہ دے ،مدد پہونچائے اورمحفو ظ مقامات پر ان کی ملازمت کابندو بست کرے ۔
مفتی عثمانی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں یہ بھی تذکرہ کیاہے کہ گجرات کو عدم تشدد کیلئے دنیا بھر میں جاناجاتاہے ۔عدم تشدد کے علمبردار مہاتماگاندھی کا تعلق اسی سرزمین سے تھا لیکن آج وہاں جو کچھ ہورہاہے یا اس سے قبل 2002 میں وہاں جو کچھ ہوااس نے پوری دینا میں ریاست کی تصویر بدل دی ہے اورگجرات سمیت پورے ملک کی پیشانی پر بدنما دھبہ لگ گیاہے ۔
مفتی عثمانی نے بتایاکہ انہوں نے گذشتہ کل ہی وزیر اعظم نریندر مودی اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے میل پر یہ خط بھیج دیاہے ۔اس کے علاوہ بذریعہ ڈاک بھی پی ایم او اور اسمبلی ہاﺅس کے پتہ پر خط روانہ کردیاگیاہے ۔
مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے ملت ٹائمز سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی ملک کی ترقی اور اس کی معیشت کے فروغ میں مزدور پیشہ لوگوں کی قربانیاں سب سے اہم ہوتی ہیں،لیکن یہ شرمناک بات ہے کہ اکیسوی صدی میں بھی نسل پرستی اور علاقائیت کی بنیاد پر حملہ کیا جارہاہے اور اپنے ہی وطن کے لوگوں کو بھاگنے پر مجبور کیا جارہاہے ۔انہوں نے بتایاکہ ہندوستان کی ترقی میں بہار کی عوام کا خون اور پسینہ سب سے زیادہ بہتاہے ،دنیا کے تمام اہم شعبوں میں بہار کے لوگ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بہار کے مزدور پیشہ لوگوں پر حملہ کیاجارہاہے اور حکومت خاموش ہے ۔وزیر اعظم کی زبان سے ایک لفظ تک اس کی مذمت کیلئے نہیں نکل رہے ہیں جب کہ یہ ضروری تھا کہ وہ پہلی فرصت میں اسے روکتے۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *