آر ٹی آئی میں دوسرے نمبر سے چھٹے مقام پر پہونچا ہندوستان

دنیا کے 123 ممالک کی رینکنگ میں ہندوستان اپنی خراب کارکردگی کی وجہ سے دوسرے مقام سے چھٹے مقام تک گر گیا ہے۔سال 2011 میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دوران ہندوستان کا مقام دونیا میں دوسرا تھا۔
نئی دہلی (ایم این این)
مودی کے دور میں انسانی حقوق، عالمی ہنگر انڈیکس اور روزگار پر مبنی معیشت میں پچھڑنے کے بعد اب حق اطلاعات یعنی آر ٹی آئی کی درجہ بندی میں بھی ہندوستان پچھڑ رہا ہے۔ دنیا کے 123 ممالک کی رینکنگ میں ہندوستان اپنی خراب کارکردگی کی وجہ سے دوسرے مقام سے چھٹے مقام تک گر گیا ہے۔سال 2011 میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دوران ہندوستان کا مقام دونیا میں دوسرا تھا۔ واضح رہے کہ سال 2011 میں ہی آر ٹی آئی کے شعبہ میں عالمی درجہ بندی کی شروعات ہوئی تھی۔انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی بیرونی غیر سرکاری تنظیم ایکسس انفو یورپ اور سینٹر فار لا اینڈ ڈیموکریسی نے کہ آر ٹی آئی رینکنگ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2011، 2012 اور 2013 میں ہندوستان لگاتار دوسرے مقام پر بنا ہوا تھا لیکن اس کے بعد کے سالوں میں ہندوستان کا مقام لگاتار گرتا چلا گیا۔ اس وقت ہندوستان سلوینیا، سیرلنکا، سربیا، میکسکو اور افغانستان سے بھی پیچھے ہے۔
ایکسس انفو یورپ اور سینٹر فار لا اینڈ ڈیموکریسی کی رپورٹ کے مطابق سال 2017 میں ہندوستان میں آر ٹی آئی کے تحت کل 66.6 لاکھ درخواستیں موصو ہوئیں، جنم میں سے تقریباً 7.2 فیصد یعنی 4.8 لاکھ درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ اس کے بعد محض 18.5 لاکھ درخواستیں ہی اپیل کے لئے سی آئی سی (چیف انفارمیشن آفیسر) تک پہنچیں۔ اتنا ہی نہیں اس دوران سی آئی سی نے درخواست گزشاروں کی اپیل پر سماعت کے بعد 1.90 کروڑ کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ادھر ٹرانسپرینسی انٹر نیشن انڈیا نے کہا ہے کہ ہندوستان کے کی محض 10 ریاستوں نے یہ سالانہ رپورٹ اپ ڈیٹ کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں اطلاعاتی کمیشنوں میں کل 30 فیصدف عہدے خالی پڑے ہیں۔ ملک بھر میں اطلاعاتی کمیشنوں میں کل 156 عہدے منظور شدہ ہیں، جن میں سے 48 عہدے خالی پڑے ہیں۔ حالانکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 12 ریاستوں کے صوبائی اطلاعاتی کمیشن میں کوئی بھی عہدہ خالی نہیں ہے۔واضح رہے، غیر سرکاری تنظیم ایکسس انفو یورپ اور سینٹر فار لا اینڈ ڈیموکریسی کی اس رینکنگ میں دنیا کے 123 ممالک میں حق اطلاعات قانون کی خصوصیات اور خامیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور عاملی سطح پر ایک فہرست تیار کی جاتی ہے۔ اس فہرست کو تیار کرنے میں 61 انڈیکیٹرس کو کل 7 معیاروں میں باٹ کر مختلف ممالک میں آر ٹی آئی سے وابسہ سہولایات کی صورت حال کی موازنہ کیا جاتا ہے۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *